Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / بریلوی علماء کا شری شری کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار

بریلوی علماء کا شری شری کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار

بریلی شریف۔ 7مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آرٹ آف لیونگ کے سربراہ شری شری روی شنکر کو کل اس وقت سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جب بریلی شریف میں بریلوی علماء نے ان کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار کردیا اور مدارس کے دروازے بھی انہیں بند ملے۔ ذرائع کے مطابق شری شری روی شنکر بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ کا حل عدلیہ سے باہر کرانے کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے کل پرائیویٹ طیارہ سے بریلی پہونچے اور مولانا احمد رضا خاں ؒ کی قبر پر جاکر چادر چڑھائی تاہم درگاہ اعلی حضرت کے سجادہ نشین سبحانی اور منانی میاں نے شہر میں موجود رہنے کے باوجود ان سے ملاقات نہیں کی جبکہ عالمی شہرت یافتہ عالم دین علامہ اختر رضا ازہری شہر میں موجود ہی نہیں تھے۔ درگاہ اعلی حضرت میں واقع مدرسہ اور متھر پورا میں واقع جامعۃ الرضا کے دروازے بھی شری شری کو بند ملے۔ ذرائع کے مطابق اتحاد ملت کونسل کے صدر مولانا توقیر رضا خان کے علاوہ کسی بھی بریلوی عالم دین نے شری شری سے ملاقات نہیں کی۔

 

روی شنکر رام مندر مسئلہ کو مودی اور بھاگوت کیلئے چھوڑدیں
ہندوستانی شہریوں کو شام جیسے حالات کی دھمکی پر تحقیقات کرنے شیوسینا کا مطالبہ
ممبئی۔7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شیو سینا نے آج رام مندر معاملہ میں مداخلت کرنے پر آرٹ آف لونگ کے بانی شری شری روی شنکر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ رام مندر مسئلہ کو وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت پر چھوڑدیں۔ سامنا کے اداریہ میں انہوں نے لکھا کہ بی جے پی اگر چاہے تو پارلیمنٹ میں ایک بل منظور کرسکتی ہے اور 24 گھنٹوں کے اندر رام مندر کی تعمیر کا آغاز کرسکتی ہے۔ شیوسینا نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ شری شری پچھلے دو سال سے رام مندر معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے اس معاملہ میں ایک فریق بننے کی کوشش کررہے ہیں اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر مندر مسجد مسئلہ حل نہیں ہوسکتا تو ہندوستان میں شام جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ اگر مذکورہ دھرم گروئوں نے یہ دھمکی دی ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لیے ان کے بیان کی جانچ کی جانی ضروری ہے۔ آخر یہ کس قسم کی آرٹ آف لونگ ہے جہاں لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے اور ان کا قتل کیا جاتا ہے۔ اداریہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی کو ایسے گرو کی ضرورت نہیں ہے جو لوگوں سے یہ کہے کہ عدالت میں اس مسئلہ کا حل نہیں نکل سکتا۔ شیوسینا نے کہا کہ شری شری روی شنکر کو اپنے آرٹ آف لونگ میں ہی رہنا چاہئے اور اس مسئلہ کو وزیراعظم مودی اور موہن بھاگوت پر چھوڑدینا چاہئے۔ شری شری پر طنز کرتے ہوئے شیوسینا نے لکھا کہ روی شنکر کو اس اہم ترین مسئلہ میں مداخلت کرنے کے بجائے کسانوں کی صورتحال غریبوں، بے روزگاروں اور خواتین کے حالات پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT