Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / بلجیم ایرپورٹ پر حملہ آور بھائی تھے، ایک حملہ آور فرار

بلجیم ایرپورٹ پر حملہ آور بھائی تھے، ایک حملہ آور فرار

تلاش جاری، تین روزہ قومی سوگ، ایک منٹ کی خاموشی، پورے یوروپ میں چوکسی
بروسلز ۔ 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عہدیداروں نے آج پیرس حملوں کے دو مشتبہ خودکش بم برداروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں بھائی ہیں جبکہ آج تیسرے حملہ آور کی تلاش جاری رہی۔ بلجیم کے مرکزی وکیل استغاثہ ابراہیم ال بکروئی نے کہا کہ دو افراد میں سے ایک نے بروسلز ایرپورٹ پر منگل کے دن خود دھماکہ سے اڑا دیا جبکہ اس کا بھائی خالد پرہجوم میٹرو ٹرین میں پھنس گیا تھا جسے اس بم دھماکہ میں تعاون کرنا تھا۔ تیسرا شخص فرار ہے۔ وکیل استغاثہ فریڈرک وان لیوو نے کہا کہ سی سی ٹی وی پر ایک شخص کو ایرپورٹ پر دیگر دو خودکش بمباروں کے ساتھ ٹرالی ڈھکیلتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ یہ واقعہ حملوں سے کچھ ہی دیر قبل کا ہے جبکہ حملہ کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کرلی ہے۔ اس شخص نے اپنا بیاگ سب سے بڑے بم کے ساتھ چھوڑ دیا تھا جو بعد میں پھٹ پڑا کیونکہ یہ انتہائی غیرمستحکم تھا۔ وان لیوو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس کو بروسلز کے رہائشی علاقہ میں ایک زبردست دھماکہ سنائی دیا۔ بلجیم کے تحقیقات کنندوں نے سی سی ٹی وی کی جھلکیاں جن میں ایرپورٹ پر حملہ آور تین افراد موجود ہیں۔ دوسرے خودکش بم بردار اور تیسرے شخص کے ساتھ جو فرار ہے اور جس کی شناخت نہیں ہوسکی، جاری کی ہیں۔

بلجیم آج دوپہر تک بھی بے حس و حرکت تھا۔ ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی منائی گئی۔ ان کی نعشیں ایرپورٹ کے روانگی ہال میں مسخ حالت میں اور مالدیپ میٹرو اسٹیشن میں جو یوروپی یونین کے ہیڈکوارٹر کے پڑوس میں واقع ہیں، دستیاب ہوئیں۔ پولیس پہلے ہی بکروئی بھائیوں کی تلاش میں ہے۔ دونوں بلجیم کے شہری ہیں اور ان کا ربط صلاح عبدالسلام کے ساتھ تھا جو پیرس حملوں کا کلیدی مشتبہ شخص ہے۔ صلاح کو جمعہ کے دن چار ماہ تک فرار رہنے کے بعد بروسلز میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ایرپورٹ کے حملہ آوروں کا ربط عبدالسلام کے ساتھ تھا۔ وہ بروسلز میں ایک حملہ کی سازش کررہا تھا۔ اس نے اپنے بیان میں جو تحقیقات کرنے والوں کو دیا گیا ہے، اس کا اعتراف کیا۔ اس سے یوروپ کی اندرون ملک دہشت گردی کے اندیشوں کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایرپورٹ پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک ابراہیم البکروئی نے مایوسی کے عالم میں ایک وصیت چھوڑی ہے جو کمپیوٹر پر موجود ہے جس نے اسے گلی کے کوڑے دان میں پھینک دیا تھا۔ وصیت میں کہا ہیکہ اسے ہر جگہ تلاش کیا جارہا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اسے کیا کرنا چاہئے۔

تحقیقات کنندوں کو ایک بم دستیاب ہوا جس پر دولت اسلامیہ اپنا پرچم نقش تھا اور یہ بم پھٹ نہیں سکا۔ اس قتل عام سے پورا ملک گہرے صدمہ سے دوچار ہے۔ تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ شاہ فلپ اور وزیراعظم چالس مائیکل نے ایک منٹ کی خاموشی کی قیادت کی جو یوروپی یونین کے ہیڈکوارٹر کے روبرو کیا گیا تھا۔ پورے یوروپ کے قائدین نے ان حملوں پر برہمی ظاہر کی ہے۔ یوروپی یونین نے جمہوریت اور رواداری کا دفاع کرنے اور دہشت گردی کے ساتھ تمام ضروری وسائل کے ساتھ جنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیرس سے برلن تک سیاہ، زرد اور سرخ روشنیاں جلائی گئی تھیں جو بلجیم کے پرچم کے رنگ ہیں۔ پورے یوروپ میں ایرپورٹس اور دیگر امکانی اہداف پر سخت حفاظتی انتظامات بھی کئے گئے ہیں۔ فوجی مسافروں سے گارڈس کی تلاشی لے رہے ہیں۔ مصروف اوقات میں بھی یہ کارروائی جاری ہے۔ بلجیم کے وزیرخارجہ نے کہا کہ تقریباً 40 ممالک کے شہری مہلوکین اور زخمیوں میں شامل ہیں۔ وہ برطانیہ، کولمبیا، فرانس، پیرو اور امریکہ کے شہری تھے۔

TOPPOPULARRECENT