Tuesday , December 11 2018

بغداد میں شیعہ علاقہ میں بم حملے ،34 ہلاک ،80 زخمی

بغداد 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) مصروف اوقات میں بم حملوں کے سلسلہ سے جو بغداد کے شیعہ غالب آبادی والے علاقہ کو نشانہ بناکر کئے گئے تھے آج کم از کم 34 افراد ہلاک اور 80 دیگر زخمی ہوگئے ۔گذشتہ ماہ انتخابات کے بعد یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ سرکاری عہدیدار 30 اپریل کے پارلیمانی انتخابات کی رائے شماری میں مصروف تھے۔ جاریہ سال خونریز عسکریت پسندی نے ت

بغداد 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) مصروف اوقات میں بم حملوں کے سلسلہ سے جو بغداد کے شیعہ غالب آبادی والے علاقہ کو نشانہ بناکر کئے گئے تھے آج کم از کم 34 افراد ہلاک اور 80 دیگر زخمی ہوگئے ۔گذشتہ ماہ انتخابات کے بعد یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ سرکاری عہدیدار 30 اپریل کے پارلیمانی انتخابات کی رائے شماری میں مصروف تھے۔ جاریہ سال خونریز عسکریت پسندی نے تاحال 3300 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکومت نے خارجی عناصر جیسے پڑوسی ملک شام میں جاری خونریز خانہ جنگی کے اثرات کو عراق میں جاریہ سال بے چینی میں اضافہ کی وجہ قرار دیا ہے لیکن تجزیہ نگاروں اور سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ زیر قیادت عہدیداروں کو غیر متاثر سنی اقلیت سے ربط پیدا کرنے اور عسکریت پسندی کی تائید کم کرنے کیلئے مزید بہت کچھ کرنا چاہئے۔ آج صبح کم از کم 9 کار بم دھماکے ،دو دھماکہ پڑوسی بلدیات میں ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹرس کے قریب کئے گئے۔

صدر سٹی ،ار ،جمیلا، امامل اور وسطی تجارتی ضلع کرادہ میں بھی کار بم دھماکہ ہوئے ۔دھماکوں مادوں سے بھری ہوئی ایک گاڑی کو سنی اکثریت والے عرب علاقہ جبور میں دھماکہ سے اڑا دیا گیا جس سے تین افراد ہلاک ہوئے ۔مغربی بغداد میں لب سڑک بم دھماکہ سے جو پولیس کی ایک طلایہ گرد پارٹی پر کیا گیا تھا ،تین افراد ہلاک ہوگئے ۔ دارالحکومت کے کئی علاقوں سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ صحافیوں کی اطلاع کے بموجب کئی دکانوں کے اگلے حصہ بری طرح متاثر ہوئے اور قریب میں کھڑی ہوئی کاریں ملبہ کا ڈھیر بن گئی۔ کرادہ میں تین افراد ہلاک ہوئے ۔ ایک گیاریج کے مالک نے کہا کہ دھماکہ عسکریت پسند نے کیا تھا جو گاہک کے بھیس میں آیا تھا

اور اپنی کار وہاں چھوڑ کر چلا گیا ۔ اس نے کہا تھا کہ اس کے بریکس درست کروانا ہے ۔ گیاریج کے 54 سالہ مالک ابو نوری کے بموجب اس نے کہا کہ وہ کار رکھ کر فاضل پرزے خریدنے جارہا ہے ،دکان کے صرف ایک ملازم نے زبردست دھماکہ سنا جس کے بعد وہ نیچا گر گیا ۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا کئی افراد چیخ پکار کررہے تھے اور دیگر افراد دوڑتے ہوئے فرار ہورہے تھے۔ ابو نوری نے عہدیداروں اور فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے حملوں کا نشانہ صرف بے قصور عوام بنتے ہیں۔ وہ عہدیدار جو خود کو ہیرو قرار دیتے ہیں گرین زون میں پوری طرح محفوظ رہتے ہیں۔ دالحکومت کے شمال میں ایک راکٹ حملے سے ایک کمسن لڑکا ہلاک ہوگیا۔ فوری طور پر کسی بھی گروپ نے دھماکہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جو مکمل طور پر باہمی تعاون کر کے کئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT