Wednesday , December 13 2017
Home / مذہبی صفحہ / بغیر حلالہ، تعلقِ زوجیت حرام ہے

بغیر حلالہ، تعلقِ زوجیت حرام ہے

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاق دیدیا ہے۔
ایسی صورت میں اب دونوں شرعاً بغیر حلالہ تعلق زوجیت قائم کریں تو کیا حکم ہے  ؟
جواب : بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں زید اور ہندہ کا طلاق سہ بارہ کے بعد بغیر حلالہ تعلق زوجیت قائم کرنا حرام ہے۔ اگر لاعلمی کی وجہ سے یہ عمل ہوا ہے تو فورا دونوں علحدہ ہوکر توبہ کریں۔ حکم شرعی معلوم ہونے کے بعد دونوں بغیرحلالہ صحبت کریں تو شرعاً یہ ’’زنا‘‘ ہے اور اسلامی احکام میں سنگسار کے قابل جرم ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۵۳۲ میں ہے  :  وأما المطلقۃ ثلاثا اذا جامعھا فی العدۃ مع علمھا انھا حرام ومع اقرارہ بالحرمۃ لاتستأنف العدۃ ولکن یرجم الزوج والمرأۃ کذلک اذا قالت بالحرمۃ و وجدت شرائط الاحصان۔
سودی قرض لینا حرام
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا ایک مسلمان بنک سے قرض لے کر مکان یا موٹر خرید سکتا ہے یا نہیں  ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میںبذریعہ بنک سودی قرض لینا حرام ہے، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ لہذا سودی قرض نہ لیں۔
ایصال ِ ثواب
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھانا پکا کر ا س پر فاتحہ پڑھنے کے بعد مرحومین کے ایصال ثواب کیلئے کھلانے یا حصول برکت کیلئے یہ عمل کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں  ؟
جواب : شرعا ًاشیاء خورد و نوش سامنے رکھ کر سورۂ فاتحہ پڑھے اوربرکت کی دعا کرے اور اس کھلانے و تلاوت وغیرہ کا ایصالِ ثواب کیا جائے تو یہ عمل شرعا جائز ہے اس سے روکنا غلط ہے۔ ایسا کرنے پر اعتراض کرنا بھی درست نہیں۔
بذریعہ SMS تین طلاق کا حکم
سوال : کیا فرماتے ہیںعلمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے اپنی بیوی ہندہ کو بذریعہ SMS تین مرتبہ طلاق، طلاق، طلاق بزبان انگریزی بھیجا ہے، جوکہ ہندہ کے پاس موجود ہے۔
ایسی صورت میں کیا یہ طلاقیں واقع ہویں یا نہیں ؟
جواب : بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں بکر نے اپنی بیوی کو جسوقت بذریعہ SMS تین مرتبہ طلاق، طلاق، طلاق لکھ بھیجا ہے تو اسی وقت وہ تینوں طلاقیں واقع ہوکر رشتۂ زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا۔ اب ہندہ بکر کی زوجہ نہ رہی۔ فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب الطلاق ص ۳۴۸ میں ہے :
وزوال حل المناکحۃ متی ثلاثا کذا فی السرخسی۔
فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT