Sunday , September 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / بلدیہ ظہیرآباد کا اجلاس ، گرماگرم مباحث

بلدیہ ظہیرآباد کا اجلاس ، گرماگرم مباحث

ترقیاتی کاموں کیلئے تخمینی بجٹ کی منظوری ، ٹاؤن پلاننگ آفیسر کی عدم موجودگی پر ارکان کی تنقید

ظہیرآباد۔ 22 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صدرنشین بلدیہ ظہیرآباد شبانہ بیگم کی زیرصدارت آج منعقدہ بجٹ اجلاس میں گرماگرم مباحث کے بعد سال 2018-19ء کیلئے تخمینہ بجٹ منظور کیا گیا۔ منظورہ بجٹ کے مطابق آمدنی کا تخمینہ 4,196.79 لاکھ روپئے اور خرچ کا تخمینہ 4,021.50 لاکھ روپئے ظاہر کیا گیا جبکہ بجٹ میں بچت کا تخمینہ 170 لاکھ روپئے بتایا گیا ہے۔ اس تخمینی بچت بجٹ کے منجملہ 60.61 لاکھ روپئے غریب طبقات کے رہائشی علاقوں کی ترقی کیلئے 26.97 لاکھ روپئے پسماندہ طبقات کے رہائشی علاقوں کی ترقی کیلئے 12.48 لاکھ روپئے درج فہرست قبائیلی علاقوں کی ترقی کیلئے، 8.32 لاکھ روپئے خواتین و اطفال کی بہبود کے لئے، 4.99 لاکھ روپئے معذورین کی فلاح و بہبود کیلئے اور بقیہ رقم 47.16 لاکھ روپئے جنرل فنڈ سے ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ بلدیہ ظہیرآباد کی تاریخ میں یہ پہلا بجٹ ہے جس میں بچت کے کھاتے میں 170 لاکھ روپئے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ کی پیشکشی سے قبل کانگریس کے فلور لیڈر محمد جہانگیر نے گزشتہ اجلاس کامنٹ بک پیش کرنے کا کرسی صدارت سے مطالبہ کیا۔ اجلاس میں برسراقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان نے صدرنشین کو ہفتہ میں کم از کم دو مرتبہ بلدی چیمبر میں موجود رہنے کے دیرینہ مطالبہ کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ صدرنشین کی دفتر بلدیہ میں موجودگی سے بلدی عملے کی کارکردگی میں بہتری پیدا ہوگی۔ اجلاس میں ٹاؤن پلاننگ آفیسر کی عدم موجودگی کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔ مباحث میں ارکان بلدیہ محمد عظمت پاشاہ نائب صدرنشین بلدیہ، محمد عبداللہ، راج شیکھر، نریش کمار، نارائن ریڈی، موتی رام اور پرنکیا نے حصہ لیا۔ اجلاس میں بلدی عہدیداروں جیتو رام نائیک کمشنر، تیجا ریڈی مینیجر، پربھاکر ریوینیو انسپکٹر کے بشمول دیگر ارکان بلدیہ اور معاون ارکان بلدیہ محمد یونس تاما روی کرن، معراج بیگم، طاہرہ بیگم، پنیماں، کے سجاتا، زلیخا بیگم، رنگمان، محمد لقمان اور محمد اکبر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT