Wednesday , September 26 2018
Home / مضامین / بقالوں کیلئے وزارتِ محنت کی نئی تجویز

بقالوں کیلئے وزارتِ محنت کی نئی تجویز

کے این واصف

کے این واصف

نطاقات قوانین کے اہداف میں ایسے غیر ملکی باشندوں پر قدغن لگانا بھی ہے جو کسی سعودی باشندے کے نام پر یہاں اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔ ایسے کاروبار میں کرانہ دکان (Grocery Store) بھی ایک ہے( جسے عرف عام میں یہاں بقالہ کہتے ہیں)۔ بقالے کا کاروبار ایک ایسا شعبہ ہے جس پر سو فیصد غیر ملکی چھائے ہوئے ہیں اور ان میں ہندوستانی ، پاکستانی اور بنگلہ دیشی باشندوں کی اکثریت ہے ۔

باوجود اس کے کہ یہاں ہر شہر میں سوپر مارکٹس اور ہائپر ما رکٹس کا جال بچھ چکا ہے پھر بھی جگہ جگہ بقالے قائم ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بڑی مارکٹوں کی وجہ سے ان کے کاروبار پر اثر پڑا ہو لیکن اب بھی آبادیوں کے بیچ بقائے موجود ہیں۔ ہر چند کہ ان کے کاروبار پہلے کی طرح عروج پر نہیں ہیں۔ بظاہر بقالے کے کاروبار پر غیر ملکیوں کی اجارہ داری نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس شعبہ میں مقامی باشندوں یا سعودی نوجوان خود نہیں آتے یا یوں کہئے کہ اس شعبہ کو مقامی باشندوں نے خود نظر انداز کر رکھا ہے ۔ اس کاروبار میں مقامی باشندوں کی رغبت نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کی لمبی ڈیوٹی ہے ۔ یہاں بقالے صبح چھ بجے سے رات 12 بجے تک کھلے رہتے ہیں ،

نومبر 2013 ء کے آخر میں وزارت محنت کی جانب سے یہ تجویز آئی تھی کہ بقالوں کے اوقات کار مقرر کئے جائیں اور ان کا دورانیہ کم کیا جائے تاکہ مقامی نوجوان اس کاروبار کی طرف راغب ہوں لیکن اس کے بعد اس سلسلے میں مزید کوئی اعلان نہیں آیا نہ ان کے اوقات کار میں کمی سے متعلق کوئی احکام جاری کئے گئے لیکن اس ہفتہ بقالوں سے متعلق مقامی اخبارات میں وزارت محنت کی ایک نئی تجویز آئی جس میں کہا گیا ہے کہ وزارت نے ریٹیل کاروبار کو سعودی رنگ دینے کیلئے 4500 ریال ماہانہ تنخواہ مقرر کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے ۔ وزارت چاہتی ہے کہ ریٹیل کاروبار میں سعودیوں کو بڑے پیمانہ پر داخل کیا جائے ۔ سیلزمین ، انچارج اور سامان ترتیب دینے کیلئے سعودیوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں ۔ کم از کم تنخواہ 4500 ریال ہو۔ اب تک ریٹیل کے کاروبار پر غیر ملکی چھائے ہوئے ہیں، اس میدان میں سعودی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مملکت کے تمام شہروں میں ریٹیل کے کاروبار سے سعودیوں کو جوڑنے کی تیاریاں بڑے پیمانہ پر کی جا رہی ہیں ۔ وزارت محنت نے اس منصوبے کے اجراء کے کئی اسباب بیان کئے ہیں ۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ریٹیل کے شعبے میں سعودیوں کیلئے روزگار کے سامان سے سعودی ابھی تک منسلک نہیں ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ مملکت میں تارکین کی مجموعی تعداد کا 16 فیصد حصہ اس کاروبار سے جڑا ہوا ہے ۔ بڑے تجارتی مراکز میں ریٹیل کے شعبہ سے سعودی خواتین بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ اس رجحان کو اس بات سے بھی تقویت پہنچی ہے کہ فروغ افرادی قوت فنڈ کے یہاں ملازمت کے متلاشی 75 فیصد سعودی ایسے ہی ہیں جن کے پاس یا تو ثانوی اسکول کے سرٹیفکٹ ہیں یا اس سے کم درجہ کے سرٹیفکٹ رکھنے والے شہری ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ریٹیل کے شعبے میں کام کرنے والے ثانوی پاس ہیں یا معمولی پڑھے لکھے ہیں۔

تین ماہ قبل سعودی وزارت محنت کے اعلان میں کہا گیا تھا کہ کرانہ کی دکانیں صبح 6 بجے سے رات 9 بجے تک کھلی رکھی جائیں۔ دوپہر کے وقت آرام کا وقفہ بھی رکھا جائے ۔ مقامی اخباروں نے اس کی تفصیلات دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ بقالوں کی سعودائزیشن سے غیر ملکی کارکنان کی اجارہ داری ختم ہوگی ۔بقالوں پر غیر ملکی کارکنان چھائے ہوئے ہیں۔ یہ صبح سویرے سے رات دیر گئے تک بقالے پر بیٹھے رہتے ہیں اور مقامی صارفین کو اس کا عادی بنائے ہوئے ہیں ۔ اگر بقالے کھولنے اور بند کرنے کے اوقات کار محدود کردیئے گئے تو ایسی صورت میں بہت سارے سعودی نوجوان بقالوں کے کاروبار میں آنے لگیں گے ۔ کہا گیا تھا کہ ریٹیل کے کاروبار پر غیر ملکیوں کی اجارہ داری توڑنے کیلئے اس قسم کے اقدامات لازم ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ وزارت محنت نے اس سفارش پر عملدر آمد کیلئے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرلیا ہے ۔ نیز وزارت محنت سعودی لیبر مارکٹ کی ہر پہلو سے اصلاح کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔

توقعات یہ ہیں کہ مختلف ناموں اور عنوانوں سے ایسی تمام دکانیں یا بقالے یا ریٹیل کی دکانیں جو سڑکوں اور گلیوں میں کھلی ہوئی ہیں مذکورہ فیصلے کی زد میں آئیں گی ۔ مختلف حجم کے مالز، سوپر مارکٹس میں موجود اس قسم کی دکانیں بھی مذکورہ فیصلے سے متاثر ہوں گی ۔ اس اعلان میں ایوان صنعت و تجارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے لکھا گیا تھا کہ بقالوں سے متعلق کئے گئے اعلان کے بڑے اچھے نتائج برآمد ہوں گے ۔ بقالوں کے نئے نظام الاوقات کے باعث سعودی نوجوانوں کو بقالوں کے کاروبار میں آنے کی ترغیب ملے گی ۔ 99 فیصد سے زیادہ بقالے غیر ملکیوں کے قبضے میں ہیں اور نجی شعبے کے 66 فیصد کارکن بقالوں ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ریاض میں 7.35 ہزار دکانیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس قسم کے مسائل سے کس طرح نجات حاصل کی گئی ہے، اس سے استفادہ کیا جائے۔

سعودی عرب میں چار دہائیوں قبل بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور اس وقت سے بقالے لانڈری ، باربر شاپس ، پھل ترکاری کی دکانیں اور اس نوعیت کے چھوٹے کاروبار غیر ملکی باشندوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اب وزارت محنت بقالے کے کاروبار کی طرف سعودی نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے ان کے اوقات کار میں کمی یا ان پر سعودی بے روزگاروں کو بڑی تنخواہ پر ملازمت دلانا چاہتی ہے کیونکہ بقالے کی لمبی ڈیوٹی کی وجہ سے سعودی نوجوان اس کاروبار کو نہیں اپناتے۔ مملکت میں ایک اور میدان ہے جس پر بھی غیر ملکیوں کی اجارہ داری ہے ۔ وہ ہے ٹیکسی ڈرائیونگ ۔ ٹیکسی چلانے میں بھی تقریباً سو فیصد غیر ملکی ہی کام کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ٹیکسی کمپنی کو ادا کرنے کی رقم جمع کرنے کیلئے ہر ڈرائیور کو دن میں دس گھنٹے سے زائد گاڑی چلانی پڑتی ہے ۔ مقامی باشندوں کو اس میدان میں لانے کیلئے بہت سی ترغیبات دی گئیں لیکن وہ سب ناکام ثابت ہوئیں۔

یعنی سعودی باشندوں نے ٹیکسی چلانے کے کام میں بھی دلچسپی نہیں دکھائی ۔ لہذا آج ٹیکسی کی تمام خانگی کمپنیوں میں غیر ملکی بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں ۔ ان تمام خانگی کمپنیوں کے مالک سعودی باشندے ہیں کیونکہ ٹیکسی ڈرائیونگ کے شعبہ کی طرف سعودی نوجوان را غب نہیں ہوئے تو اب وزارت محنت یہ تجربہ بقالے کے کاروبار پر کرنا چاہتی ہے ۔ مملکت بھر میں لاکھوں بقالے ہیں اور ان پر کام کرنے والے لاکھوں غیر ملکی ہیں جو ہر روز 18 گھنٹے ان بقالوں کو کھلا رکھتے ہیں اور ظاہر ہے یہ لوگ شفٹ سسٹم پر ان بقالوں پر کام کرتے ہوں گے کیونکہ ایک آدمی ہر روز مسلسل 18 گھنٹے تو ڈیوٹی نہیں دے سکتا ۔ لہذا اگر سعودی نوجوان چاہیں تو اس طرح اپنا بقالہ چلا سکتے ہیں۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ بڑے کرانہ اسٹورز اور ہائپر مارکٹس جو عام طور پر 24 گھنٹے یا کم از کم 18 گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔

ان بڑے اسٹورس میں کام کرنے والوں کی اکثریت بھی غیر ملکی باشندوں کی ہی ہوتی ہے ۔ اس کام میں بھی زیادہ سعودی باشندے نظر نہیں آتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مقامی نوجوان اس قسم کی ملازمت یا کاروبار میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ اب اگر وزارت محنت اپنی تجاویز روبعمل لائے گی تو اس سے سعودی نوجوان اس بزنس میں تو نہیں آئیں گے مگر لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور مقامی عوام کو ان بقالوں سے جو سہولت حاصل ہے وہ بھی ختم ہوجائے گی ۔ کیونکہ بقالے چلانے والے مقامی باشندوں کو بقالے پر ملازم رکھ کر اقل ترین مقرر کردہ تنخواہ یعنی 4500 دے سکتے ہیں نہ بقالے کے اوقات میں وزارت کی تجویز کے مطابق کمی کرسکتے ہیں ۔بہر حال یہ سارے حقائق اپنی جگہ وزارت محنت کا ہدف مملکت سے غیر قانونی کاروبار اور افراد کا صفایا کرنا ہے اور وزارت کوئی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتی ۔ وزارت محنت کا یہ مشن اپنی مقاصد کے حصول کیلئے جاری ہے ۔ اب خارجی باشندوں کو اپنے اطراف تنگ ہوتے ہوئے حاشیہ میں اپنی بقاء کی راہیں تلاش کرنی ہوں گی ۔

TOPPOPULARRECENT