Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / بنکاک بم حملوں کا ملزم عدالت میں رو پڑا

بنکاک بم حملوں کا ملزم عدالت میں رو پڑا

میں انسان ہوں ، حیوان نہیں ، پولیس اذیت کی شکایت
بنکاک ۔ /17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چین کے دو ایغور مسلمانوں میں ایک نے جن پر تھائی لینڈ کے برہمامندر پر بم حملے کا الزام ہے ، آج عدالت میں چیخ چیخ کر کہا کہ ’’وہ ایک انسان ہے ،حیوان نہیں‘‘ ۔ یہ کہتے ہوئے وہ روپڑا ۔ بلال احمد عرف آدم کرداخ اور یوسف میرعلی پر اگست 2015 ء میں برہمامندر پر بم حملے کا الزام ہے جس میں 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ 31 سالہ بلال محمد کو آج ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت لایا گیا اور اس کا سر بھی مونڈھ دیا گیا تھا ۔ فوجی عدالت میں لے جاتے وقت اس نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ میں جانور نہیں ہوں بلکہ ایک انسان ہوں ۔ اس نے بعد ازاں عدالت میں بتایا کہ اس کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک اختیار کیا جارہا ہے اور حلال غذا سے محروم رکھا گیا ہے ۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ وہ کھا نہیں سکتا اور اس کے نماز پڑھنے پر سب ہنستے ہیں ۔ ان دو ملزمین نے بم دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے ۔ بلال محمد کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ تھائی لینڈ پولیس نے ان کے موکل کو اعتراف جرم کیلئے مجبور کیا ہے ۔ اس بم حملے کی ذمہ داری کسی بھی گروپ نے قبول نہیں کی ہے ۔ بعض تجزیہ نگاروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ایغور علحدگی پسندوں کی یہ کارستانی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ گزشتہ سال جولائی میںتھائی لینڈ کی جانب سے 100 سے زائد ایغور مسلمانوں کو زبردستی چین کے حوالے کرنے پر برہم تھے ۔ عہدیداروں نے یہ حملہ انتقامی کارروائی ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ۔ ایغور مسلمانوں کوآبائی مقام شمال مغربی چین میں مذہبی آزادی حاصل نہیں اور کئی تحدیدات کا سامنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT