Monday , December 11 2017
Home / مذہبی صفحہ / بغیر طہارت کے نماز پڑھانا

بغیر طہارت کے نماز پڑھانا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں ایک شمال کے عالم صاحب تھے ۔ ایک مدت تک وہ امامت کے فرائض انجام دیتے رہے، ان کی ناشائستہ حرکتوں کی بناء انتظامی کمیٹی نے انہیں امامت سے علحدہ کردیا۔ جاتے وقت انہوں نے ان کے بعض قریبی دوستوں سے کہا کہ موسم سرما میں جب کڑاکے کی سردی ہوتی تو وہ بغیر وضو اذان دیتے اور نماز پڑھاتے تھے ۔ اس قسم کے متعدد واقعات ہمیں سننے میں آتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ایک قریبی ساتھی نے اپنی غربت اور مفلسی کی وجہ اپنی لڑکی کا نکاح ایسے ہی بیرونی امام سے کردیا ۔ بعد میں اختلافات ظاہر ہوئے اور ان کی بد اخلاقی کی وجہ رشتہ توڑلیا گیا تو لڑکی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کا شوہر بغیر طہارت کے فجر کی نماز پڑھایا کرتا تھا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عالم و فاضل ، حافظ قرآن ہوکر بغیر وضو نماز پڑھاتا ہے تو شرعی نقطہ نظر سے اس کا کیا حکم ہے  ؟
جواب :صورت مسئول عنہا میں اگر کوئی شخص عمداً بغیر طہارت کے نماز پڑھائے تو بعض فقہاء کی رائے میں وہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے لیکن راحج بات یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا لیکن کافر نہیں ہوگا۔ تاہم اگر وہ نماز کی اہمیت کو نہ مان کر توہین اور استخفاف نماز کے لئے بغیر طہارت نماز پڑھتا ہے یا پڑھاتا ہے تو اس کے کفر میں کوئی کلام نہیں۔نفع المفتی والسائل ص : ۳۵ میں ہے : الاستفسار من صلی متعمدا بغیر طہارۃ ھل یکفر الاستبشار قیل یکفر وقیل لا وھو ظاھر المذھب کما فی الدر المختار و فی السراجیۃ ان فعل ذلک استخفافا یکفر والا لا۔
روزہ کا فدیہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عمر تقریبا ۷۰ سال ہے اوروہ شوگر کا مریض ہے۔ زید ہر سال روزہ کا اہتمام کرتا تھا لیکن اس بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے سے قاصر ہے، کیا مرض کی وجہ سے روزہ چھوڑنے کا گناہ ہوگا یا زید پر کوئی کفارہ لازم ہے  ؟
جواب :  صورت مسئول عنہا میں شیخ فانی یعنی وہ معمر حضرات جن کی عمر اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب وہ کمزوری کی وجہ سے روزہ رکھنے کے قابل نہیں رہے اور آئندہ طاقت آنے کی کوئی امید نہیں کہ روزہ رکھ سکیں۔ یا ایسے امراض میں مبتلا لوگ جو روزہ پر قدرت نہیں رکھ سکتے اور نہ آئندہ توقع ہے کہ روزہ رکھ سکیں گے تو ایسے حضرات کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن ہر روزہ کے بدلہ میں بطور فدیہ ایک صدقہ فطر کی مقدار (سوا کیلو گیہوں یا اس کی قیمت) مسکین کو دینا لازم ہے ۔ ’’ و علی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین ‘‘ (البقرہ سورہ۲ ) اگر فدیہ دینے کے بعد روزہ رکھنے کی طاقت آجائے تو وہ روزہ کی قضاء کریں۔
دعاء قنوت پڑھنے سے قبل امام کا رکوع کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رمضان المبارک میں وتر کی نماز جماعت سے امام کے پیچھے ادا کی جاتی ہے۔ اگر کسی مسجد میں امام صاحب نماز تراویح پڑھاتے ہوں اور وہ وتر کی نماز بڑی تیزی سے پڑھاتے ہوں، جبکہ تیسری ر کعت میں مقتدیوں کی دعاء قنوت مکمل نہیں ہوتی کہ امام صاحب رکوع میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں مقتدیوں کو کیا کرنا چاہئے۔ دعاء قنوت پڑھ کر رکوع میں جانا یا امام کے ساتھ رکوع کرلینا۔ اگر مقتدی دعاء قنوت پڑھ کر رکوع کرتے ہیں تو اس ا ثناء میں امام صاحب کا رکوع سے سر اٹھالینے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ براہ کرم شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں۔
جواب : اگر وتر کی نماز میں مقتدی دعاء قنوت مکمل پڑھنے سے قبل ا مام رکوع کرلے تو مقتدی امام کی اتباع کرتے ہوئے رکوع میں چلے جائے ۔ عالمگیری جلداول ص ۱۱۱ میں ہے : المقتدی یتابع الامام فی القنوت فی الوتر فلورکع الامام  فی الوتر قبل أن یفرغ المقتدی من القنوت فانہ یتابع الامام۔
فقط واللہ أعلم

TOPPOPULARRECENT