Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / برہان وانی اور کشمیر ڈاکٹر نائلہ خان سے گفتگو

برہان وانی اور کشمیر ڈاکٹر نائلہ خان سے گفتگو

حال ہی میں 22 سالہ کشمیری لڑکے برہان وانی کے قتل اور اس کے بعد مظاہروں اور پھر فیس بک کا ایکشن اور پھر لوگوںکی طرف سے اس کا ری ایکشن دیکھنے میں  آیا۔ اس سے پہلے میںنے کبھی اس لڑکے کا نام نہیںسنا تھا اور اس کی جوان سال موت نے مجھے غمزدہ کیا۔ اپنے بچوںکا خیال آگیا۔ بہت سے دیگر نوجوان بھی اس کی فوٹو اپنی پروفائل فوٹو بنانے لگے جن کی وجہ سے یہ سننے میں آیا کہ یہ فیس بک اکاؤنٹ حدف کر دئیے گئے۔
’اس شخص کو دیکھو۔ یہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ نہیں ہے۔ یہ کسی ملا سے متاثر پاکستانی فنڈڈ جنگجو نہیں ہے۔ یہ برہان وانی شہید ہے۔ ایک کشمیری جو کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں اس وقت شامل ہوا جب اس کے بھائی کو بھارتی فوج نے مار ڈالا۔ اگر کشمیر کے مسئلے کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل نہیں کیا جاتا تو پھر ہمیں اپنے ساتھ ہی ایک نیا فلسطین بنتا دکھائی دے رہا ہے‘۔
میںنے پچھلے ہفتے ڈاکٹر نائلہ خان کو فون کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ مجھ سے ویک اینڈ پر مل سکتی ہیں تاکہ میں  ان سے اس معاملے کے بارے میںمزید معلومات حاصل کروںتاکہ اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور یہ دیکھا جا سکے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں جس سے اس طرح  مزید اموات ہونے سے بچ سکیں اور حالات میںبہتری آئے۔ انہوں  نے یونیورسٹی کی لائبریری میں ملنے کی حامی بھری جو ہم دونوں کے گھر کے بالکل بیچ میں  ہے اس لئیے ڈرائیونگ کا فاصلہ برابر ہے۔
ڈاکٹر نائلہ خان انگلش لٹریچر میں  پی ایچ ڈی ہیں، وہ شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں اور اوکلاہوما یونیورسٹی میںانگریزی ادب کی پروفیسر ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیںلکھی ہیں جن میں‘‘لائف آف کشمیری وومن’’ شامل ہے جو کہ ان کی نانی کی زندگی سے متعلق ہے۔ میںنے اس کتاب کے چار چیپٹر بھی اردو میں  ترجمہ کئیے تاکہ جو لوگ انگلش نہیں  پڑھ سکتے ہیں ان تک اس کو پہنچایا جاسکے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے مجھے خود بھی کشمیر کی تاریخ کے بارے میں مزید آگہی ہوئی۔ ان باتوں  سے متعلق علم ہوا جو پاکستان اسٹڈیز میںشامل نہیں تھیں۔ جیسا کہ قارئین جانتے ہیںکہ شیخ  محمد عبداللہ کشمیر کے پہلے مسلمان پرائم منسٹر تھے۔ اس کتاب میں  نائلہ خان نے ایک اچھا نکتہ اٹھایا وہ یہ کہ لکھی ہوئی تاریخ  میں باپوں کے اثر کا ذکر ہوتا ہے لیکن ماؤںکی قربانیوں اور ان کی کہانیوںکو اگلی نسل تک نہیں  پہنچایا جاتا۔
ل م: آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ سے ملنے کے لئیے وقت نکالا۔ ہم لوگ خبریںہر روز دیکھتے ہیں، اور پڑھتے بھی ہیں۔ دنیا میں ایک آگ لگی ہوئی ہے۔ ہر طرف جنگ وجدل اور نفرت پھیلی ہوئی ہے۔ میں ایک ماںکی حیثیت سے یہ جاننے میںدلچسپی رکھتی ہوںکہ دنیا میںکیا ہورہا ہے، اس کے اسباب کیا ہیں اور ہم اپنے بچوںکو کیسے بچائیں؟ برائے مہربانی کشمیر کے حالیہ واقعات پر روشنی ڈالئیے۔

نائلہ خان: حالیہ واقعات نہایت افسوسناک ہیں اور جو مائیںاپنے بچے کھو چکی ہیںان کا نقصان پورا نہیںکیا جا سکتا۔ ان بچوںکی فوج اور نیم فوجی دستوںکے ہاتھوںپرتشدد ہلاکت سے ایک خلا پیدا ہوا ہے جو کبھی بھی بھرا نہیں جا سکے گا۔
کشمیر کا ہر گھر اور ہر فرد ایک دھمکی ا میز ماحول میںزندگی گذار رہا ہے۔ حالیہ تشدد کے واقعات سے سماجی اور سیاسی تانے بانے کو جو دھچکا لگا ہے اس کو ہم سب کو مل کر بہتر بنانے میںکافی عرصہ لگے گا۔ ایک ماںکے نقطۂ نظر سے میں یہ کہہ سکتی ہوںکہ بدقسمتی سے تشدد کو رومانویت کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ وہ صرف جنوبی ایشیا میںہی نہیںبلکہ امریکہ میں  بھی، چاہے وہ فوج ہو، نیم فوجی دستے، حکومت کے حامی یا پھر بغاوت۔ باغی ہونے کو بھی رومانوی رنگ دیا جارہا ہے۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی ایک فائدہ مند کاروبار بن چکی ہے جس سے نہ صرف ملٹری کو بلکہ ان جنگجو عناصر کو بھی مالی فائدہ ہو رہا ہے جو زینے چڑھنے میںکامیاب ہوئے ہیں۔
نائلہ خان: مجھے ایسے تمام والدین سے دلی ہمدردی ہے جن کے بچے جنگ و جدل میںمارے جاچکے ہیں۔ ایک ماں ہونے کے لحاظ سے ہم تو یہی چاہتے ہیںکہ ہمارے بچے سلامت رہیں، وہ بڑے ہوں، ان کو اعلیٰ تعلیم ملے، ان کی بنیادی سماجی ضروریات پوری ہوں اور وہ سوسائٹی کے مفید شہری بنیں۔ ہم چاہتے ہیںکہ ہمارے بچے مضبوط انسان بنیں  اور کشمیر کی تعمیر نو میں حصہ لیں اور جمہوری اداروںکو دوبارہ سے زندہ کریں۔

یاد کرو لبنیٰ جب ہم 21 سال کے تھے، ہم لوگ کالج میںتھے اور ہم لوگ آنکھوں  سے اوجھل لوگ تھے، ہمیںکوئی نہیں جانتا تھا، ہم بس کسی کی بیٹیاںتھیں، ہماری اپنی کوئی شناخت نہیںتھی، لوگ ہمیںانفرادی سطح پر نہیں  جانتے تھے۔ وہ ایسا وقت تھا جس میںہم کاوش میں  تھے، اور دنیا میںاپنی جگہ بنانے کے لئیے جدوجہد کررہے تھے۔ اس وقت میں  ہم خود کو بنانے اور بڑھانے میںمصروف تھے اور اس وقت ہماری زندگی نہ تو گلیمرس تھی اور نہ ہی ہم لوگ مشہور تھے۔ اب اوکلاہوما میںہمیںجو پبلسٹی مل رہی ہے یا توجہ مل رہی ہے اس کو پانے میں  کافی وقت لگا۔

نائلہ خان: ہاںہم نے محنت کی اور اب آکر ہمیں  اپنی فیلڈز میںتوجہ ملی تو یہ مقام حاصل کرنے میںبہت ساری کوشش اور بہت سارا وقت لگتا ہے۔ پھر ایک مایوس کشمیری نوجوان کے بارے میںسوچو کہ جس کے سامنے نہ کوئی جمہوری راستہ تھا اور نہ ہی انصاف کے اداروںسے کچھ امید۔ جس کو اپنے علاقے میں  کچھ بہتری سامنے آتی نظر نہیں آئی۔ حکومت کی طرف سے اس کے سوالات کے جوابات دینے کی یا اس کے سدھار کی کوئی کوشش نہیںکی گئی۔ اپنے بھائی کی موت کے صدمے کے بعد اس نے ہتھیار اٹھا لئیے تھے اور فرار کا راستہ اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد اس کو گلیمرائزڈ کردیا گیا۔ اس نے تشدد کا راستہ اختیار کرلیا جس کو رومانوی رنگ دے دیا گیا۔ ہم اس کی بے وقت موت اور اس کے خاندان کے نقصان کا افسوس بھی کرتے ہیں ، اور اس کے بعد مزید جن لوگوں  کی اموات ہوئیں ان کی مذمت کرتے ہیں۔ میں  اس کمیونٹی کا درد محسوس کرسکتی ہوں کیونکہ وہ میری اپنی کمیونٹی ہے۔ لیکن میں اس بار پر زور دینا چاہتی ہوںکہ جتنے بھی مایوس کن حالات کیوں  نہ ہوں، کتنی بھی ناامیدی کیوں  نہ ہو، ہمیں احتجاج کے دیگر طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے سیاسی، سماجی، معاشی اور تہذیبی حقوق کو حاصل کرنے کے لئیے پرامن راستہ اختیار کرنا ہوگا جس کو انٹرنیشنل کمیونٹی کی سپورٹ حاصل ہو۔
نائلہ خان: ہاںبالکل! ہمیں سیاسی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے احتجاج کے طریقوںکو مذہبی عدم برداشت کا جامہ پہنا کر بدنام نہ کیا جا سکے۔ کشمیر کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، وہ ایک مذہبی یا نسلی مسئلہ نہیں ہے۔ کشمیر کے مسئلے کو صرف ایک مذہب یا ایک فرقے یا ایک نسل کے لوگوں پر ظلم اور زیادتی بتانا اس پیچیدہ سیاسی مسئلے کی نہایت سادہ تعریف ہوگی۔ ایسا کرنے سے بین الاقوامی برادری کا اعتماد حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔
آپ دنیا کے حالات دیکھ لیں، جہاں  بھی حکومتیں ہٹائی گئیںیا پرتشدد حالات پیدا کئے گئے ان ملکوں  میں  بدامنی اور جنگ پھیل گئی۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں  اسلام پر دہشت گردی کا دھبہ لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے وہ تمام دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔ اس لئیے اگر کشمیری اپنی جدوجہد اسلامی جدوجہد بنا کر پیش کریںگے تو ان کو وہ بین الاقوامی سپورٹ حاصل نہیںہو سکے گی اور اس مسئلے کو جس طرح توجہ ملنی چاہئیے وہ نہیںمل پائے گی۔
یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی جدوجہد کو سیاسی جدوجہد کے طور پر پیش کریں، ایک انسانی جدوجہد کے طور پر پیش کریں  ناکہ مذہبی۔ کشمیر کے مسئلے میں  جس طرح  انسان پس رہے ہیں، انٹرنیشنل کمیونٹی کی نظر اس پر پڑے۔ دنیا کے تمام لوگ انسانیت کے دھاگے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی نکتے پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔ دیکھیں جو ملٹری یا پیرا ملٹری لوگوں کا جارحانہ رویہ ہوتا ہے اس کو دکھا کر ہم تبھی دنیا کی ہمدردی حاصل کرسکتے ہیں جب ہمارا اپنا لائحہ عمل سیاسی ہو نہ کہ تشدد ا میز۔ ہمیںدنیا کو واضح الفاظ میںبتانا ہوگا کہ ہمارا مقصد خلافت بنانا نہیں  بلکہ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہمارے جمہوری ادارے خودمختار اور طاقت ور ہوں۔
ل م: کافی لوگ جمہوریت کو سازش سمجھتے ہیں۔ میںخود کتنی مختلف ریاستوں  میں  رہی ہوں۔ ہم جہاں بھی گئے وہیں ووٹر رجسٹریشن کرائی اور ہمیشہ الیکشن میںووٹ ڈالا۔ میںنے اپنے بچوںکو دکھایا کہ ووٹ کیسے ڈالتے ہیں۔ بیلیٹ پر ہماری ریاست کے بارے میں  اور اس کے بجٹ کے بارے میں سوال ہوتے ہیں۔ جتنا بھی ہو سکا میں  نے ان سوالوںکو پڑھ کر اور سمجھ کر اسی طرح  ووٹ ڈالا جس سے ہمارا اپنا بھلا ہو۔ کوئی جمہوریت کو اپنائے یا ٹھکرائے اس سے کسی اور کو کوئی فرق نہیںپڑتا، نقصان ہمارا اپنا ہو گا۔ آپ کے اوپر جو بھی آجائے گا، اپنی مرضی سے فیصلے کرے گا اور ان فیصلوں  میں  آپ کی رائے شامل نہیںہوگی۔ آپ برائے مہربانی اس نقطے پر مزید کچھ کہئیے۔

نائلہ خان: انڈیا اور پاکستان میں  ایسے بہت سارے سیاستدان ہیں اور ملٹری عہدیداربھی ہیں جن کے لئیے کشمیر کا تنازعہ جتنی دیر چلے اتنا ہی فائدہ مند ہے۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ کشمیر جلتا رہے تاکہ وہ اس کے مسئلے کو اپنی دکان چمکانے کے لئیے استعمال کریں۔ مثلا’’ ابھی حال ہی میںآزاد کشمیر میں  الیکشن ہوئے جہاں  پی پی پی نے کافی جذباتی تقریریں کیں اور کشمیر کے مسئلے کو لے کر لوگوں  کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ ان کا زیادہ کنٹریبیوشن رہا نہیں  ہے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں۔
ل م: لگتا ہے کہ کشمیر کے لوگ بھی تنگ آچکے ہیں یہی باتیں  سن سن کر اسی لئیے انہوں  نے پی پی پی کو ووٹ نہیں ڈالے۔
نائلہ خان: میں  اس بات پر بھی زور دینا چاہتی ہوںکہ مسلمان خواتین کو اپنے حقوق کے لئیے کھڑے ہونے کا حق ہے، ان کو نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں  فیصلے کرنے کا حق ہے بلکہ سیاسی، سماجی اور معاشرتی میدان میں  آگے بڑھنے کا بھی جس سے وہ اپنے معاشرے کو ایک بہتر انسانی معاشرہ بنا سکیں۔ اس وقت ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پچھلے 26 سال میںکشمیر نے جن خراب حالات کا سامنا کیا ہے، ان کو بہتر بنانے کے لئیے خواتین سامنے آئیںجو کشمیر کی دوبارہ سے تعمیر کر سکیں۔
ل م: جی ہاںتعمیر میںتو ساری زندگی لگ جاتی ہے۔ اور تباہی میںصرف ایک لمحہ لگتا ہے۔ یہ بتائیںکہ آج کے انڈین، پاکستانی اور کشمیری نوجوان ان حالات کو بہتر بنانے کے لئیے کیا کرسکتے ہیں؟
نائلہ خان: ہمیںتعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے نوجوان مرد اور خواتین کی ضرورت ہے جو کشمیر کو ایک سیاسی مسئلے کے طور پر اور اس کے سیاسی حل کو بین الاقوامی برادری کے سامنے بیان کر سکیں۔ اس وقت ہماری یہ ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوان ان حقائق کو سمجھیں اور زندہ رہیں۔ سلامت رہیں اور ہماری قوم کو زندہ رکھیں۔ ہمارے لئیے جمہوریت، خود مختاری اور اپنے حقوق کی لڑائی اہم ہے لیکن وہ اب ہمارے بچوںکی زندگیاں لے کر نہیںلڑنی ہوگی بلکہ سیاسی میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔ قلم کی طاقت بندوق کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔
ل م: مجھے یہ بتائیںکہ پیسے کہاں  سے آرہے ہیں؟  یہ جو بالکل ینگ لڑکے گھروں  سے بھاگ جاتے ہیں، ان کو کون یہ وردیاں  خرید کر دیتا ہے؟ بندوقیں کون دلاتا ہے؟ یہ لوگ کہاں سے یہ گاڑیاں لیتے ہیں؟ یہ جنگلوں  میںکہاںسے کھاتے ہیں؟ اور ان کے سیل فون کا بل کون دیتا ہے جس سے وہ فیس بک پر تصویریں  لگاتے ہیں؟
کیا وجوہات ہیں کہ یہ بچے اس طرح اسکول سے بھاگ کر، معاشرے سے بھاگ کر ، ہتھیار اٹھا کر یہ سوچتے ہیں کہ وہ انڈیا یا پاکستان کو ہرا دیں گے؟
نائلہ خان: یہ دونوں پاکستانی اور انڈین عوامل ہیں جو ان کو فنڈ کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں بھی ان لڑکوںکی کہانیوںکو لوگوںکی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اور ان کے ووٹ لینے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ برہان وانی کے بھائی کو مار دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے انتقام لینے کی قسم کھا لی تھی۔ کشمیر میں  سماجی بہبودی اداروںکی کمی ہے، وہاں کونسلر اور سائکالوجسٹ وغیرہ کافی نہیںہیںاور نہ ہی ماؤںکی بنائی ہوئی تنظیمیںہیں جو عوام کو ان صدمات سے صحت مندانہ انداز میںنمٹنے میں  مدد دیں۔
ل م: انڈیا کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ خواہ مخواہ بچہ ماردے؟ خاص طور پر جبکہ نہ تو اس کے پاس کوئی ملٹری ٹریننگ تھی اور نہ ہی کبھی اس نے کسی کو مارا تھا۔ صرف انٹرنیٹ پر پاپولر تھا۔ علاقے میں نفرت اور شورش پھیلی۔ اس کے بعد بھی بہت لوگ سڑکوں  پر نکل آئے اور مزید لوگ مر گئے۔ زندگی قیمتی ہے۔ اس طرح غیر ذمہ داری دکھانے سے ان کو کیا فائدہ ہو گیا؟
نائلہ خان: ہاںدیکھو، ان کو ایسا نہیں  کرنا چاہئیے تھا۔ مسلح بغاوت کو موقع شناسی اور ہوشیاری کے بجائے مزید جارحانہ انداز سے ڈیل کرنا بہت غلط ہے۔ اس کا ردعمل نہایت منفی نکلتا ہے۔ جب اتنے برسوں سے مسلح بغاوت چل رہی ہے اور اس کے خلاف جنگ بھی چل رہی ہے، اس وقت کشمیر میں  انڈیا کی حکومت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اگر انڈیا کی حکومت کے پاس کوئی ثبوت تھا کہ یہ لڑکا کسی متشدد حرکت میں  شامل تھا تو وہ اس کو گرفتار کرتے اور اس پر مقدمہ چلاتے۔ آخر انڈیا کا ایک منشور ہے اور وہ ایک جمہوری سیکولر ملک ہے۔

TOPPOPULARRECENT