Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ میں نمائندگی گھٹنے کے اندیشوں پر عرب قبیلوں میں برہمی

بلدیہ میں نمائندگی گھٹنے کے اندیشوں پر عرب قبیلوں میں برہمی

مقامی جماعت سے عوام کی ناراضگی ، صرف ایک عرب امیدوار کو ٹکٹ
حیدرآباد۔ 17 جنوری (سیاست نیوز) بلدی انتخابات سے قبل کئے گئے حلقہ جات کے تحفظات پر عرب قبیلوں کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا جارہا تھا لیکن اب جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے امیدواروں کو تقریباً قطعیت دی جاچکی ہے، تو ایسی صورت میں عرب قبیلوں کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے انتخاب پر برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ تحفظات کے سبب غالب عرب آبادی حلقہ جات محفوظ قرار دیئے گئے ہیں جس پر وہ ناراض تھے لیکن ان تحفظات میں موجود گنجائشوں کا استعمال کرتے ہوئے عرب قبیلوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کو منتخب کروایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ بلدی حلقہ بارکس میں جہاں پر عرب آبادی کی تعداد کافی زیادہ ہے لیکن اس حلقہ کو بی سی خواتین کیلئے محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ اگر سیاسی جماعتیں چاہتیں تو کسی عرب نمائندہ کی بیوی جو دکنی ہو، اسے امیدوار بنایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کے سبب عربوں میں سیاسی جماعتوں کے خلاف ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ اسی طرح چندرائن گٹہ بلدی حلقہ کو بی سی طبقہ کیلئے محفوظ قرار دیا گیا جس کی وجہ سے عرب نمائندے کو اس علاقہ سے ٹکٹ دیا جانا ممکن نہیں تھا ، چونکہ سید، مغل، پٹھان اور عرب بی سی طبقہ کی فہرست میں شامل نہیں ہیں لیکن اگر سیاسی جماعتیں عربوں کی نمائندگی کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ ہوتیں تو اس صورت میں بھی عرب خاندانوں کی دکنی خواتین یا پھر غیرعرب بیوی یا کسی غیرعرب رشتہ دار کو ٹکٹ دیا جاسکتا تھا۔ عرب قبیلوں کے سرکردہ افراد نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے عرب نمائندوں کو نظرانداز کرنے اور ٹکٹ نہ دیئے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ گزشتہ بلدیہ میں عرب طبقہ سے تعلق رکھنے والے 4 نمائندہ ایوان بلدیہ میں موجود تھے جن میں محسن بن عبداللہ بلعلہ، منصور عولقی، صمد بن عبدات اور حبیب زین عارف جوکہ تمام مجلس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے لیکن اس مرتبہ منصور عولقی ، محسن بن عبداللہ بلعلہ اور حبیب زین عارف کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ، صرف صمد بن عبدات کے بیٹے فہد بن عبدات کو بلدی حلقہ اُپو گوڑہ سے امیدوار بنایا گیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں عرب نمائندوں کی تعداد کم ہوگی۔ اس مسئلہ کو مختلف گوشوں کی جانب سے رکن اسمبلی اکبر اویسی پر حملے سے جوڑا جارہا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ ایک عرب قبیلہ کی جانب سے کئے گئے حملہ کے سبب حکومت اور حلیف جماعت کی جانب سے منظم سازش کے تحت طاقت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن عہدیدار اس بات کی تردید کررہے ہیں اور یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بی سی خواتین کی تعداد کے اعتبار سے تحفظات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح بی سی رائے دہندوں کی تنقیح کے بعد ہی بی سی زمرہ کی نشستوں کا تعین کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT