Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / برہمپترا کا پانی چینی صوبہ تک پہنچانے کا منصوبہ

برہمپترا کا پانی چینی صوبہ تک پہنچانے کا منصوبہ

چین کی 1,000 کیلومیٹر طویل سرنگ کی تجویز ، ہندوستان کو تشویش
نئی دہلی ۔30اکٹوبر۔( سیاست ڈاٹ کام) چین کی جانب سے ایک اور ڈوکلام کی تیاری جاری ہے جو ہندوستان کیلئے ایک نیا مسئلہ بن سکتی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق چین کے انجینئرس برہمپترا ندی میں 1,000 کیلومیٹر طویل سرنگ بنانے کی تکنیک کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ یہ دنیا کی سب سے طویل ترین سرنگ ہوگی اور اس کے ذریعہ برہمپترا ندی کا پانی تبت سے ہوتا ہوا اروناچل پردیش کے قریب سے گذرتے ہوئے چین کے ژنگ جیانگ علاقہ تک پہونچے گا ۔ اگر اس تجویز کو عملی شکل دی جائے تو توقع ہے کہ ژنگ جیانگ ایک نئے کیلیفورنیا میں تبدیل ہوجائے گا ۔ ماہرین ماحولیات نے اس پراجکٹ کے ہمالیائی خطہ پر اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے ۔ ہانگ کانگ کی ساؤتھ چین مارننگ پوسٹ نے یہ اطلاع دی ۔ مجوزہ سرنگ مختلف راستوں سے گذرتی ہوئی دنیا کے بلند ترین خطہ تک پہونچے گی اور کئی مقامات پر آبشاروں سے مربوط کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ چین کے سب سے بڑے انتظامی علاقہ کو پانی فراہم ہوگا ۔ یہ علاقہ صحرا اور بنجر زمین پر مشتمل ہے ۔ اس ندی کے پانی کا جنوبی تبت میں یارلنگ سانکو سے بہاؤ شروع ہوگا اور یہ ژنگ جیانگ کے ٹکل مکن صحرا تک پہونچے گی ۔ یہ ندی ہندوستان سے بھی گذرتی ہے ۔ چین کی طویل ترین سرنگ 85 کیلومیٹر کی ہے جو صوبہ لیامینگ میں واقع ہے ۔ جبکہ دنیا کی سب سے طویل سرنگ 137 کیلومیٹر طویل پانی سربراہ کرنے والی پائپ لائین نیویارک شہر میں پائی جاتی ہے ۔ ہندوستان نے جو برہمپترا ندی کے پانی کا حقدار ہے پہلے ہی اس ندی پر بنائے جارہے مختلف ڈیمس کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بیجنگ نے ہندوستان اور بنگلہ دیش کو یہ تیقن دیا ہے کہ اس ندی کے پانی کو ڈیمس کے ذریعہ روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور یہ پراجکٹس پانی کے ذخیرہ کیلئے تعمیر نہیں کئے جارہے ہیں ۔ تحقیقاتی عہدیداروں نے بتایا کہ مجوزہ سرنگ کے بارے میں تجویز حکومت کو مارچ میں پیش کی گئی تھی ۔ انھوں نے کہاکہ یہ سرنگ برہمپترا کے پانی کو جنوبی تبت سے جو اروناچل پردیش کے قریب واقع ہے چین کے صوبہ ژنگ جیانگ تک پہنچائے گی ۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور چین کے مابین ڈوکلام تنازعہ شدت اختیار کرگیا تھا اور دونوں ممالک کے روابط بھی کشیدہ ہوگئے تھے ۔ بعد ازاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرلیا گیا لیکن اطلاعات کے مطابق ڈوکلام میں اب بھی چینی فوج کی سرگرمیاں جاری ہیں اور اس تنازعہ کی کوئی یکسوئی عمل میں نہیں آئی۔

TOPPOPULARRECENT