Wednesday , July 18 2018
Home / شہر کی خبریں / بنڈیوں پر ناشتہ ، ہوٹلوں میں کھانے خاندانی روایات اور تہذیب کو ختم کررہے ہیں

بنڈیوں پر ناشتہ ، ہوٹلوں میں کھانے خاندانی روایات اور تہذیب کو ختم کررہے ہیں

حیدرآباد ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد جو کبھی تہذیب اور اپنی پہچان کے لیے دنیابھر میں انفرادی شناخت اور مقبول تھا اب یہ بھی دیگر شہروں کی طرح اپنی شناخت اور تہذیب کھو رہا ہے ۔ چند دہے قبل گھروں میں افراد خاندان کے ساتھ ناشتہ اور رات کا کھانا دسترخوان پر ہوا کرتا تھا اب یہ دسترخوان نہ صرف گھروں سے ختم ہوچکے ہیں بلکہ گھریلو خواتین بھی افراد خاندان کے لیے اپنے ہاتھوں سے لذیذ کھانے پکا کر انہیں خوشی فراہم کرنے کے علاوہ پکوان میں اپنے فن کی داد و تحسین حاصل کرتی تھیں وہ بھی اب ’ باہر سے لا کر کھالو ‘ کا جملہ ادا کرنے میں اپنی عافیت محسوس کررہی ہے ۔ گھروں میں ناشستہ کا رواج کس طرح ختم ہوچکا ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے صرف بیگم بازار کا مخصوص دوسہ کی مثال کافی ہے ۔ ویسے تو دوسہ اور اس طرح کی غذائیں اشیاء ہر محلے میں بنڈیوں اور ٹفن سنٹرس پر بہ آسانی مل جاتی ہیں لیکن بیگم بازار کا دوسہ اپنی ایک انفرادی شناخت بناچکا ہے ۔ یہ دوسہ اب صرف بیگم بازار میں ہی مشہور نہیں بلکہ یہ اطراف کے علاقوں نامپلی ، عابڈس ، چارمینار اور عثمان گنج سے اپنی سرحدیں بڑھتے ہوئے سکندرآباد ، مہدی پٹنم ، اپل ، فلک نما ، ٹولی چوکی اور ہائی ٹیک سٹی کے علاقوں تک پہنچ چکا ہے ۔ روایتی دوسہ کے برعکس یہ دوسہ سائز میں چھوٹا اور باریک ہوتا ہے ۔ جس کے ساتھ پیاز ، ٹماٹر اور مکھن فراہم کرنے کے علاوہ اس پر سجاوٹ کے لیے پیاز اور آلو کا سالن بھی دیا جاتا ہے ۔ عابڈس پر موجود سواد ٹفن سنٹر پر یہ دوسہ بنانے والے کرشنا نے کہا کہ ہم جو دوسہ بناتے ہیں وہ روایتی دوسہ کی بہ نسبت باریک اور زیادہ مزے دار ہوتا ہے کیوں کہ اس پر محلول نما اکما اور پیاز کے ساتھ مکھن بھی دیا جاتا ہے ۔ مہدی پٹنم کے ٹفن سنٹر کے باورچی وکرم نے کہا کہ روایتی دوسہ کی بجائے بیگم بازار دوسہ کو ترجیح دینے کی اہم وجہ اس کے مزے دار ہونے کے علاوہ قیمت صرف 20 روپئے ہے جو کہ روایتی دوسہ 30 روپئے کی بہ نسبت 10 روپئے کم ہے ۔ شہر حیدرآباد میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں افراد خاندان اپنی خواتین کے ہاتھوں سے بنے لذیذ اور روایتی کھانوں کو ترجیح دینے کے برعکس ہوٹلوں اور بنڈیوں کا رخ کررہے ہیں ۔ جس سے نہ صرف افراد خاندان کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ خاندان اور خاندانی روایات کا تصور بھی ختم ہورہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT