Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ میں آوٹ سورسنگ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ

بلدیہ میں آوٹ سورسنگ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ

حیدرآباد ۔ 6 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاستی محکمہ بلدی نظم و نسق نے آوٹ سورسنگ سسٹم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ آوٹ سورسنگ کنٹراکٹرس ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ، ای ایس آئی اور پی ایف میں بدعنوانیاں کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہزاروں ملازمین کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اور محکمہ کی جانب سے ریاست کے تمام بلدیات کو احکامات جاری کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ کنٹراکٹرس کی مدت کے اختتام کے بعد جدید آوٹ سورسنگ ایجنسیوں سے ٹنڈرس طلب نہ کئے جائیں اور آوٹ سورسنگ ایجنسیوں کے مقابلہ سنیٹیشن ورکرس گروپ ( ایس ڈبلیو جی ) کا قیام عمل میں لایا جائے اور ان گروپس کا رجسٹریشن کرواتے ہوئے ان گروپس کے ماتحت کام کرنے والے صفائی کرمچاریوں کی خدمات سے استفادہ کریں ۔ واضح ہو کہ عظیم تر بلدیہ حیدرآباد میں اس پر عمل آوری ہوچکی ہے ۔ لہذا ریاست کی جملہ 73 بلدیات میں بھی اسی نظام پر عمل آوری کے لیے ریاستی مجلس مشاورت نے سفارش کی تھی اور ان سفارشات کو قبول کرتے ہوئے ریاست کی تمام بلدیات میں ایس ڈی ڈبلیو جی سسٹم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے اور اس نظام پر عمل آوری سے ریاست کی 73 بلدیات میں خدمات انجام دینے والے 16 ہزار ملازمین کو آوٹ سورسنگ کنٹراکٹرس کی زیادتیوں سے نجات ملے گی ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق نے گروپس تشکیل دینے کے معاملہ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہر ایک گروپ سات افراد پر مشتمل ہوگا جو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کروایا جائے گا ۔ اور ان گروپس میں انہی ملازمین کو شامل کیا جائے گا جو جون 2017 تک برسر خدمت ہوں گے اور کسی بھی گروپ میں ایک خاندان سے صرف ایک ہی فرد کو شامل کیا جائے گا ۔ اور ان گروپس کو رجسٹریشن کروانے کے معاملہ میں MEPMA کے ملازمین کو تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور گروپ میں شامل تمام سات افراد ایک ہی وقت میں کام کرنے والے ہوں اور ان ملازمین کی تنخواہیں راست طور پر ان کے بینک اکاونٹس میں جمع کردی جائیں گی اور ملازمین کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم سے ملازمین کے آدھار کو مربوط کیا جائے گا اور ملازمین کے ای ایس آئی ، پی ایف کی بینک کھاتوں میں منتقلی کے لیے نوڈل ایجنسیز کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT