Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / برونائی ایرلائینز طیارہ کی خاتون عملے کیساتھ سعودی عرب تک پرواز

برونائی ایرلائینز طیارہ کی خاتون عملے کیساتھ سعودی عرب تک پرواز

جدہ ، 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) برونائی کی سرکاری فضائی کمپنی رائل برونائی ایئرلائنز کے خواتین پر مشتمل عملے نے ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی پہلی پرواز سعودی عرب تک چلائی  ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے، ان خاتون پائلٹوں نے برونائی سے سعودی عرب کے شہر جدہ تک پرواز کی اور اس کیلئے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ استعمال کیا گیا۔ یہ سنگ میل انھوں نے برونائی کے قومی دن کے موقع پر حاصل کیا جب ملک کی آزادی کا جشن منایا جارہا تھا۔ اس پرواز کی کپتان شریفہ زرینہ تھیں جبکہ ان کی معاونت سینئر فرسٹ آفیسرز سریانہ نوردین اور ڈی کے نادیہ پی جی خشیم نے کی۔ کیپٹن زرینہ نے ہوابازی کی تربیت برطانیہ سے حاصل کی تھی اور دسمبر 2013ء میں وہ لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے سے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کی پرواز کرنے والی رائل برونائی ایئرلائنز کی پہلی پائلٹ بن گئی تھیں۔ انھوں نے 2012ء میں اخبار ’دی برونائی ٹائمز‘ کو بتایا تھا کہ بہت سے لوگ پائلٹ کو مردوں کا پیشہ سمجھتے ہیں۔ ایک عورت، ایک برونائی کی عورت ہونے کے ناطے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ نوجوان نسل یا خاص طور پر لڑکیوں کو دکھاتا ہے کہ جو خواب وہ دیکھتی ہیں اس کی تعبیر پا سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے۔ سعودی عرب میں تکنیکی بنیادوں پر خواتین کا گاڑی چلانا غیرقانونی نہیں ہے۔ تاہم ڈرائیونگ لائسنس صرف مردوں کو دیئے جاتے ہیں اور وہ خواتین جو ڈرائیونگ کرتی ہیں انھیں پولیس کی جانب سے جرمانے اور حراست میں لئے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین نے کئی ایسی مہمات کا آغاز کیا ہے جن میں اس پابندی میں نرمی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ایسی مہم جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال سعودی عرب نے پہلی مرتبہ بلدی انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی، جس میں کل 978 خواتین نے بطور امیدوار شرکت کی تھی جبکہ مرد امیدواروں کی تعداد 5,938 تھی۔ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت سابق سعودی حکمراں شاہ عبداللہ کی جانب سے دی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT