Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / بس شلٹرس کی بہتر دیکھ بھال کیلئے خانگی ایجنسیوں کو ذمہ داری

بس شلٹرس کی بہتر دیکھ بھال کیلئے خانگی ایجنسیوں کو ذمہ داری

دہلی طرز پر انتظامات، جی ایچ ایم سی کو سالانہ 6 کروڑ روپیوں کی آمدنی کا تخمینہ

حیدرآباد ۔ /10 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہریان حیدرآباد ایک طویل عرصہ سے ناکارہ بس شلٹرس کی وجہ سے پریشان ہیں جنہیں عنقریب ان پریشانیوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے کیونکہ شہر میں بس شلٹرس کی تعمیر اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پرائیویٹ ایجنسیوں کو دی جانے والی ہے ۔ یعنی بس شلٹرس پرائیویٹ ہوں گے بس شلٹرس میں فراہم کی جانے والی سہولیات کی بنیاد پر بس شلٹرس کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے اے زمرہ کے تحت بس شلٹرس میں وائی فائی ، موبائیل چارجنگ ، اے سی ، کافی مشین ، الیکٹرانکس ، ڈسپلے اور ماڈرن ٹائیلٹس ہوں گے اور سہولیات کی کمی کے لحاظ سے بی ، سی اور ڈی زمرہ میں شامل کئے جائیں گے ۔ بس شلٹرس کی نشاندہی کیلئے درکار سائینیج ، لائیٹنگ ، فٹ پاتھ ، سیٹنگ ، بس روٹس ، بس نمبرس ، بس کہاں سے کہاں تک جائے گی اور بسوں کے اوقات وغیرہ ڈی گریڈ بس شلٹرس میں بھی ہوں گے اور ان بس شلٹرس کا قیام اور دیکھ بھال کرنے والے خانگی ادارے بس شلٹرس پر لگائے جانے والے تجارتی اشتہارات کے ذریعہ آمدنی حاصل کریں گے ۔ دہلی اور دیگر شہروں میں بس شلٹرس کا معائنہ و مطالبہ کرنے کے بعد عہدیداروں نے بس شلٹرس کے قیام کیلئے ٹنڈرس طلب کیا ہے ۔ اس طرح عظیم تر بلدیہ کے احاطہ میں جملہ 826 بس شلٹرس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 430 جدید بس شلٹرس کی تعمیر اور 396 قدیم بس شلٹرس کی ری ڈیزائیننگ کی جائے گی ۔ ٹنڈرس کے ذریعہ جی ایچ ایم سی کو سالانہ 6 کروڑ کے حساب سے 15 برس میں 90 کروڑ کی آمدنی ہوسکتی ہے ۔ کم مدت کے تعین کی وجہ سے ٹنڈرس کے حصول میں کوئی بھی آگے نہ آنے کی وجہ سے 15 برس کی مدت متعین کی گئی ہے ۔ جی ایچ ایم سی پر اس بات پر تنقیدیں بھی ہورہی ہیں کہ جی ایچ ایم سی کنٹراکٹرس کے دباؤ میں آکر بس شلٹرس کے خانگیانہ کے فیصلہ کیا ہے ۔ اگر جی ایچ ایم سی خود ان بس شلٹرس کا قیام عمل میں لائے گی تو بلدیہ کو بہت بڑا فائدہ ہوسکتا تھا ۔ بس شلٹرس کے خانگیانہ سے متعلق جی ایچ ایم سی اسٹانڈنگ کمیٹی میں منظوری کے بعد سرکاری اجازت کیلئے فائل حکومت کو روانہ کی گئی ہے اور حکومت کی جانب سے اجازت ملتے ہی کام کاآغاز کردیا جائے گا ۔ ڈی بی ایف او ٹی یعنی ڈیزائن ، بلڈ ، فینانس ، آپریٹ ، ٹرانسفر طریقہ پر پرائیویٹ بس شلٹرس کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ ایک کیٹگری کیلئے ایک پیاکیج کے بجائے چار پیاکیجس کیلئے چار کیٹگریز میں ٹنڈرس طلب کئے گئے ہیں اور تمام کیٹگریز میں بس شلٹرس کی دیکھ بھال اور صفائی کو اہمیت دی گئی ہے اور بس شلٹرس میں کچرے کے ڈبوں کا انتظام اور اس کچرے کو بلدیہ کے قوانین کے مطابق منتقل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ گیلے اور سوکھے کچرے کیلئے علحدہ ڈبوں کا انتظام اور مسافرین کو بروقت اطلاعات فراہم کرنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT