Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / بغداد میں خودکش بم حملے سے 2افراد ہلاک

بغداد میں خودکش بم حملے سے 2افراد ہلاک

Iraqi security forces gather at the site of a bomb attack in Baghdad, Iraq, Sunday, Oct. 16, 2016. A police officer said Sunday's attack took place in Baghdad's Shiite-dominated Jadriyah neighborhood on the Tigris River, where the explosive-laden bomber approached Shiites commemorating the 7th century death of Imam Hussein, the grandson of the Prophet Muhammad. (AP/Photo/Hadi Mizban)

جنگ سے قبل موصل پر حکومت عراق کی جانب سے ورقیوں کی بارش ‘اقوام متحدہ کا انتباہ
بغداد۔16اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) ایک خودکش بم حملہ میں کم از کم دو افراد آج بغداد میں ہلاک ہوگئے ۔سرکاری عہدیداروں نے کہا کہ ایک دن قبل دارالحکومت میں مہلک ترین حملہ کیا گیا تھا جو کئی مہینوں کے بعد ہوا تھا ۔ وسطی بغداد میں خودکش بم حملے کا نشانہ ایک خیمہ تھا جہاں سے سالانہ مذہبی یادگاری اجتماع کے موقع پر حاضرین میں غذا تقسیم کی جارہی تھی ‘ حملہ سے 2افراد کی ہلاکتوں کے علاوہ کم از کم دیگر چار افراد زخمی بھی ہوگئے ۔ فوری طور پر اس حملہ کی ذمہ داری کسی بھی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ‘ تاہم خودکش حملہ کا انداز دولت اسلامیہ کے حملوں کی مانند تھا ۔ ایک دن قبل ہی دولت اسلامیہ نے ایک جلوس جنازہ کے دوران بم دھماکہ کیا تھا جس سے کم از کم 34 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ یہ بغداد میں دولت اسلامیہ کے خودکش حملہ کے 18ماہ بعد کیا گیا تھا ۔ قبل ازیں جولائی کے اوائل میں دولت اسلامیہ کے خودکش بم حملے میں 300سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہوگئی ہے ۔ دریں اثناء عراق کے طیاروں نے شہر موصل میں جنگ شروع کرنے سے قبل لاکھوں ورقیوں کی برسات کی جن میں موصل کے شہریوں کو ہدایات دی گئیں ہیں کہ دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے خلاف جنگ کا آغاز ہونے جارہا ہے تاکہ موصل پر حکومت عراق کا قبضہ بحال کیا جاسکے ۔

چنانچہ مقامی شہریوں کا فرض ہے کہ وہ احتیاطی اقدامات کرلیں ۔ عراق نے قبل ازیں موصل پر ورقئے اپنی جنگی کارروائی کے ایک حصہ کے طور پر برسائے تھے ۔ ورقیوں میں موصل کے شہریوں کیلئے حفاظتی اقدامات کی تفصیل بھی شائع کی گئی ہے ۔ اُن پر زور دیا گیا ہے کہ اپنی کھڑکیوں کے شیشوں پر ٹیپ چسپاں کردیں تاکہ فضائی حملے کے دوران گیس ان کے گھروں میں داخل نہ ہوسکے جس کا قوی امکان ہے ۔ توقع ہے کہ حکومت کی جنگی کارروائی کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا لیکن یہ جنگ انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ مختلف ممالک نے ایک اتحاد قائم کیا ہے جو عراقی فوج کے ساتھ جنگ کرے گا اور شہر موصل پر حکومت کا قبضہ بحال کرنے کی کوشش کرے گا ۔ بعدازاں امکان ہے کہ وہ شہر کا محاصرہ کرلے گا جس سے جہادیوں کے خلاف حکومت کی جنگ کا اندازہ ہوتاہے۔جنگ کے نتیجہ میں انسانی بحران پیدا ہونے کے خلاف اقوام متحدہ نے انتباہ دیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT