Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / برہنہ سر نماز نہ پڑھیں

برہنہ سر نماز نہ پڑھیں

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض حضرات بغیر ٹوپی کے جماعت میں شریک ہوتے ہیں اور اس طرف ان کو توجہ دلائی جائے تو شرپسندی پر اتر آتے ہیں، ان کا یہ عمل کیسا ہے  ؟
جواب: شرع شریف کی روشنی میں تمام مصلیوں کو آداب نماز کی پوری رعایت رکھتے ہوئے نماز کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ برہنہ سر نماز پڑھنا چونکہ مکروہ اور خلاف ادب و خلاف تعظیم نماز ہے اس لئے اگر کوئی اس جانب توجہ دلائے تو اس کی بات مان لینا اور اس پر عمل کرنا چاہئے ۔ توجہ دلانے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ حکمت و موعظت سے کام لیں۔ جن کو توجہ دلائی جارہی ہے ان کو بھی چاہئے کہ خیر کی بات کو قبول کرلیں۔ مؤمنانہ شان یہی ہے کہ صحیح و درست بات جب سن لیتے ہیں تو فوری اس پر بطریقہ احسن عمل پیرا ہوجاتے ہیں جیسا کہ سورۂ زمر پارۂ تیئس میں ہے ۔ الذین یستمعون القول فیتبعون أحسنہ۔
مسجد جائے عبادت ہے اس کی تعظیم و احترام اور اس کے آداب کو ہر وقت پیش نظر رکھنا ہر ایک مؤمن پر شرعاً لازم ہے۔ اس لئے کسی طرح کی شرپسندی کسی بات پر بھی اگر کوئی کرے تو شرعاً سخت مذموم و ناپسندیدہ ہے۔
اوراد و و ظائف کیلئے وُضو
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضعیف عمر میں اور شدید موسم کا لحاظ رکھتے ہوئے بغیر وضو بستر پرلیٹے ہوئے کونسی چیزوں کا ورد کیا جاسکتا ہے اور کونسی چیزوں کا نہیں ۔ بعض حضرات مختصر آیات اور درود شریف سے منع کرتے ہیں ۔اور بعض نہیں ۔ تسبیح فاطمہ اور دیگر وظائف بغیر وضو کے پڑھے جاسکتے ہیں یا نہیں  ؟
جواب: قرآن مجید کو چھونے کیلئے شرعاً وضو فرض ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’لا یمسہ الا المطھرون‘‘( سورہ واقعہ)  ( اس کو صرف با وضو ہی چھوتے ہیں)۔نسائی شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :  ’’لا یمس  القرآن الا طاھر ‘‘ ۔قرآن مجید کو صرف با وضو ہی چھوے گا ۔ قرآن مجید کی تلاوت ‘ حدیث شریف کی روایت ‘ درود شریف اور دیگر اوراد وظائف کے ورد کیلئے وضو کرنا مستحب ہے۔ نور الایضاح ص ۳۴ میں ہے:  ’’ الثالث مندوب للنوم علی طھارۃ …  و قرآن و حدیث و روایۃ و دراسۃ علم … ‘‘۔
لہذا بغیر وضو قرآن شریف کی تلاوت درود شریف ‘ تسبیح فاطمہ اور دیگر وظائف کا ورد کرنا شرعاً جائز ہے۔
صاحب ترتیب کی قضاء نماز
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قضا نماز کی ادائیگی کس طرح کی جائے ۔ یعنی عصر کی قضاء مغرب کی نماز سے پہلے پڑھی جائے یا مغرب کی نماز کے بعد ادا کی جائے ؟  براہ کرم جواب عنایت فرمائیں ۔
جواب:  اگر آپ صاحب ترتیب ہیں یعنی بلوغ سے اب تک آپ کی چھ نمازیں نہیں چھوٹی ہیں تو پہلے عصر کی قضاء پڑھیں اور پھر مغرب کی نماز ادا کریں ۔ اور اگر صاحب ترتیب نہیں ہیں تو پھر اختیار ہے جو چاہے پہلے پڑھیں ۔ اگر مغرب کی جماعت کھڑی ہوجائے تو اس میں شریک ہوجائیں ۔ فتاوی عالمگیری ج اول ص۱۲۱ میں ہے:   ’’الترتیب بین الفائتۃ و الوقتیۃ و بین الفوائت مستحق کذا فی الکافی حتی لا یجوز اداء الوقتیۃ قبل قضاء الفائتۃ کذا فی محیط السرخسی‘‘۔                                           فقط واﷲ اعلم

TOPPOPULARRECENT