Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / برک اومابا کی نصیحت کا الٹا اثر۔ مولانا اسرالحق قاسمی

برک اومابا کی نصیحت کا الٹا اثر۔ مولانا اسرالحق قاسمی

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے گذشتہ دنوں راجدھانی دہلی میں ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی وطن سے یکجہتی او رمحبت کا توصیفی کلمات میں بطور خاص تذکرہ کرتے ہوئے جوباتیں کہی ہیں اور ملک کے حکمرانوں کو ملک کی مسلم آبادی کی قدر ومنزلت کرنے اور اسے پروان چڑھانے کے جو مخلصانہ مشورے دئے ہیں وہ کئی زاویہ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں کثیر مسلم آبادی ہے جو وطن سے ہم آہنگ اور مربوط بھی ہے اور خود کو ہندوستانی مسلمانوں کی وطن واپسی یکجہتی کو اس ملک کا امتیازی نشان بتاتے ہوئے کہاکہ دیگر ملکوں میں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا( یعنی اقلیتیں خود کو اپنے ملک سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں کرپاتیں)۔ اس مختصر تمہید کے بعد سابق امریکی صدر نے جویقیناًہندوستان میں‘ خاص طور پر 2014میں وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ‘ مسلمانوں کے خلاف رواری رکھے جانے والے کمتر ‘ سوتیلے ‘ غیرمنصفانہ‘ متعصبانہ او رپرتشدد سلوک سے آگاہ میں‘ موجودہ ہندوستانی حکمرانوں کو تاکیدکی کہ وہ مسلمانوں کی حب الوطنی کے لئے انہیں نہ صرف عزیز جانیں بلکہ انہیں پروان چڑھائیں ‘ پھلنے او رپھولنے اور ترقی کرنے کے موقع فراہم کرائیں۔

انہوں نے یہ بات بھی عیاں کردی کہ جب امریکی صدر کی حیثیت سے انہوں نے 2015میں ہندوستان کی یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی کے حیثیت سے شرکت کی کی تھی تب وزیراعظم مودی سے بند کمرے میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہاتھا کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیاد وں پر تقسیم نہیں ہونا چاہئے او رملک کے تمام شہریوں کو ان کے مذہبی اعتقاد پر عمل کرنے کا حق کی حفاظت ہونی چاہئے۔ وزیراعظم مودی نے مذہبی روداری کے ان کے پیغام پر کیاردعمل ظاہرکیا تھا اس سوال کے جواب دینے سے انہوں نے گریز کیا اور کہاکہ ذاتی گفتگو افشا کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی کسی شک وشبہ سے ماورا ہے۔ہندوستانی مسلمان اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں تو اسے ان کا احسان بھی نہیں کہاجاسکتا۔ مسلمانوں ہویا کوئی اور سب کو اپنے ملک سے محبت او روفاداری کرنی ہی چاہئے۔

مسلمانو ں کے لئے یہ ان کا مذہبی فریضہ بھی ہے کہ وہ اپنے وطن سے محبت اور وفاداری کریں‘ لیکن مسلمانوں کو اس وقت شدید ذہنی اذیت وکرب سے گزرنا پڑتا ہے جب ملک کا ایک مخصوص گروپ ‘ جو اس وقت ملک کے اقتدار پر قابض ہے ‘ مسلمانو ں کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتا رہتا ہے۔ ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرنے میں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کو بھی فراموش کردیاگیا ہے او رہرلمحہ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانو کو اس ملک کے دوم درجے کاشہری بنادیا جائے ‘ ان سے ووٹ دینے کا حق چھین لیاجائے ۔

ان کے مذہبی رسومات اور روایات پر پابندی لگادی جائے ‘ انہیں ہندو رسوم اختیار کرنے پر مجبور کردیاجائے ‘ ان کی بیٹیوں سے محبت اور شادی کے جال میں پھنسا کر ہندو بنادیا جائے وغیرہ وغیرہ۔اس کے انتہاتو تب ہوجاتی ہے جب کشمیر کے بزرگ قائد فاروق عبداللہ جو دومرتبہ ریاست جموں وکشمیر کے وزیر اعلی ہی نہیں بلکہ ملک کی مرکزی حکومت میں بھی وزیر رہ چکے ہیں‘ ان سے ایک ٹیلی ویثرن چینل کے سینئر اینکرراست نشریات کے دوران میںیہ احمقانہ سوال کرنے سے تامل نہیں کرتا کہ آپ انڈین ہیں نا؟ اس ذہنیت پر ڈاکٹر عبداللہ کی شدید برہمی لازمی تھی او رانہوں نے ان کی وطنیت پر شک کرنے والی بولتی بند کردی‘ لیکن اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی حب الوطنی کے حوالے سے جو شکوک وشبہات جان بوجھ کر پیدا کردئے گئے ہیں‘

اس کے اثرات کہاں کہاں تک پیوست ہوچک ہیں۔ تاہم سیاسی مفادات کی بنیادپر کئے گئے اس گمراہ کن پروپگنڈے کے باوجود یہ امر انتہائی خوش کن ہے کہ دنی اکے دوسرے ملکوں اور قومی میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے جیسا کے سابق امریکی صدر کی بے لاگ گفتگو سے عیاں ہوا کہ پوری دنیاہندوستانی مسلمانوں کو اس وجہہ سے نے نظیر تحسین دیکھتی ہے کہ تمام مخالف حالات کے باوجود ان کے دلوں میں وط نکی محبت اسی طرح جاگزیں ہے جو انکا دین ان سے تقاضہ کرتا ہے۔

تاہم یہ واقعہ ہمیں افسردہ اور مغموم کرتا ہے کہ سابق امریکی صدر کو ہندوستاا ور ہندوستانی حکمرانوں کے روبرو یہ بیان کرنا پڑتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان محب وطن ہیں اور ملکی حکمرانوں کو انہیں قدر کی نگاہوں سے دیکھنا چاہئے‘ انہیں ترقی کرنے کا موقع دیا جاناچاہئیاورعقیدے پر عمل کرنے کی آزادی کی حفاظت ہونی چاہئے۔ اگر چہ اوباما کا ہندوستان اور ہندوستانی حکمرانوں کے رویہ او رطرز عمل سے کوئی براہ راست لینا نہیں ہے او ریہ بھی ان کے ملک میں بھی نسل ‘ زبان ‘ عقیدے وغیرہ کے تعلق سے مسائل کچھ کم نہیں ہیں تو پھر بھی انہیں ایسا کہنے کی ضرورت کیوں پیش ائی؟اور یہ پہلاموقع نہیں ہے ‘ جب انہو ں نے ہندوستان میں مذہبی رواداری کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے او رحکومت کو حالات میں بہتری لانے کی نصیحت کی ہے۔

اس سے قبل 2015میں جب وہ امریکی صدر کے طور پر ہندوستان کی یوم جمہوری کی تقریبات میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ہندوستان ائے تھے انہوں نے ایک اجلا س کے دوران کچھ اس قسم کی باتیں کہی تھیں۔ انہو ں نے دستور ہند کی دفعہ 25کاحوالہ دیتے ہوئے ‘ جو ملک کے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے‘ کہاتھا کہ ہر شخص کو کسی خوف یا امتیاز کے بغی راپنی پسندکے مذہب پر عمل کرنے یا کوئی مذہب اختیار نے کرنے کی آزادی ہے او رہندوستان کا میاب رہے گا اگر اسے مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیاجاتا۔انکی تقریر کا بنیادی پیغام یہی تھاکہ ہندوستا ن کی رنگا رنگ او رتنوع کا احترام کیاجانا چاہئے۔

اب زائد از ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اوباما کو اپنا پیغام دہرانے کی ضرورت پڑی تو اس کی وجہ یہ ہیکہ مذہبی عدم روداری کے حوالے سے ملک کے حالات میں بہتری کے بجائے الٹے مزید خرابی ائی ہے۔گھر واپسی‘ لوجہاد‘ گاؤ رکشہ وغیرہ کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں اور قتل کیاجارہا ہے او رگناہ گارسزا سے محفوظ ہیں۔ یہی نہیں ‘ حکومت بھی ان کے ذریعہ معاش کو منظم طریقے سے چھین رہی ہے۔ اس سے ملک کے تمام مسلمانوں میں خوف کی ایک لہر سرایت کر گئی ہے۔

امریکہ کے سابق صدر ملک کے اسی گروپ سے کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں محب وطن ہیں جو اپنی مخصوص ائیڈیالوجی کی وجہہ سے انہیں شب وروز غدار قراردیاجارہا ہے اور انہیں ہندوستانی بھی ماننے پر آمادہ نہیں ‘ بابر کی اولاد کہہ کر پکارا جارہا ہے ۔ اسی طرح اوباما اسی ٹولہ سے مسلمانوں کی قدر ومنزلت کرنے او رانہیں ترقی کے موقع فراہم کرنے کی بات کررہے ہیں۔

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند جناب حامد انصاری نے عہدہ سے سبکدوش ہونے کے فوری بعد اس صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہاتھا کہ آج ملک کے مسلمان خود کوستم گزیدہ محسوس کررہے ہیں۔لیکن جب خود حکمران ٹولہ ہی مسلمانوں کے بیچ خوف کا سبب ہوتو خواہ اس ملک کے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد مسلمانوں کے حالات کو بہتربنانے کی بات کہیںیا امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما‘ ظاہر ہے حالات نہیں بدل سکتے۔ ان کے دانشمندانہ مشاہدات اور مشورے سب رائیگاں جائیں گے

TOPPOPULARRECENT