Wednesday , September 26 2018
Home / فیچر نیوز / بلندی کا بہت ارمان ہے کیا

بلندی کا بہت ارمان ہے کیا

مودی پر الیکشن کا جنون
سرجیکل اسٹرائیک … فوج کا سیاسی فائدہ کیلئے استعمال

رشیدالدین
کوئی بھی چیز جب جنون کی حد تک پہنچ جائے تو انسان اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی پر ان دنوں سیاسی اور انتخابی جنون سوار ہے۔ موقع محل کا لحاظ کئے بغیر وہ ہر جگہ سیاسی گفتگو کرنے لگے ہیں۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہر اسٹیج انہیں انتخابی مہم کا اسٹیج دکھائی دے رہا ہے۔ لوک سبھا کے وسط مدتی انتخابات کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ نریندر مودی کی زبان سے سیاسی باتوں کے علاوہ کچھ اور سنائی نہیں دے رہا ہے ۔ عوامی تقاریب ہوں یا پھر ریڈیو سے من کی بات ہر جگہ سیاسی مقصد براری ان کے پیش نظر ہے۔ انتخابی مہم کی طرح ہر تقریب اور ہر اسٹیج کا استعمال کہیں شکست کا خوف تو نہیں؟ جب سے لوک سبھا کے وسط مدتی انتخابات کی اطلاعات گشت کرنے لگیں ، مودی نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا۔ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک حکومت کے کارنامے بیان کرتے ہوئے اپوزیشن کو نشانہ بنارہے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی عوامی ناراضگی نے شائد بی جے پی کو وسط مدتی چناؤ کے لئے مجبور کردیا ہے ۔ قبل اس کے کہ عوامی ناراضگی شدت اختیار کرلے ۔ بی جے پی نشستوں میں کمی سہی اقتدار کی برقراری کی خواہاں ہے۔ اپوزیشن کے امکانی اتحاد سے بی جے پی خوفزدہ ہے جس کا اظہار اترپردیش میں سنت کبیر داس کی برسی کے موقع پر نریندر مودی کی تقریر سے ہوا ہے۔ ایمرجنسی کے حوالے سے مودی نے اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش کی ۔ مرکز میں اقتدار کے حصول کیلئے اترپردیش نے اہم رول ادا کیا تھا لیکن ایس پی ، بی ایس اور کانگریس کے حالیہ اتحاد نے بی جے پی کیلئے اترپردیش میں اچھے دنوں کے خاتمہ کا اشارہ دے دیا ہے۔ ضمنی انتخابات کی حالیہ شکست نے مودی اور یوگی کے ہوش اڑادیئے ہیں۔ آئندہ عام انتخابات میں اپوزیشن اتحاد برقرار رہتا ہے تو بی جے پی کیلئے دلی دور ہوجائے گی۔ یو پی کے اپوزیشن میں پھوٹ پیدا کرنے کیلئے ایمرجنسی کے نفاذ اور اس کی مخالفت کرنے والوں پر طنز کیا جارہا ہے ۔ مودی نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے والے اور اس کی مخالفت کرنے والے کاندھے سے کاندھا ملاکر چل رہے ہیں اور یہ اقتدار کے لالچی پن کو ظاہر کرتا ہے ۔ مودی شاید بھول گئے کہ این ڈی اے میں ایسی جماعتیں موجود ہیں جو ایمرجنسی نافذ کرنے والی پارٹی کے ساتھ یو پی اے میں شامل رہ چکی ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرنے والے اور اسے انتخابی موضوع بنانے والے پہلے اپنا محاسبہ کریں۔ گجرات کا قتل عام کیا ایمرجنسی سے بدتر نہیں ہے؟ ہزاروں بے گناہوں کے خون ناحق کے دھبے جن کے دامن پر ہیں ، آج وہی پارسائی کا لبادہ اوڑھ چکے ہیں۔ ملک میں گزشتہ چار برسوں سے غیر معلنہ ایمرجنسی نہیں تو اور کیا ہے ۔ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی میں حالات اس قدر ابتر نہیں تھے جتنے آج مودی کی غیر معلنہ ایمرجنسی میں ہیں۔ حکومت اور پارٹی دونوں جگہ ایمرجنسی جیسے حالات سے قائدین کا دم گھٹنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے اندر سے بغاوت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ مودی کی ایمرجنسی سے ناراض قائدین نے موجودہ حالات کو ایمرجنسی سے بدتر قرار دیا ہے ۔ غیر معلنہ ایمرجنسی میں سرکاری میڈیا دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو مودی کی پبلسٹی پلیٹ فارم بن چکے ہیں۔ ان داروں سے غیر جانبداری ختم ہوچکی ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ سوائے مودی گان کے کچھ پیش نہیں کیا جاتا ۔ مودی وزارت میں شامل وزراء اور بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹرس کا کوئی کوریج نہیں۔ سرکاری اداروں کی یہ صورتحال ایمرجنسی سے ابتر ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اندرا گاندھی کی ایمرجنسی میں بھی AIR کا یہ حال نہیں تھا ۔ مودی حکومت نے سرکاری اور خانگی دونوں میڈیا پر سنسرشپ عائد کردی ہے۔

تمام ٹی وی چیانلس حتیٰ کہ سوشیل میڈیا پر مودی کا غلبہ ہے ۔ مخالف رائے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا ثبوت غیر جانبدار صحافیوں کو ہراسانی اور دھمکیاں ہے۔ ایمرجنسی تو معمولی لفظ ہے ، دراصل نریندر مودی، حکومت اور پارٹی میں ڈکٹیٹر کی طرح ابھرے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں جو ان کے آگے چل سکے ۔ پارٹی صدر امیت شاہ مودی کی موجودگی میں گلپوشی قبول کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ حکومت اور پارٹی کے موجودہ حالات سے بعض حساس اور قابل شخصیتیں گھٹ گھٹ کر بے عزتی اور عدم احترام کے کڑوے گھونٹ پینے پر مجبور ہیں۔ بعض کی صحت متاثر ہونے لگی ہے۔ منوہر پاریکر کے بعد سشما سوراج اور پھر ارون جیٹلی کی طبیعت بگڑ گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء اور قائدین کی اکثریت صورتحال سے نالاں ہے لیکن ڈکٹیٹر کا خوف ان پر طاری ہے۔ نریندر مودی نے سنت کبیر کے جلسہ میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو چھیڑ کر اپنے خفیہ ایجنڈہ کو بے نقاب کیا ہے ۔ اس تقریب میں بھلا طلاق ثلاثہ کا تذکرہ کیونکر کیا گیا ۔ دراصل مودی اپنے تمام انتخابی موضوعات کو دوبارہ عوام کے روبرو پیش کرتے ہوئے ہندو ووٹ متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کو طلاق ثلاثہ بل کی راہ میں رکاوٹ ظاہر کرتے ہوئے مودی نے مسلم خواتین سے ہمدردی کا نیا ڈھونگ رچا ہے۔ بی جے پی دراصل ہندو راشٹر کے ایجنڈہ کے مطابق ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی خواہاں ہے ۔ اس سلسلہ میں پیشرفت کے تحت طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کی سازش ہے۔ لوک سبھا میں یہ بل منظور ہوچکا ہے، مجوزہ پارلیمنٹ سیشن میں راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے گزشتہ چار برسوں میں کسی بھی اسٹیج سے رام مندر کا مسئلہ نہیں چھیڑا۔ اگرچہ یہ مسئلہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں شامل ہے لیکن مودی نے اس کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ایودھیا میں سادھوؤں کی تنظیمیں رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن مودی نے یوگی کے ذریعہ انہیں صبر کی تلقین کرائی ۔ پروین توگاڑیہ وشوا ہندو پریشد سے علحدگی کے بعد رام مندر مسئلہ پر حکومت کے خلاف مہم میں مصروف ہیں۔ دراصل مودی جانتے ہیں کہ وہ بھی رام مندر کی تعمیر کا کام انجام نہیں دے سکتے۔ لہذا مسلمانوں کی شریعت سے جڑے مسائل کو ہوا دے کر ہندو ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مودی میں اگر ہمت ہو تو وہ رام مندر کی تعمیر پر اپنی رائے اظہار کریں۔

انتخابات میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے نریندر مودی کی زندگی کو خطرہ ہونے کا ہوا کھڑا کیا گیا ۔ نئے سیکوریٹی نظام کے تحت مودی حکومت کے وزراء بھی راست طور پر وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرپائیں گے ۔ وزراء اور پارٹی قائدین سے ان کی اس دوری کا مقصد عوامی ہمدردی کا حصول ہے۔ آج تک یہ واضح نہیں ہوا کہ مودی کو آخر کس سے خطرہ ہے؟ کسی بھی تنظیم نے وزیراعظم کو دھمکی نہیں دی۔ ہاں مودی کو 2019 ء یا اس سے قبل امکانی وسط مدتی انتخابات میں رائے دہندوں سے خطرہ ضرور ہوسکتا ہے جو بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے بے چین ہیں۔ ملک میں صورتحال یہ ہے کہ مسلمان کو دہشت گرد اور دلت کو نکسلائیٹس کا لیبل لگاکر سماج کو تقسیم کردیا گیا۔ صرف سنگھ پریوار ہی ملک کا وفادار باقی رہ چکا ہے اور دوسرے تمام ملک کے غدار ہیں۔ اگر نریندر مودی کو حکومت کے کارناموں اور اپنی مقبولیت بھروسہ ہے تو پھر انہیں وسط مدتی انتخابات کی کیا ضرورت ہے۔ دوسری طرف مودی حکومت نے سیاسی مقصد برار ی کیلئے فوج کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔ ستمبر 2016 ء میں پاکستانی فوج کے خلاف کئے گئے سرجیکل اسٹرائیک کا ویڈیو دو سال بعد جاری کرتے ہوئے مودی حکومت اپنی پامردی اور بہادری ثابت کرنا چاہتی ہے۔ فوج کو سیاسی مقصد براری کیلئے استعمال کر نا مناسب نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ فوج نے دشمن کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک صرف مودی حکومت کے دور میں انجام دیا ہو۔ سابق میں کئی سرجیکل اسٹرائیک کئے گئے لیکن فوجی حکمت عملی کے تحت ایسی کارروائیوں کو راز میں رکھا جاتا ہے ۔ 2016 ء کے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پاکستان کی دراندازی اور ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ ستمبر 2016 ء کے بعد سے 146 ہندوستانی جوان شہید ہوئے اور پاکستان نے 1600 سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ۔ ایسے میں نریندر مودی کس بہادری پر ناز کرنا چاہتے ہیں ۔ اپوزیشن میں رہ کر بی جے پی بارہا مطالبہ کرتی رہی کہ پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو واپس حاصل کیا جائے ۔ گزشتہ چار سال سے آپ اقتدار میں ہیں لیکن اس طرح کی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔ مقبوضہ کشمیر کو آخر واپس لیا جائے گا۔ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دینے کا عزم رکھنے والے نریندر مودی کارروائی کے بجائے درپردہ دوستی کا ہاتھ دراز کئے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں شنگھائی کانفرنس میں مودی نے پاکستان کے صدر ممنون حسین سے مصافحہ کیا ۔ اگر یہی مصافحہ راہول گاندھی کرتے تو انہیں ’’دیش دروہی‘‘ قرار دیا جاتا ۔ مودی حکومت کا دہرا معیار کب تک چلے گا ۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی امریکی دباؤ میں ہے اور کسی بھی پڑوسی سے ہندوستان کے تعلقات اچھے نہیں ہے ۔ مالدیپ سے چین تک ہر ایک ملک سے کچھ نہ کچھ تلخیاں برقرار ہیں۔ ناکام خارجہ پالیسی کے باوجود مودی فوج اور فوجی کارروائیوں کو سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ حامد بھنساولی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے۔
بلندی کا بہت ارمان ہے کیا
نظر دوڑا پروں میں جان ہے کیا

TOPPOPULARRECENT