Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / بشار الاسد ‘ روس اور ایران کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں

بشار الاسد ‘ روس اور ایران کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں

حلب سے محفوظ تخلیہ کو یقینی بنانے غیر جانبدار فورس کی موجودگی ضروری ‘ صدر بارک اوباما
واشنگٹن 17 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) بشارالاسد کا شامی اقتدار اور اس کے پشت پناہ روس اور ایران کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر بارک اوباما نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے حلب میں ایک غیر جانبدار بین الاقوامی مبصر کی تعیناتی پر زور دیا ہے اور کہا کہ یہاں محفوظ راہداری سے پرسکون تخلیہ کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔ سال کے ختم سے قبل اپنی آخری پریس کانفرنس میں اوباما نے وائیٹ ہاوز کے صحافیوں سے کہا کہ شامی اقتدار اور اس کے روسی و ایرانی حلیفوں کی جانب سے حقیقت کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ دنیا کو بیوقوف نہیں بننا چاہئے اور دنیا بھول نہیں پائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے ہم نے شام کی خانہ جنگی کو روکنے کی کوشش کی تھی اور انسانی تکالیف کے ازالہ کیلئے کوشش کی تھی ۔ بحیثیت صدر انہوں نے جن مسائل کا سامنا کیا ہے ان میں شام کا مسئلہ سب سے سخت گیر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر حلب پر شامی حکومت اور اس کے روسی اور ایرانی حامیوں کی جانب سے جو حملے کئے جا رہے ہیں۔ ساری دنیا اس پر متفکر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ یہاں عمدا محاصرے کئے جا رہے ہیں ‘ تحویل میں رکھا جا رہا ہے اور معصوم شہریوں کو فاقہ کشی کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ورکرس پر حملے کئے جا رہے ہیں اور طبی عملہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ سارا علاقہ ملبہ اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ یہ اطلاعات ہنوز مل رہی ہیں کہ عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ساری صورتحال کیلئے ذمہ داری صرف ایک جگہ عائد ہوتی ہے اور وہ ہے بشارالاسد کا اقتدار اور اس کے حلیف روس اور ایران ۔ یہ خون اور یہ مظالم ان کے ہاتھوں پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں کیا ہونا چاہئے ۔ حلب میں ایک بین الاقوامی غیر جانبدار نگران کار فوج ہونی چاہئے جو محفوظ پناہ گاہوں سے عوام کے پرسکون تخلیہ میں مدد اور تعاون کرسکتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو انسانی بنیادوں پر امداد پوری طرح پہونچائی جانی چاہئے اور امریکہ شامی عوام کیلئے عطیات کی فراہمی میں دنیا کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ شام میں ایک وسیع تر جنگ بندی ہونی چاہئے جس کے ذریعہ مسئلہ کا فوجی کی بجائے سیاسی حل دریافت کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی کوشش یہی ہوگی کہ وہاں دیرپا سیاسی حل دریافت ہوسکے اور امریکہ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ جیسے ادارے کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ امریکہ اس کام میں اپنے حلیف ممالک سے بھی تعاون حاصل کر رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT