Friday , September 21 2018
Home / ہندوستان / برہم عوام نے صرف فریدخان کو نشانہ بنایا

برہم عوام نے صرف فریدخان کو نشانہ بنایا

مقامی ساتھی ملزم کو چھوا تک نہیں ، ناگالینڈ حکومت کی مرکز کو رپورٹ میں انکشاف، میڈیکل رپورٹ کاانتظار

مقامی ساتھی ملزم کو چھوا تک نہیں ، ناگالینڈ حکومت کی مرکز کو رپورٹ میں انکشاف، میڈیکل رپورٹ کاانتظار

نئی دہلی ؍ دیما پور۔ 9 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )حکومت ناگالینڈ نے وزارت داخلہ کو رپورٹ روانہ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سید فرید خان جسے دیماپور میں تشدد پر آمادہ ہجوم نے عصمت ریزی کے الزامات پر بیدردی کے ساتھ ہلاک کردیا ، اس کے بارے میں ہنوز قطعی نتیجہ پر نہیں پہنچا جاسکا ہے اور میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے ۔ دیماپور میں لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی کے واقعہ اور مابعد تشدد و ملزم کی ہلاکت کے سلسلے میں یہ رپورٹ روانہ کی گئی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے بعد فرید خان اور مبینہ طورپر عصمت ریزی کا شکار لڑکی کے طبی معائنے کئے گئے ۔ فارنسک شواہد کو سنٹرل فارنسک سائنس لیباریٹری واقع گوہاٹی روانہ کیا گیا ہے تاکہ ماہرین کی رائے حاصل کی جائے ۔ اس دوران ہوٹل کے بارے میں بھی تحقیقات کی گئی ہے جہاں ملزم نے مبینہ طورپر اس لڑکی کے بیان کے مطابق عصمت ریزی کی تھی ۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ضروری دستاویزات اکٹھا کئے گئے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی ناگا لینڈ کا نوجوان مبینہ طورپر اس واقعہ میں فرید خان کا مددگار تھا اور اُسے بھی گرفتار کرکے فرید خان کے ساتھ دیماپور سنٹرل جیل لے جایا گیا تھا لیکن ہجوم نے ناگا لینڈ کے اس نوجوان کو چھوا تک نہیں جب کہ فرید خان کو جیل سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور اُسے انتہائی بے رحمی کے ساتھ ہلاک کردیا۔ ناگالینڈ حکومت نے بتایا ہے کہ اس واقعہ میں 63 ملازمین پولیس زخمی ہوئے اور 13 پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا یا نذر آتش کیا گیا ۔ 35 عام شہری زخمی ہوئے جن میں ایک گولی لگنے سے جانبر نہ ہوسکا ۔ ملزم سید فرید خان کو دیماپور میں 24 فبروری کو خاتون کی عصمت ریزی کے سلسلے میں گرفتار کرکے اُسی دن عدالتی تحویل میں دیدیا گیا تھا ۔ 5 مارچ کو ہجوم دیماپور سنٹرل جیل توڑکر اُسے گھسیٹتے ہوئے باہر لایا اور برہنہ کرکے بری طرح زدوکوب کیا اور سنگباری کی ۔ وہ اُسے گھسیٹتے ہوئے دیماپور ٹاؤن لے گئے جو تقریباً 7 کیلومیٹر دور ہے ۔ وہ راستے ہی میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا تھا ۔ ہجوم نے اُس کی نعش کلاک ٹاور پر لٹکا دی تھی ۔ اس دوران دیماپور ٹاؤن میں جو ناگالینڈ کا تجارتی مرکز ہے حالات بتدریج معمول پر آرہے ہیں ۔ لوک سبھا اور آسام اسمبلی میں آج اس واقعہ کا ذکر کیا گیا ۔ دیماپور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بتایا کہ دفعہ 144 برقرار ہے اور حالات معمول پر آرہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ 43 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور پولیس اپنا کام کررہی ہے ۔ نوجوان کی بیدردی سے ہلاکت کے واقعہ کو لوک سبھا میں اُٹھاتے ہوئے آسام سے تعلق رکھنے والے کانگریس ارکان نے کہا کہ یہ ناگالینڈ حکومت کی ناکامی ہے ۔ وقفہ صفر کے دوران گورو گوگوئی (کانگریس ) نے یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے ناگالینڈ حکومت پر شدید تنقید کی جو اب تک یہ واضح نہیں کرپائی کہ ملزم سید فرید خان نے عصمت ریزی کا ارتکاب کیا یا نہیں ۔ اس کے علاوہ سنٹرل جیل پر جہاں مرکزی فورسیس تعینات ہے وہ ملزم کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ۔ انھوں نے کہاکہ سید فرید خان ہندوستانی شہری تھا اور اُس کا تعلق فوجی گھرانے سے تھا ۔ وہ بنگلہ دیشی نہیں تھا جیسا کہ دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ علاقہ میں مسلمانوں کو بنگلہ دیشی تصور کیا جاتا ہے ۔ آسام میں اپوزیشن ارکان نے اسمبلی میں یہ واقعہ اُٹھایا اور حکومت سے وضاحت طلب کی ۔ حکمراں کانگریس رکن اسمبلی صدیق احمد نے جلسہ عام میں چیف منسٹر ترون گوگوئی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ فرید خان کے بارے میں معلومات رکھنے کے باوجود اُس کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ۔ ارکان نے یہ جاننا چاہا کہ کس بنیاد پر انھوں نے یہ بات کہی ہے کہ چیف منسٹر ترون گوگوئی کو واقعہ کا پہلے سے علم تھا ۔

TOPPOPULARRECENT