Wednesday , November 22 2017
Home / اداریہ / بلوچستان کوئٹہ میں دھماکہ

بلوچستان کوئٹہ میں دھماکہ

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں ہولناک خون ریز دھماکہ میں 71 شہری ہلاک، اس سے زائد زحمی ہوئے۔ بلوچستان کے علاقہ میں دہشت گردی، تشدد اور بم دھماکوں کی ایک بدترین تاریخ پائی جاتی ہے۔ حکومت پاکستان کو اس صوبہ کی سلامتی و قانون کو یقینی بنانے میں جن مشکلات کا سامنا ہے، ان میں مقامی سطح پر پائی جانے والی شورش پسندی ہے۔ اس صوبہ میں مختلف عنوانات سے تشدد بھڑکتا رہتا ہے۔ اب تو یہاں سیاسی اور سماجی حالات مزید ابتر ہوئے ہیں۔ اس علاقہ کی پسماندگی کو دور کرنے میں ناکام حکومتوں کو ہمیشہ مختلف شکایات کا سامنا رہا ہے۔ بلوچستان میں سلامتی کا بحران دیرینہ ہے مگر حکومت کے پاس ایسا کوئی تیر بہ ہدف نسخہ نہیں ہے کہ وہ عوام کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بناسکے۔ یہاں کے جو حالات ہیں، ان سے نمٹنے کے لئے حکومت کی جانب سے ہمہ رخی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی میں یہاں کئی واقعات کے ذریعہ امن کو درہم برہم کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے صرف سکیورٹی کو چوکس کرنے اور تشدد، دھماکوں کے واقعات کے پیچھے کسی بیرونی عناصر کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کرکے خاموش ہوجانے کی عادت اسے صوبہ بلوچستان کو خون ریزی کے واقعات سے بھر دیا ہے۔ پاکستان کے ماباقی حصوں کی طرح بلوچستان پر سرکاری عدم توجہی کی شکایت بھی عام ہے۔ یہاں گروہ واریت اور مخالف حکومت جذبات کو بھڑکانے والے عناصر بھی زیادہ ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کو کچلنے میں ناکامی کی وجہ سے یہاں ہر کونے میں انتہا پسند سرگرمیوں کے لئے دہشت گرد تنظیموں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ لشکر جھانگوی جیسی تنظیمیں ہی یہاں علیحدگی یا گروہ واریت کا زہر پھیلاکر امن و امان کو خطرہ اور انسانی جانوں کے لئے ہولناکیاں پیدا کرتی ہیں تو یہ افسوسناک بات ہے کہ پاکستان کا یہ صوبہ اس طرح کی ہولناک بربریت انگیز کارروائیوں سے شدید متاثر ہے۔ ایک سیول ہاسپٹل میں حملہ کرکے 71 سے زائد انسانوں کی جان لینے والے عناصر کے ذہنوں میں کیا بات پیوست ہوسکتی ہے، یہ ہر انسانی دل رکھنے والا شخص محسوس کرسکتا ہے۔

 

غیرمسلح نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی طرح سے جائز نہیں کہلاتا۔ دہشت گرد عناصر اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بناکر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ معلوم نہیں۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں وکلاء کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ وکلاء اپنے بلوچستان بار کے صدر بلاول انور کاسی کا آخری دیدار کرنے کے لئے دواخانہ میں جمع تھے۔ بلاول کو دہشت گردوں نے ہی گولی مارکر ہلاک کیا تھا۔ ان دہشت گردوں نے اس سیول ہاسپٹل میں خودکش دھماکہ کرکے کئی جانیں ضائع کردی۔ اس طرح کی کارروائیوں کو ختم کرانے کے لئے حکومت پاکستان کو موثر رول ادا کرنے سیول حکومت کے ساتھ فوجی طاقت کو سختی سے روبہ عمل لانے کی ضرورت ہے۔ وکلاء نے اس سانحہ کوئٹہ کے خلاف پاکستان میں ہڑتال اور سوگ کا اعلان کیا۔ داعش اور ممنوعہ تنظیم الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی اور اس طرح کے مزید حملے کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ حکومت کے لئے یہ دھمکی ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکمراں گروپ کو چاہئے کہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی تمام تنظیموں اور گروپس کو سبق سکھانے کے لئے اپنے اختیارات بروئے کار لائے، مگر پاکستان کی سیول حکومت نے اب تک ایسا جوانمردانہ مظاہرہ نہیں کیا ہے جس سے دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوجائیں۔ ان دہشت گرد تنظیموں کو ملنے والی طاقت نے ہی حوصلوں کو بڑھاوا دیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے اس حملے کے بعد یہ بیان دے کر اپنے عوام کے عزم کی ستائش کی ہے کہ دہشت گرد جمہوریت کے ستونوں پر حملے کررہے ہیں، تاہم دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم کا عزم غیرمتزلزل ہے۔ یہ دہشت گرد ہر اس ادارے سے نفرت کرتے ہیں جو پاکستان کی سیاست کا لازمی جز ہے۔ دہشت گرد اپنے منحرف نظریے سے ملک اور معاشرہ کو نشانہ بناکر بدامنی کا شکار بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اب تک کئی کارروائیاں کی ہیں، اس میں آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان بھی شامل ہیں مگر ان بڑے پیمانے کی کارروائیوں کے باوجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے میں کامیابی نہیں ملی۔ پاکستان کو اقتصادی طور پر فعال اور سیاسی طور پر مستحکم ملک قرار دینے والے وزیراعظم کو یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ دہشت گردوں کی طاقت اور ان کے وسائل کتنے مضبوط اور قوی ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کو سیاسی سرپرستی ملتی ہے تو اس کے نتائج اس طرح لہولہان واقعات کی شکل میں سامنے آتے رہیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور فوج سنجیدگی سے ایکشن پلان پر عمل کرے۔

TOPPOPULARRECENT