Monday , October 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / بغیر قبضہ کے ہبہ نادرست ہے

بغیر قبضہ کے ہبہ نادرست ہے

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے ایک سفالی مکان ایک صاحب سے کچھ قیمت پر اپنی بیوی عامرہ کے نام سے خریدا اور پھر اپنی رقم سے اس مکان کو منہدم کرکے پختہ تعمیر کروادیا تراب علی معہ اہل و عیال اسی مکان میں رہتے تھے۔ عامرہ کے ایک عزیز کو رقم کی ضرورت پڑی تو مکان مقررہ قیمت میں بدست ہندہ بیع بالاقرار کرکے دوسال مدت مقرر کی گئی اور ستر روپیہ ماہانہ کرایہ پر بکر معہ اہل و عیال اُسی مکان میں رہے۔ بعدہ عامرہ فوت ہوگئیں اور بکر نے ہندہ کو اندرون مدت رقم دے کر مکان واپس لینا چاہا تو موصوفہ نے دینے سے انکار کردیا۔ اس پر بکر نے عدالت میں دعوی دائر کیا کہ مکان میرا ہے مجھے دلایا جائے چنانچہ عدالت کے فیصلہ کی بناء پر بکر رقم ادا کرکے مکان مذکور اپنے نام رجسٹرڈ کرالیا۔
عامرہ کے بطن سے ایک لڑکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا مکان مذکور الصدر میں لڑکی کا کوئی حصہ ہے، جبکہ بکر زندہ موجود ہے ؟
جواب : بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں بکر نے مکان مذکور الصدر عامرہ کے نام سے خریدا تھا لیکن عامرہ کو ہبہ کرکے قبضہ نہیں دیا تو وہ مکان شرعاً بکر کی ملک ہے، عامرہ کی ملک نہیں۔ درمختار بر حاشیہ رد المحتار جلد ۴ کتاب الہبۃ میں ہے {وتصح بایجاب ک … جعلتہ لک} فان الللام للتملیک بخلاف جعلتہ باسمک فانہ لیس بھبۃ۔ پس اس مکان میں بکر کی حین حیات انکی لڑکی کا کوئی حق نہیں کیونکہ ورثاء کا حق بعد وفاتِ مورث ہوتا ہے۔ ردالمحتار جلد ۵ میں ہے: ھل ارث الحی من الحی ام من المیت المتعد الثانی۔
جان بوجھ کر جھوٹی قسم کے بعد توبہ ہے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک مسجد کی کمیٹی کو یہ باور کرایا کہ وہ حافظ قرآن و قاری ہے اسی بناء پر موصوف کا تقرر امامت کیلئے ہوا۔ پندرہ دن بعد انہوں نے ایک شریف الخاندان گھرانے میں یہ کہہ کر شادی کی کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں عورت کی صورت تک نہیں دیکھی اس پر انہوں نے قسم بھی کھائی۔ ان پر بھروسہ کرکے لڑکی والوں نے عقد کردیا۔ چھ ماہ بعد معلوم ہواکہ صاحب موصوف کسی اور مسجد میں بحیثیت امام تھے اور وہاں پر اپنا نام تبدیل کر رکھا تھا اور شادی شدہ ہیں بیوی اور دو بچے ہیں۔ موصوف کے حافظ ہونے پر شک ہوا اور دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں پورے قرآن کا حافظ ہوں ایک تا بائیس پارے اچھی طرح یاد ہیں بعد کے آٹھ پارے جہاں پر متشابہات ہیں وہاں حفظ پکا نہیں ہے۔
ان حالات کی بناء پر موصوف کو ایک عرصہ سے خدمت امامت سے معطل کیا گیا۔ اب موصوف اپنی غلطیوں پر نادم و شرمندہ ہیں اور بارگاہ رب العزت میں توبہ کرکے آئندہ جھوٹ و فریب سے پرہیز کرنے کا وعدہ کررہے ہیں اور تمام مقتدیوں و محلہ کے مسلمان بھائیوں سے معافی کے خواہاں ہیں۔
ایسی صورت میں صاحب موصوف کو معاف کرتے ہوئے خدمت امامت پر رجوع کیا جاسکتا ہے یا کیا ؟ بینوا تؤجروا
جواب : صورت مسئول عنہا میں زید نے جو جھوٹی قسم کھائی اور مسلمانوں کو غلط باور کرایا اس پر نادم ہوکر بارگاہ رب العزت میں تائب ہیں اور آئندہ سے ایسے ناشائستہ و غیر شرعی اعمال نہ کرنے کا عہد واثق کرتے ہیں تو ان کو خدمت امامت پر رکھا جاسکتا ہے۔ امید ہے کہ اﷲ تعالیٰ بھی معاف فرمادیں۔ درمختار کے کتاب الایمان جلد ۴ صفحہ ۵۱میں ہے: اثم الکبائر متفاوت نھر {ان حلف علی کذب عمدا} … {ویأثم بھا} فتلزمہ التوبۃ۔ اور ردالمحتار میں ہے: {قولہ فتلزمہ التوبۃ} اذ لاکفارۃ فی الغموس یرتفع بھا الاثم فتعینت التوبۃ للتخلص منہ۔
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

TOPPOPULARRECENT