Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ انتخابات میں اپوزیشن کی ضمانتیں بچ نہیں پائیں گی

بلدیہ انتخابات میں اپوزیشن کی ضمانتیں بچ نہیں پائیں گی

دیگر ریاستوں کے افراد کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا تیقن ، جوبلی ہلز ٹی آر ایس کارکنوں کا اجلاس ، وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/8جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں اپوزیشن امیدواروں کی ضمانت بھی نہیں بچ پائے گی۔ انہوں نے حیدرآباد میں دیگر علاقوں اور ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مفادات کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ کے ٹی آر نے جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کے تحت پارٹی کارکنوں کے اجلاس میں شرکت کی اور دعویٰ کیا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر ٹی آر ایس کا قبضہ رہے گا۔ انہوں نے واضح کردیا کہ ریاست کی تشکیل کے بعد کسی بھی علاقہ کے ساتھ جانبداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ آندھرا کے سیٹلرس اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے اور حکومت کی تمام اسکیمات میں ان کی برابر حصہ داری رہے گی۔ واضح رہے کہ جوبلی ہلز اسمبلی علاقہ میں آندھرائی سیٹلرس کی خاصی تعداد موجود ہے اور اس اسمبلی حلقہ کی نمائندگی تلگودیشم رکن اسمبلی گوپی ناتھ کرتے ہیں لہذا ٹی آر ایس نے اس حلقہ کے تحت آنے والے بلدی وارڈز میں کامیابی کیلئے سیٹلرس کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد دراصل ایک منی انڈیا ہے جہاں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبان اور تہذیب سے وابستہ افراد بستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی اپنی علحدہ تہذیب اور شناخت ہے اور اس کی خصوصیت ہے کہ دیگر علاقوں کے عوام کو اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران یہ اندیشے ظاہر کئے جارہے تھے کہ ریاست کی تقسیم کی صورت میں سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے اور دیگر ریاستوں کے عوام کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ لیکن یہ اندیشے تحریک کے دوران بھی غلط ثابت ہوئے۔ تلنگانہ تحریک کے 14برسوں میں ایک بھی واقعہ سیٹلرس کے ساتھ ناانصافی و ظلم کا پیش نہیں آیا۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے سیما آندھرا کے عوام خوشحال اور اطمینان کے ساتھ سکونت پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حیدرآباد کی ترقی میں سنجیدہ ہیں اور صرف ٹی آر ایس کے ذریعہ ہی گریٹر حیدرآباد کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حیدرآباد کی ترقی کیلئے گریٹر بلدیہ پر ٹی آر ایس کا قبضہ یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ برقی اور پانی کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی اور شہر کیلئے دو نئے ذخائر آب تعمیر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرما کے باوجود برقی کٹوتی نافذ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امن و ضبط کی صورتحال حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پولیس کو عصری بنانے کیلئے 350کروڑ روپئے منظور کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کیلئے 100شی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ شہر میں سی سی ٹی وی اور سی سی کیمروں کے ذریعہ غیر سماجی عناصر پر نظر رکھی جارہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے اقتدار میں شہر میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے سیٹلرس اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی ترقی اور مفادات کے تحفظ کا ہر ممکن خیال رکھے گی۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی نے غریبوں کی بھلائی کیلئے شروع کردہ مختلف اسکیمات کی تفصیلات بیان کی اور کہا کہ سابقہ حکومتوں نے فلاحی اسکیمات کو نظراندازکردیا تھا۔ راشن کارڈ پر موجود تمام ارکان کو فی کس 6کیلو چاول فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہاسٹل میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کیلئے باریک چاول کی سربراہی کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر غریبوں کی مشکلات اور پریشانیوں سے اچھی طرح واقف ہیں لہذا غریب لڑکیوں کی شادی کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کلیان لکشمی اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کا آغازکیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے مکانات کو بغیر کسی فیس کے باقاعدہ بنایا جائے گا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد بہت جلد کلین اینڈ گرین سٹی میں تبدیل ہوگا اور اس کا شمار دنیا کے معیاری شہروں میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے 18ماہ میں ان پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم اور کانگریس نے 60برس تک شہر کی ترقی اور غریبوں کی بھلائی کو فراموش کردیا۔ اس اجلاس میں رکن پارلیمنٹ بی سمن کے علاوہ صدر گریٹر حیدرآباد ٹی آر ایس ایم ہنمنت راؤ اور دوسروں نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT