Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ میں3630 کروڑ روپئے کی دھاندلیاں،عہدیداروں کی لوٹ کھسوٹ

بلدیہ میں3630 کروڑ روپئے کی دھاندلیاں،عہدیداروں کی لوٹ کھسوٹ

150کارپوریٹرس کو دیئے گئے فنڈ میں 450کروڑ روپئے کا عدم استعمال، من مانی اخراجات بتاکر عوامی رقم کو لوٹ لیا گیا

٭     مطالعاتی دوروں کے نام پر 14کروڑ روپئے کے مصارف
٭     صرف اسکوٹر کی نگہداشت کیلئے 1.24لاکھ روپئے
٭     عہدیداروں کو آٹوز کی سواری کیلئے 16لاکھ روپئے خرچ

حیدرآباد ۔ 16 ڈسمبر (سیاست نیوز) مجوزہ بلدی انتخابات سے قبل بلدیہ میں ہونے والے 3630 کروڑ روپئے کی دھاندلیوں کا انکشاف ہوا ہے جو کہ مکمل عوام سے وصول کردہ دولت ہے۔ 2009 تا 2014ء کے دوران جی ایچ ایم سی میں موجود کارپوریٹرس کیلئے فی کارپوریٹر بلدیہ کی جانب سے 4 کروڑ 60 لاکھ روپئے ترقیاتی فنڈس مختص کئے گئے تھے۔ قانون حق آگہی کے تحت حاصل کردہ اطلاعات کے بموجب بلدیہ میں موجود ذمہ داران پر یہ الزام ہیکہ اس میعاد کے دوران 3630 کروڑ کے اسکامس ہوئے ہیں۔ بلدیہ کے اسکامس کے متعلق آر ٹی آئی کے ذریعہ انکشاف کے بعد بیشتر سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران میں کھلبلی مچی ہوئی ہے چونکہ 150 کارپوریٹرس کو ترقیاتی کاموں کیلئے 5 سال کے دوران 690 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن ان میں 451 کروڑ روپئے غیرمستعملہ ہیں۔ اس کے باوجود اتنا بڑا اسکام منظرعام پر آیا ہے۔ گذشتہ 6 برس کے دوران جو اسکامس منظرعام پر آئے ہیں، ان میں سنیٹیشن کی گاڑیوں کے اسکام کی لاگت 100 کروڑ، 2012 تا 2014ء کے دوران سڑکوں کی تعمیر کے اسکام میں 100 کروڑ، تشہیری فیس کا نقصان ہر سال تقریباً 100 کروڑ جملہ 600 کروڑ، جائیداد ٹیکس کے نقصان ہزار کروڑ، جی این این یو آر ایم اور تعمیری اشیاء کی گمشدگی 300 کروڑ، کارپوریٹرس کو جو مطالعاتی دوروں کے نام پر جو تفریح کروائی گئی اس کیلئے 14کروڑ، اسپورٹس 10 کروڑ، سنیٹیشن 175 کروڑ، نالہ وائیڈننگ 500 کروڑ، آر ٹی آئی کے تحت حاصل کی گئی

تفصیلات کے بموجب محکمہ بلدیہ نے بجاج چیتک اسکوٹر کی نگہداشت کیلئے ایک لاکھ 24 ہزار خرچ کئے ہیں جبکہ سنیٹیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے استعمال کئے جانے والے آٹو رکشا کیلئے 5 سال کے دوران 16 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی میں ہوئے ان اسکام کے متعلق بتایا جاتا ہیکہ اس میں نہ صرف عہدیدار ملوث ہیں بلکہ اور لوگوں کی بھی ملی بھگت کے باعث یہ ممکن ہوپایا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں منتخب ہوکر پہنچنے والے نمائندوں کی جانب سے ترقیاتی فنڈس کا مکمل استعمال نہ کئے جانے کی شکایات متعدد مرتبہ موصول ہوئی ہے۔ دونوں میئر کی جانب سے بھی اپنے بجٹ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ مطالعاتی دوروں کے نام پر کارپوریٹرس کیلئے شملہ، گینٹاک، دارجلنگ اور کشمیر کے دورے کروائے گئے اس پر جو رقومات خرچ کی گئی ہیں اس کی بھی تفصیلات آر ٹی آئی کے ذریعہ موصول ہوئی ہیں۔ شہر میں سڑکوں کی تعمیر اور بہتر نگہداشت کیلئے خانگی کنسلٹنسی کی خدمات حاصل کرنے کیلئے 25 کروڑ روپئے ادا کئے گئے۔ اس طرح کی شکایات کے بعد لوک ستہ پارٹی نے آر ٹی آئی کے ذریعہ یہ تفصیلات جمع کرتے ہوئے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے اور پارٹی کا الزام ہیکہ عوامی دولت کا بلدیہ کی جانب سے بیجا استعمال کیا جارہا ہے جوکہ غیرقانونی ہے۔

TOPPOPULARRECENT