Monday , December 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب محبت میں سے ہر سبب کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ وہ سبب کتنا اور کیسا ہے۔ آپﷺ کی صورت مبارکہ اتنی اچھی تھی کہ ایسی صورت اولاد آدم میں کسی اور کو نصیب نہ ہوسکی۔ آپﷺ کا رخ انور اتنا پرنور، اتنا حسین و جمیل اور اتنا دل پزیر تھا کہ چاند شرماتا تھا۔ دیکھنے والوں میں کوئی روئے مبارک کو چاند کہتا تھا اور کوئی چاند کا ٹکڑا کہتا تھا۔ جو دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔ اگر آپ چشم تصور سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنا چاہتے ہیں تو ام معبد کا بیان پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ کیا کہتی ہیں۔ یہ قبیلہ قضاعہ کی وہ خاتون ہیں، جن کا مکان دوران ہجرت راہ میں پڑتا تھا۔ تفصیلات سے قطع نظر ان ہی کی لاغر بکری نے اتنا دودھ دیا تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں شمار ہوتا ہے۔ شام کو شوہر گھر آیا تو دودھ سے بھرا برتن دیکھ کر حیران رہ گیا اور پوچھا: ’’یہ کہاں سے آیا؟‘‘۔ ام معبد نے سارا قصہ سنایا۔ شوہر نے کہا: ’’ذرا اس قریشی جوان کا حلیہ تو بتاؤ‘‘۔
وہ کہتی ہیں: ’’پاکیزہ رو، کشادہ چہرہ، پسندیدہ خو، پیٹ باہر نکلا ہوا نہ تھا، نہ سر کے بال گرے ہوئے، زیبا، صاحب جمال، آنکھیں سیاہ و فراخ، بال لمبے اور گھنے، آواز میں بھاری پن، بلند گردن، روشن مردمک، سرمگیں چشم، باریک و پیوسہ ابرو، سیاہ گھنگریالے بال، خاموش وقار کے ساتھ، گویا دل بستگی لئے ہوئے، دور سے دیکھنے میں دیدہ زیب و دلفریب، قریب سے نہایت شیریں و کمال حسین، شیریں کلام، واضح الفاظ، کلام کمی و بیشی الفاظ سے معریٰ، تمام گفتگو موتیوں کی لڑی جیسی پروئی ہوئی، میانہ قد کہ کوتاہی سے حقیر نظر نہیں آتے، نہ طویل کہ آنکھوں کو نہ بھاتے، زیبندہ نہال کی تازہ شاخ، زیبندہ منظر والا قد، رفیق ایسے کہ ہر وقت اس کے گرد و پیش رہتے ہیں، جب وہ کچھ کہتا ہے تو چپ چاپ سنتے ہیں، جب حکم دیتا ہے تو تعمیل کے لئے جھپٹتے ہیں، مخدوم، مطاع، نہ کوتاہ سخن نہ فضول گو‘‘۔

حلیۂ مبارک کے اس اجمالی بیان سے جو وجاہت سامنے آتی ہے اور جو عکس جمال نظر آتا ہے، وہ یہ ہے: عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں: ’’میں جونہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو فوراً سمجھ لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہوسکتا‘‘۔
ابورمثہ تیمی کہتے ہیں: ’’میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر حاضر ہوا تو لوگوں نے دکھایا کہ یہ ہیں خدا کے رسولﷺ۔ دیکھتے ہی میں نے کہا: واقعی یہ اللہ کے نبی ہیں‘‘۔
ابوقرصافہ کی والدہ اور خالہ کہتی ہیں: ’’ہم نے ایسا خوب رو شخص کوئی اور نہیں دیکھا۔ ہم نے ان کے منہ سے روشنی نکلتی دیکھی ہے‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوب رو کسی کو نہیں دیکھا۔ ایسا لگتا تھا گویا آفتاب چمک رہا ہے‘‘۔
ربیع بن معوذ کہتے ہیں: ’’اگر تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تو سمجھتے کہ سورج طلوع ہو گیا ہے‘‘۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’دیکھنے والا پہلی ہی نظر میں مرعوب ہوجاتا‘‘۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں: ’’میں ایک مرتبہ چاندنی رات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا تھا۔ آپ اس وقت سرخ چادر زیب تن کئے ہوئے تھے، میں کبھی چاند کو دیکھتا تھا اور کبھی آپﷺ کو، بالآخر اس فیصلہ پر پہنچا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ حسین ہیں‘‘۔
کعب بن مالک کا بیان ہے کہ ’’خوشی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ایسا چمکتا، گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔ اسی چمک کو دیکھ کر ہم آپﷺ کی خوشی کو پہچان جاتے تھے‘‘۔
ہند بن ابی ہالہ کہتے ہیں: ’’چہرے پر چاند کی چمک تھی‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: ’’مصر کی خواتین نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو اپنی انگلیاں کاٹ لیں، اگر وہ میرے یوسف کو دیکھتیں تو دل کاٹ لیتیں‘‘۔
اس مرقع حسن کو شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے شعر کے سانچے میں یوں ڈھالا ہے:
یا صاحب الجمال ویا سید البشر
مِنْ وَّجھک المنیر لقد نوَّرَ القمر
لَایُمْکن الثناء کما کان حقَّہٗ
بعد اَز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
ہے کوئی حسین و جمیل جو آپﷺ سے زیادہ محبت کا مستحق ہو؟۔ نہیں، ہرگز نہیں۔
محبت کا دوسرا سبب اچھی سیرت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ آپ کے اوصاف حمیدہ اور خصائل منیفہ کا اندازہ اس بات ہی سے ہو جاتا ہے کہ خود اللہ تعالی نے آپ کے اخلاق عالیہ کی گواہی دی ہے۔ ’’بے شک آپ خلق عظیم کے بلند مرتبے پر فائز ہیں‘‘۔ یہاں میں بطور نمونہ صرف دو حضرات کے بیانات پر اکتفا کروں گا، جو تاریخ میں ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ ان بیانات سے معلوم ہو جائے گا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی پاکیزگی اور اخلاقی عظمت کی تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے صاحبزادے ہند بن ابی ہالہ بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت آخرت کی فکر میں اور امور آخرت کی سوچ میں رہتے، اس کا ایک تسلسل قائم تھا کہ کسی وقت آپ کو چین نہیں ہوتا تھا۔ اکثر طویل سکوت اختیار فرماتے، بلا ضرورت کلام نہ فرماتے، گفتگو کا آغاز فرماتے تو دہن مبارک سے اچھی طرح الفاظ ادا فرماتے اور اسی طرح اختتام فرماتے۔ آپ کی گفتگو اور بیان بہت صاف، واضح اور دو ٹوک ہوتا، نہ اس میں غیر ضروری طوالت ہوتی، نہ زیادہ اختصار۔ آپ نرم مزاج اور نرم گفتار تھے، درشت خو اور بے مروت نہ تھے۔ نہ کسی کی اہانت پسند کرتے تھے اور نہ اپنے لئے اہانت پسند کرتے تھے۔ نعمت کی بڑی قدر کرتے اور اس کو بہت زیادہ جانتے، خواہ کتنی ہی قلیل ہو اور اس کی برائی نہ فرماتے۔ کھانے پینے کی چیزوں کی برائی کرتے نہ تعریف۔ دنیا اور دنیا سے متعلق جو بھی چیز ہوتی، اس پر آپﷺ کو کبھی غصہ نہ آتا، لیکن جب خدا کے کسی حق کو پامال کیا جاتا تو اس وقت آپﷺ کے جلال کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہ سکتی تھی، یہاں تک کہ آپﷺ اس کا بدلہ لے لیتے۔ آپ کو اپنی ذات کے لئے نہ غصہ آتا نہ اس کے لئے انتقام لیتے۔ جب اشارہ فرماتے تو پورے ہاتھ کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ جب کسی امر پر تعجب فرماتے تو اس کو پلٹ دیتے۔ گفتگو کرتے وقت داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے ملاتے، غصہ اور ناگواری کی بات ہوتی تو روئے انور اس طرف سے بالکل پھیر لیتے اور اعراض فرما لیتے۔ خوش ہوتے تو نظریں جھکا لیتے۔ آپﷺ کا ہنسنا زیادہ تر تبسم تھا، جس سے صرف آپﷺ کے دندان مبارک جو بارش کے اولوں کی طرح پاک و شفاف تھے، ظاہر ہوتے‘‘۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT