Sunday , December 17 2017
Home / دنیا / بشارالاسد کی اقتدار سے بیدخلی ضروری نہیں

بشارالاسد کی اقتدار سے بیدخلی ضروری نہیں

فرانس کے موقف میں اچانک تبدیلی ، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لڑائی پر زور : وزیر خارجہ فیبئس
پیرس ۔ 5 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) فرانس کے وزیر خارجہ لارنس فیبئس نے کہا ہے کہ اُن کا یہ ایقان ہے کہ ملک شام میں کسی سیاسی تبدیلی سے قبل بشارالاسد کی برخواستگی ضروری نہیں، فرانس کے ایک مقامی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہاکہ داعش کے خلاف لڑائی اہمیت رکھتی ہے اور یہ لڑائی اُسی وقت مؤثر و کارکرد ثابت ہوگی جب تمام ملک شام اور علاقائی طاقتیں متحد ہوں ۔ انھوں نے کہاکہ ایک متحدہ شام کے ذریعہ ہی سیاسی تبدیلی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی سیاسی تبدیلی سے پہلے ہی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹادیا جائے۔ اُن کا یہ تبصرہ صدر شام کے تعلق سے فرانس کے موقف میں تبدیلی کا واضح اظہار ہے۔ اس سے پہلے فرانس مسلسل بشارالاسد کی برطرفی کا مطالبہ کرتا آرہا تھا اور اُس نے بشارالاسد کو خود اپنے ہی عوام کا ’قاتل ‘قرار دیا تھا ۔

اب ایسا لگتا ہے کہ پیرس نے اپنے موقف کو اعتدال پسند بنالیا ہے اور اُس نے آئی ایس سے نمٹنے کیلئے جو گزشتہ ماہ پیرس حملوں کا ذمہ دار ہے حکمت عملی تبدیل کردی ۔ فرانس بھی امریکہ اور بین الاقوامی اتحاد میں شامل دیگر ارکان کے ہمراہ شام اور عراق میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اُس کا بھی اب یہ موقف ہے کہ تمام مقامی اور علاقائی جماعتوں کو شامل کرتے ہوئے شام میں چار سال سے جاری اس جنگ کا سیاسی یا فوجی حل تلاش کیا جانا چاہئے ۔ لارنس فیبئس نے کہاکہ یقینا بشارالاسد شام میں اعتدال پسند باغیوں کے ساتھ ملکر کام نہیں کرسکتے لیکن ہمیں سیاسی تبدیلی کا مقصد حاصل کرنا ہے تو یہ ضروری نہیں کہ بشارالاسد کو تبدیل کردیا جائے تاہم انھیں شام کی فوج کا سربراہ نہیں ہونا چاہئے ۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جاسکتی ہے لیکن بشارالاسد کی قیادت میں یہ ممکن نہیں ۔ انھوں نے پیر کو فرانس انٹرریڈیو پر کہا تھا کہ بشارالاسد کی قیادت میں فوج کو اعتدال پسند اپوزیشن کے ساتھ شامل نہیں کیا جاسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT