Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدی انہدامی کارروائیوں کو روکنے مجلس رکن اسمبلی کی مداخلت

بلدی انہدامی کارروائیوں کو روکنے مجلس رکن اسمبلی کی مداخلت

بنجارہ ہلز روڈ نمبر 3 پر عملہ کے ساتھ بدتمیزی اور گالی گلوج کی شکایت
حیدرآباد۔4جولائی (سیاست نیوز) بنجارہ ہلز میں بلدیہ کی جانب سے غیر مجاز تعمیر اور سرکاری راستہ کو مسدود کرنے کیلئے اٹھائی گئی دیوار کو منہدم کرنے کی کاروائی کے دوران مجلسی رکن اسمبلی مسٹر کوثر محی الدین نے بنجارہ ہلز روڈ نمبر 3پر پہنچ کر اسے رکوادیا اور اس موقع پر انہوں نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عملہ کے ساتھ بد تمیزی کرتے ہوئے انہیں گالی گلوچ کی۔ رکن اسمبلی کاروان کی جانب سے کی گئی اس حرکت کے متعلق بلدی عہدیداروں نے اپنے اعلی عہدیداروںکو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ بلدی عملہ کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے دوران رکن اسمبلی نے پہنچ کر غیر مجاز تعمیر کے انہدام کو رکوانے کی کوشش کی اور انہیں کاروائی روکتے ہوئے واپس ہوجانے پر پر مجبور کردیا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے عہدیداروں نے بتایا کہ بنجارہ ہلز روڈ نمبر 3پر بلدیہ کی سڑک کو بند کرتے ہوئے گیٹ نصب کئے جانے کی شکایت موصول ہونے پر شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی جانب سے مذکورہ جائیداد مالکین کو نوٹس روانہ کی گئی تھی اور رضاکارانہ طور پر اندرون 24گھنٹے گیٹ نکالتے ہوئے دیوار منہدم کرنے کی تاکید کی گئی تھی اور اس بات کا انتباہ بھی دیا گیا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی پر کاروائی کرتے ہوئے دیوار کو منہدم کردیا جائے گا اور اس کے اخراجات گیٹ نصب کرنے اور دیوار اٹھانے والوں سے وصول کئے جائیں گے۔ اس کے باوجود راستہ مسدود کرنے کی کوشش جاری رہنے کے سبب گذشتہ یوم جی ایچ ایم سی عملہ کی جانب سے اس غیر قانونی دیوار کو منہدم کرنے کی کاروائی شروع کی گئی تھی کہ اچانک رکن اسمبلی کاروان وہاں پہنچے اور کاروائی کو رکوانے کی کوشش کرنے لگے اسی دوران انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مالکین جائیداد میں وہ کسی کے دوست ہیں اسی لئے وہ یہاں آئے ہیں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کی جانب سے جاری کاروائی میں رکاوٹ ہوتی دیکھ انہوں نے اپنا آپا کھو دیا اور گالی گلوچ کرتے ہوئے عملہ کو وہاں سے چلے جانے کیلئے دھمکانے لگے جس پر بلدی عملہ نے انہدامی کاروائی کو درمیان میں چھوڑ دیا۔ بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جھانسی‘ پی وی ایس ایس ایم کے ویرا پرساد اور دیگر مالکین جائیداد نے 1988میں گروپ ہاؤزنگ اسکیم کے تحت درخواست داخل کرتے ہوئے اجازت نامہ حاصل کیا تھا لیکن بعد ازاں ان لوگوں نے علحدہ علحدہ اجازت نامہ حاصل کرتے ہوئے تعمیرات انجام دی ہیں اسی اعتبار سے ان جائیدادوں کے درمیان چھوڑی گئی 30فیٹ کی سڑک بلدیہ کی ملکیت ہے جسے کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے لیکن چند لوگوں کی جانب سے اس راستہ کو مسدود کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی جس ے بلدیہ کی جانب سے ناکام بنانے کے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اوراس سلسلہ میں کی جانے والی کاروائی کو مذکورہ رکن اسمبلی کی جانب سے رکوائے جانے کی کوشش اور بلدی عملہ کے ساتھ بدتمیزی و گالی گلوچ کے سلسلہ میں کاروائی کے متعلق غور کیا جا رہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT