Monday , December 18 2017
Home / مضامین / برے پھنسے امیت شاہ

برے پھنسے امیت شاہ

ظفر آغا

برے پھنسے امیت شاہ! آخر بھارتیہ جنتا پارٹی صدر امیت شاہ کے بیٹے جئے امیت شاہ کی کمپنی ’ ٹیمپل انٹر پرائز پرائیوٹ لمٹیڈ ‘ کے خلاف بد عنوانی کا الزام لگ ہی گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمانداری کا ڈھنڈورا پیٹنے والی بی جے پی کے صدر کے صاحبزادے یعنی شاہ زادے کی کمپنی پر الزام ہے کہ جب سے نریندر مودی مر کز میں بر سر اقتدار آئے ہیں اور امیت شاہ بی جے پی کے صدر منتخب ہوئے ہیں تب سے ابتک یعنی تین برسوں کے اندر جے امیت شاہ کی کمپنی کا منا فع 16000 گنا بڑھ گیا۔ وہ کمپنی جس کا کل منا فع 2014-15میں محض 18,728روپے تھا اسی کمپنی کا منا فع اب بڑھ کر 80 کروڑ روپئے ہو گیا۔
صرف یہی نہیں بلکہ ان کی کمپنی کو ملک کے اس وقت کے وزیر توانائی پیو ش گوئل نے جے امیت شاہ کی کمپنی کو بغیر کسی ضمانت کے 15 کروڑ روپے کا لون ایک ایسے پرو جیکٹ کے لئے دے دیا جس کے لئے ضمانت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 4.9 کروڑروپے کا لون دیا جا سکتا تھا۔ حد تب ہو گئی جب جے امیت شاہ نے انکم ٹیکس جمع کرتے وقت اپنی کمپنی کی’ بیلنس شیٹ ‘ میں اس لون کی رقم کا کہیں ذکر تک نہیں کیا۔ان حالات میں جو ہوتا ہے جے امیت شاہ اب وہی کر رہے ہیں۔ یعنی انہوں نے اس مبینہ بد عنوانی کا راز افشاں کر نے والی ویب سائٹ کے خلاف 100کروڑ کا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔جے امیت شاہ بھلے ہی اب کچھ کرتے پھریں ، لیکن اس خبر نے ان کے والد بی جے پی کے بے لگام صدر امیت شاہ کے کس بل ضرور ڈھیلے کر دیئے ہیں۔ امیت شاہ محض بی جے پی کے صدر ہی نہیں بلکہ وہ نریندر مودی کی آنکھ ، کان سب کچھ ہیں۔ گجرات میں سن 2001 میں نریندر مودی کے عروج کے ساتھ ساتھ امیت شاہ کی قسمت کا ستارہ پہلے گجرات سیاست اور پھر ملک کی سیاست میں چمکتا ہی چلا گیا۔

ممبئی میں سن 1965 میں پیدا ہونے والے امیت شاہ گجرات کے ایک شاہ جینی بنیا خاندان کے فرد ہیں۔ ان کے والد ایک دولت مند تاجر تھے جو ایک پی وی سی پائپ کمپنی چلاتے تھے۔ شاہ جلد ہی اپنے آبائی گھر سے احمدآباد تعلیم کے لئے منتقل کر گئے جہاں وہ پہلے بی جے پی کی طلبا ء یو نین اور آر ایس ایس سے جڑ گئے اور آخر میں بی جے پی میں سر گرم ہو گئے۔ لیکن سن 1995میں جب بی جے پی گجرات میں بر سر اقتدارآئی تو شاہ کا اس وقت نریند مودی کے ساتھ ربط و ضبط پیدا ہو گیا۔وہ دن اور آج کا دن ہے شاہ اور مودی کی جوڑی ہندوستانی سیاست کی انتہائی کامیاب مگر الزامات سے بھری جوڑی کہلاتی ہے۔ سال 1995 میں مودی اور شاہ نے مل کر پہلے گجرات کے دیہی علاقوں میں بی جے پی کی جڑیں مضبوط کیں پھر اسی طرح دونوں نے گجراتی کو آپریٹیو بینکوں پر بھی بی جے پی کا قبضہ جما دیا۔ لیکن شاہ اور مودی کا چولی دامن کا ساتھ نریندر مودی کے سن 2002 میں گجرات چناؤ کے بعد ہوا۔سن 2002 میں گجرات میں آزاد ہندوستان کا سب سے بڑا مسلم مخالف فساد ہو چکا تھا اور مودی تنازعات کا شکار تھے۔ مودی کے خلاف سپریم کورٹ نے جلد ہی ایک ایس آئی ٹی ٹیم تشکیل کردی تھی جو فسادات میں مودی حکومت کے کردار کی عدالتی جانچ کر رہی تھی۔ مودی کو اب ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو مودی کے تمام مسائل کا حل تلاش کر سکے اور وہ شخص مودی کی نگاہ میں امیت شاہ ہی ہو سکتا تھا۔گجرات کے سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ امیت شاہ نے اس دور میں مودی کے نمک کا حق ادا کیا۔ وہ چاہے پولس کے معاملات ہوں یا عدالت کے معاملات ہر جگہ فساد کے معاملات میں مودی کو بچانے کے لئے امیت شاہ نے نہ صرف بھر پور محنت کی بلکہ ’ دامے درمے سخنے ‘ وہ مودی کی ڈھال بن گئے۔

نریند ر مودی نے اپنے چیلے امیت کو جی بھر کر نوازا بھی۔گجرات میں ایک وقت وہ بھی تھا کہ امیت شاہ ایک وزارت نہیں بلکہ 12 عدد وزارتوں کے وزیر تھے اور مودی کے ساتھ امیت شاہ کا ڈنکا پورے گجرات میں بج رہا تھا۔ لیکن سن 2010 میں امیت شاہ کا ستارہ اس وقت گردش میں آگیا جب ان پر سہراب الدین ، کوثر بی اور تلسی رام پر جا پتی کا انکاؤنٹر کرانے کا الزام لگ گیا۔شاہ پر یہ الزام تھا کہ جن افسران نے ان لوگوں کا انکاؤنٹر کیا تھا وہ امیت شاہ سے رابطے میں تھے۔ اس کیس میں امیت شاہ کو کورٹ نے احمد آبا د سے تڑی پار بھی کر دیا تھا۔ لیکن امیت شاہ ٹھہرے امیت شاہ اور آخر مودی کی طرح شاہ بھی تمام الزامات سے بری ہو گئے۔

آخر سن 2014 میں مودی نے دہلی کا رخ کیا اور انہوں نے لو ک سبھا چناؤ کے دوران اترپردیش چناؤ کی کمان امیت شاہ کو سونپ دی۔امیت شاہ نے یہاں کمال کر دیا ۔ یو پی کی 80 سیٹوں میں بی جے پی 71 سیٹوں پر کا میاب رہی اور اس طرح مودی بغیر شرکت ملک کے وزیر آعظم بن گئے۔اور پھر مودی نیچناؤ کے بعد امیت شاہ کو بی جے پی کا تاج پہنا دیا۔
اب امیت شاہ بی جے پی کے سیاہ وسفید کے مالک ہیں۔ فی الحال نریندر مودی اور آر ایس ایس سر براہ مو ہن بھاگوت کے سوا پورے سنگھ پریوار میں کوئی ایسا نہیں کہ جو امیت شاہ سے اونچی آواز میں بات کر سکے۔ اس وقت حکومت اور پارٹی دونوں میں اگر مودی نمبر ون ہیں تو شاہ بغیر شرکت نمبر دو ہیں۔اور اس وقت مودی۔شاہ کی جوڑی کی ملک پر بادشاہت قائم ہے لیکن ہر فر عون را موسیٰ! اور اب امیت شاہ کا بیٹا جے شاہ ہی ان کا دشمن بن گیا ہے۔ جیسے ہی جے شاہ کی کمپنی کا مبینہ بد عنوانی کا معاملہ کھلا بس ویسے ہی ساری اپوزیشن نے شاہ پر وار کر دیا۔ کا نگریس کہہ رہی ہے کہ سی بی آئی انکوئری کر اؤ تو سیتا رام یچوری کہتے ہیں کہ پوری بی جے پی بد عنوانی میں ڈوبی ہے۔الغرض امیت شاہ اب مودی کا سر درد بن چکے ہیں۔ ہندوستانی سیاست میں کسی پر ایک بار بد عنوانی کے معاملات میں کیچڑ اچھل جائے تو بس پھر صفائی دیتے رہو کو ئی یقین نہیں کر تا ہے۔ جے شاہ جتنی صفائیاں دیں گے ، اپوزیشن اتنا ہی شور مچائے گا۔ یہ معاملہ اب گجرات چناؤ میں گلی کوچوں میں اچھلے گا۔

امیت شاہ مودی کے لئے عذاب بنتے جا ئیں گے۔لیکن امیت شاہ وہ طوطا ہیں جن کے ہاتھوں میں مودی کی جان ہے۔ اب دیکھیں مودی امیت شاہ جیسے طوطے کو مار پاتے ہیں کہ نہیں۔ اگر مار تے ہیں تو خود مرنے کا خطرہ۔ کیونکہ مودی کا ہر راز امیت شاہ کے قبضے میں ہے اور اگر نہیں مارتے تو اپوزیشن ’ ٹیمپل انٹر پرائز کو مودی کا بو فورس بنا سکتی ہے۔اس لئے امیت شاہ اکیلے نہیں بلکہ مودی اور شاہ دونوں ہی برے پھنسے۔

TOPPOPULARRECENT