Saturday , December 15 2018

بستر مرگ والے افراد کو حسب خواہش موت کی اجازت

عزت کے ساتھ پرسکون موت کا حق تسلیم، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

نئی دہلی، 9مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے زندگی بچانے والے مصنوعی آلات کے سہارے جینے کے لئے مجبور یا بستر مرگ پر پڑے افراد کوعزت کے ساتھ مرنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ناقابل برداشت اور دردناک بیماری سے بچنے کے لئے بالواسطہ حسب خواہش موت(پیسیو ایتھونییزیا) اور زندگی سے متعلق وصیت(لیونگ ول) کو قانوناً جائز قرا ردے دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک کمار مشرا ، جسٹس اے کے سیکری ، جسٹس اے ایم کھانڈویلکر ، جسٹس ڈی وائی چندرچون اور جسٹس اشوک بھان پر مشتمل ایک آئینی بنچ نے باعزت موت کے حق کو بھی بنیادی حق قرا ردیا۔ غیر سرکاری تنظیم کامن کاز کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آئینی بنچ نے پیسیو ایتھونیزیا یا لیونگ ول پر عمل درآمد کے لئے بہرحال کچھ اصول اور طریقے بھی مرتب کئے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زندگی بچانے والے مصنوعی سسٹم کے سہارے بستر مرگ پر طویل مدت سے پڑے شخص پر اگر کسی دواکا کوئی اثر نہیں ہورہا ہو یا اس کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہو تو بالواسطہ حسب خواہش موت کی عرضی پر ڈاکٹر اور اس کے خاندان کے افراد مل کر فیصلہ کرسکتے ہیں اور اس کے لئے کسی بھی قتل کا ملزم نہیں سمجھا جائے گا۔ آئینی بنچ نے لیونگ ول کے سلسلے میں بھی واضح کیا کہ عزت کے ساتھ موت کا حق فرد کا بنیادی حق ہے ۔ اگر بستر مرگ(ٹرمنلی ال پرسن) پر پڑے کسی شخص نے پہلے سے ہی لیونگ ول تیار کررکھی ہے یا پہلے سے ہی کوئی تحریری ہدایت (ایڈوانس ڈائریکٹیو) دے رکھا ہے ، اور اس کے بچنے کا امکان بالکل معدوم ہوتو علاج کرنے والے ڈاکٹر اور خاندان کے افراد مل کر لائف سپورٹ سسٹم کو ہٹانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تاکہ وہ شخص گھٹ گھٹ کر مرنے کے بجائے باعزت طورپر موت کو گلے لگاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT