Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / بلڈر کا قتل کیس:ابو سالم کو سزائے موت کیلئے استغاثہ کا زور

بلڈر کا قتل کیس:ابو سالم کو سزائے موت کیلئے استغاثہ کا زور

ممبئی ۔ 17 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) استغاثہ نے آج بیرون ملک سے حوالگی مجرمین معاہدے کے تحت لائے گئے ابو سالم کیلئے بلڈر پردیپ جین قتل کیس میں سزائے موت چاہئے جبکہ وکلائے صفائی نے استدلال پیش کیا کہ اس سے پرتگال کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی۔ خصوصی ٹاڈا عدالت نے کل سالم، اس کے ڈرائیور مہدی حسن اور بلڈر وریندر جھامب کو 1995 ء میں

ممبئی ۔ 17 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) استغاثہ نے آج بیرون ملک سے حوالگی مجرمین معاہدے کے تحت لائے گئے ابو سالم کیلئے بلڈر پردیپ جین قتل کیس میں سزائے موت چاہئے جبکہ وکلائے صفائی نے استدلال پیش کیا کہ اس سے پرتگال کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی۔ خصوصی ٹاڈا عدالت نے کل سالم، اس کے ڈرائیور مہدی حسن اور بلڈر وریندر جھامب کو 1995 ء میں پیش آئے قتل کیلئے مجرم قرار دیا ہے۔ اسپیشل پبلک پراسکیوٹر اُجول نکم نے عدالت کو بتایا کہ ملزم (سالم) نے نہ صرف جین کو ہلاک کیا بلکہ اسے قتل کرنے کی گھناؤنی حرکت سے محظوظ بھی ہوا اور یہ حرکت بربریت قرار پاتی ہے۔ وہ انسانی جان کے تئیں بالکلیہ بے پرواہ رہا اور اس طرح کے رجحان کو روکنے کیلئے کوئی عبرت انگیز سزا دینے کی ضرورت ہے۔ اس کیس کو انوکھے ترین میں انوکھے زمرے کا قرار دیتے ہوئے نکم نے سالم کو ’کرایہ کا قاتل‘ ، ’موت کا سوداگر‘ اور ’انڈر ورلڈ گروہ کا لیڈر‘ جیسے منفی القاب دیئے۔ سالم کے وکیل ایڈوکیٹ سدیپ پاسبولا نے دلیل پیش کی کہ استغاثہ نے عدالت کے روبرو تمام حقائق پیش نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کو سزائے موت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ یہ حکومت پرتگال کے ساتھ اس معاہدہ کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت سالم کو لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2002 ء میں اسی کیس میں کرایہ کے قاتلوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے ان کیلئے سزائے موت تجویز نہیں کی تھی۔ جج جی اے سناپ وکلائے صفائی کے دلائل کی کل سماعت جاری رکھیں گے۔

TOPPOPULARRECENT