Monday , November 20 2017
Home / دنیا / بروسلز حملہ: مشتبہ افراد کی تلاش میں شدت ‘ سکیوریٹی حکام پر دباؤ

بروسلز حملہ: مشتبہ افراد کی تلاش میں شدت ‘ سکیوریٹی حکام پر دباؤ

ایک حملہ آور دہشت گرد قرار دے کر ترکی سے نکالا گیا تھا ۔ عوام میںہنوز غم کی لہر ‘ مہلوکین کو خراج عقیدت
بروسلز 24 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بروسلز میں پولیس نے بلجیم ائرپورٹ اور ایک میٹرو اسٹیشن پر حملے کے بعد دو مشتبہ افراد کی تلاش شدت سے شروع کردی ہے ۔ ان حملوں کو یوروپ کے قلب پر حملہ سمجھا جارہا ہے ۔ تنقیدوں کا سامنا کر رہے بلجیم کے سکیوریٹی عہدیداروں کی جانب سے ایک شخص کا پتہ چلانے کوششیں جاری ہیں جسے میٹرو اسٹیشن پر خود کشی حملہ کے مقام پر شناخت کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ ایک اور مشتبہ شخص کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے جو بروسلز ائرپورٹ کا ہے ۔ یوروپی سکیوریٹی حکام پر مسلسل دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ یہ واضح ہوگیا کہ ائرپورٹ پر دو بھائیوں نے خود کو دھماکہ سے اڑاتے ہوئے یہ کارروائی کی تھی جبکہ ان دونوں کو ایک میٹرو ٹرین میں بھی دیکھا گیا ۔ پولیس پر دباؤ اس لئے بھی ہے کیونکہ یہ پتہ چلا ہے کہ ان بھائیوں سے پولیس واقف تھی اور ان میں سے ایک کو ترکی نے بیرونی دہشت گرد لڑاکا قرار دیتے ہوئے ملک سے خارج کردیا تھا ۔ ان حملوں پر صدمہ کا شکار بروسلز شہر میں پرچم نصف بلندی پر کردئے گئے ہیں کیونکہ مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والے 31 افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے تھے ۔ درجنوں افراد اس حملہ میں زحمی ہوئے ہیں جن کو بچانے کیلئے ڈاکٹرس بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ حملہ میں مرنے والوں کو خراج پیش کرنے کیلئے بھی عوام امڈ پڑ رہے ہیں۔ ان حملوں کی مذمت میں بیانرس بھی نصب کئے جا رہے ہیں۔ ائرپورٹ کے سینکڑوں ملازمین اور ان کے افراد خاندان نے موم بتیوں اور پھولوں کے ساتھ ایک خاموش مارچ بھی منعقد کیا اور وہ بم دھماکہ سے متاثرہ ٹرمنل کے قریب تک پہونچے ۔ اس ٹرمنل کو ہفتہ کو ہوئے دھماکوں کے بعد سے اب تک بند رکھا گیا ہے

۔ ائرپورٹ کے ایک ملازم جس نے اپنا نام جوناتھن بتایا کہ ہم سب ایک بڑا خاندان ہیں۔ ساری دنیا ہمارے ساتھ ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں لیکن وہ بہت مغموم ہیں ۔ اس طرح کے واقعات پر افسوس ہوتا ہی ہے ۔ جہاں پولیس کی جانب سے ان حملوں کے مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں وہیں یوروپی یونین کے وزرائے انصاف کا ایک ہنگامی اجلاس بروسلز میںمنعقد کیا جا رہا ہے جس میں ایک منصوبہ کو قطعیت دی جائیگی جس میں یوروپ میں اس طرح کے امکانی حملوں سے نمٹنے پر غور کیا جائیگا ۔ کل استغاثہ نے ادعا کیا تھا کہ دو بھائیوں ابراہیم اور خالد البکروئی نے ائرپورٹ اور میٹرو اسٹیشن پر حملے کئے تھے جبکہ پولیس ذرائع نے بم تیار کرنے والے کا نام نجیم لاچروئی قرار دیاتھا ۔ شبہ ہے کہ یہ ائرپورٹ پر حملہ کرنے والا دوسرا بمبار تھا ۔ پولیس نے ائرپورٹ حملہ کے تیسرے مشتبہ ملزم کی تلاش شروع کردی ہے جس کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ہیٹ اور سفید جیکٹ پہنے دکھایا گیا ہے ۔ پولیس کا ادعا ہے کہ اس تیسرے مشتبہ فرد کا دھماکو مادوں سے لدا ہوا بیاگ پھٹ نہیں سکا تھا ۔ یہ واضح ہوا ہے کہ تین افراد کی شناخت ہوئی ہے جن کا ماہ نومبر میں ہوئے پیرس حملوں سے تعلق تھا ۔ اس حملہ کے بعد کہا جا رہا ہے کہ یوروپ داعش نامی گروپ کے حملوں کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے ۔ یوروپ کی سکیوریٹی پر تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے ایک بیان میںکہا تھا کہ بروسلز میں حملہ کرنے والے ایک شخص کو ترکی نے گرفتار کرکے ملک بدر کردیا تھا بعد میں ایک سینئر ترک عہدیدار کی توثیق کی تھی کہ یہ ابراہیم البکروائی تھا ۔ اس انکشاف کے بعد بلجیم کے سکیوریٹی عملہ پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT