Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدی انتخابات ، سیاسی قائدین کو عوامی مسائل کا احساس

بلدی انتخابات ، سیاسی قائدین کو عوامی مسائل کا احساس

ترقیاتی کاموں کا افتتاح و سنگ بنیاد ، عام انتخابات کے بعد قائدین دوبارہ منظر عام پر
حیدرآباد 3 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر میں اچانک بڑھ رہی سیاسی سرگرمیوں اور تیز رفتار مسائل کے حل کو دیکھتے ہوئے عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ کاش انتخابات کا زمانہ ہمیشہ برقرار رہے۔ مجوزہ بلدی انتخابات کے پیش نظر اچانک سیاسی قائدین کو عوامی مسائل کا احساس ہونے لگا ہے اور کروڑہا روپئے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھا جانا شروع ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں عوامی مسائل کے حل بالخصوص برقی و بلدی و آبرسانی مسائل کو فوری حل کرنے کے لئے عہدیداروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انتخابات پانچ سال کے بجائے دو سال میں ہونے لگیں تو عوام کی خدمت کا دعویٰ کرنے والے منتخبہ عوامی نمائندے ہمیشہ عوام کے درمیان رہنے لگیں گے۔ 2014 ء عام انتخابات کے بعد مسائل کے حل کے لئے درکار نمائندے غائب ہوچکے تھے اور عوام کو اپنی چوکھٹ پر طلب کررہے تھے۔ اب جبکہ بلدی انتخابات کا اعلان متوقع ہے ایسی صورت میں نہ صرف منتخبہ نمائندے بلکہ کارکن و قائدین بھی عوام کی خدمت اور اُن کے مسائل سے آگہی حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ پرانے شہر کے علاقوں میں اچانک کروڑہا روپئے کے ترقیاتی کاموں کے اعلانات اور عوامی مسائل کے حل کے لئے عہدیداروں کی طلبی کا عمل شروع ہوچکا ہے جبکہ نئے شہر میں حکومت کی جانب سے امکنہ اسکیم میں فلیٹس کی تقسیم کے علاوہ کوڑے دان کی تقسیم کے ساتھ دیگر اسکیمات کو متعارف کرواتے ہوئے عوام کو راغب کرنے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ اسی طرح ریاست میں اپوزیشن پارٹی کانگریس بلدی انتخابات کے پیش نظر اپنی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے اور کانگریسی قائدین کو ایک مرتبہ پھر شہر حیدرآباد کے عوام کے مسائل یاد آنے لگے ہیں۔ تلگودیشم پارٹی قائدین بلدی حدود میں اپنے کیڈر کو مستحکم کرتے ہوئے پھر سے ہائی ٹیک سٹی کی دہائی دینے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ بائیں بازو جماعتیں اور لوک ستہ پارٹی اپنے منفرد انداز میں شہر کے مسائل سے عوام کو واقف کروانے کے ساتھ ساتھ بلدی انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوچکی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اچانک شروع ہوئی اِن سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے پرانے شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے ساتھ ہی لاکھوں کروڑوں روپئے کے ترقیاتی کاموں کے وعدے اور سنگ بنیاد دیکھے جاتے ہیں اور انتخابی عمل مکمل ہوتے ہی عوام کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے عوام کو پھر کسی الیکشن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مجوزہ بلدی انتخابات کے دوران کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے لیکن ہر سیاسی جماعت میں ٹکٹ کے حصول کے لئے پُرامید قائدین کی بڑی تعداد سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کے لئے درد سر بن سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT