Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / بنک کا سود اور مسلمان

بنک کا سود اور مسلمان

 

محمد عثمان شہید، ایڈوکیٹ
کسی قوم کی تباہی و بربادی مقصود ہوتو اللہ سب سے پہلے اس کی عقل سلیم چھین لیتا ہے۔ وہ بصارت کی بیش بہا دولت سے مالا مال ہوتا ہے لیکن مستقبل میں جھانک نہیں سکتا۔ وہ نعمت سماعت سے سرفراز کی جاتی ہے لیکن مستقبل کی آہٹ سن نہیں سکتا۔ وہ قوت گویائی رکھتے ہوئے بھی موجودہ حالات پر اپنی زبان کھولنے پر قادر نہیں، وہ مفلوج ہے۔ وہ دل رکھتا ہے جو تڑپنے سے محروم ہے۔ وہ کلیجہ رکھتا ہے جو مسلمانوں کی مظلومیت پر منہ کو نہیں آتا۔ اس کی آنکھ مسلمانوں کی حالت زار پر کبھی نہیں روتی
دلوں کو دہلادینے والی تقریریں، ضمیر کو جھنجھوڑدینے والی تحریریں ایسے برف کے آدمیوں پر وہی اثر رکھتی ہیں جو پانی برف پر گرنے سے ہوتا ہے۔ اپنے کاروبار اپنی وکالت اپنے پیشۂ طب اپنی ملازمت میں مصروف زندگی گزارنے والے یہ غور کرنے کی زخمت گوارہ نہیں کرتے کہ وہ جس قوم، مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس وقت مسائل کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ وہ کانٹوں کے بستر پر لوٹ رہی ہے۔ اس کی کشتی حیات مسائل کے گرداب میں پھنسی تہہ آب ہونے موت کا رقص کررہی ہے۔ آج مسلمانوں کی اکثریت صرف اور صرف دولت کمانے میں مصروف ہے خواہ وہ حلال ہو کہ حرام۔ وہ اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرنا اپنا مقصد حیات سمجھ رہے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اونچی عمارتوں پر غرور کرنے والی قوم عاد کو اللہ نے کس طرح لوح زندگی سے حرف غلط کی طرح مٹادیا تھا۔
اخبار سیاست میں جس کا عین مقصد مسلمانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنا ہے۔ ان کے مضمحل قوائے عمل کو پھر ایک بار متحرک کرنا ہے۔ ان کے عقل پر جمی ہوئی برف کو قلم کی آگ سے پگھلانا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہر اتوار کے ایڈیشن میں قوم کو بیدار کرنے مختلف اہل قلم کے نگارشات شائع کئے جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک مضمون محترم شفیق الزماں صاحب آئی اے ایس کا بینک کے سود کے تعلق سے گزشتہ اتوار نظر نواز ہوا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ محترم نے میرے دل کی آواز کیسے سن لی۔ میں خود بھی اس مسئلہ پر قلم اٹھانا چاہتا تھا۔ خصوصاً اس حقیقت کے آشکار ہونے کے بعد کہ مسلمان جو اپنے بنک کے کھاتوں میں سود کے نام پر جمع شدہ رقم حاصل کرنا حرام سمجھتے ہیں اس سے آر ایس ایس اور تروپتی کے نادر منفعت حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن خوف یہ تھا کہ کہیں مولوی حضرات مفتیان کرام علماء محترم میرے خلاف کفر کا فتوی جاری نہ کردیں۔ میں منتظر تھا کہ دیکھیں کون بلی کے گلے میں گھنٹی باندھتا ہے۔ خدا خیر کرے محترم شفیق الزماں نے یہ جرأت رندانہ کا مظاہرہ کیا۔
اس مضمون کی اشاعت کے بعد میں منتظر تھا کہ کوئی ان کے مضمون کے خلاف یا موافقت میں اپنا مراسلہ ایڈیٹر صاحب کو روانہ کرے گا لیکن ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی مسلمانوں پر اس آنکھ کھولنے دلوں کو تڑپانے والی تحریر کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ نہ ہی مسلمانوں نے ایسے سلگتے ہوئے مسئلہ پر غور کرنے کی زحمت کی۔ واہ رے مسلمان واہ!
ہمارے اس مضمون کو تحریر کرنے کا مقصد یا پھر شفیق الزماں صاحب کی تائید کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ہم سود کو حلال قرار دیتے ہیں! گزارش یہ ہے کہ مسلمان اپنی بنک میں جمع شدہ رقم پر سود سے رضاکارانہ دستبردار ہوتے ہیں اس کو حرام قرار دے کر ہاتھ لگانا گوارہ نہیں کرتے۔ کسی مقصد کے لیے اس کو حاصل کرنا بھی حرام سمجھتے ہیں تو پھر اس رقم کو دشمن کے ہاتھ جانے دیں یا پھر کوئی اچھے کام کے لیے استعمال کیا جائے خواہ نیکی ملے نہ ملے۔ کیا اس مسئلہ پر ہم مل بیٹھ کر کوئی راہ نہیں نکال سکتے؟ کیا ہم گوارہ کرلیں کہ یہ رقم فسطائی قوتوں کے ہاتھ میں چلی جائے تاکہ وہ اپنے مذموم منصوبوں کی تکمیل کے لیے اس کو استعمال کریں؟
قطع نظر اس حقیقت کہ سود حرام ہے ہم اپنے ہی سود کے نام پر اپنے بنک کھاتوں میں جمع شدہ رقم سے ہماری لولی لنگڑی اندھی بہری اپاہج مجبور مقہور مظلوم مفلس فقیر جاہل بھکاری یتیم یسیر قوم اور بیوہ یا پھر شوہر کے ہاتھوں ستائیش ہوئی مظلوم خواتین کی مدد نہیں کرسکتے!؟
یہ صحیح ہے کہ حرام آمدنی سے کسی کی مدد کی جائے تو ہم نیکی نہیں حاصل کرسکتے۔ لیکن ہم نیکی کے مطلوب کیوں ہیں!؟ نیکی ہزارہا طریقوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ جیسے ماں کو محبت کی نظر سے دیکھیں تو ایک حج کا ثواب ہے۔ اگر دن میں سو مرتبہ دیکھیں تو سو حج کا ثواب ہے۔ بیوی سے ہنس کر گفتگو کریں تو نیکی ہے۔ یتیم کے سرپر ہاتھ پھیریں اس کے سرپر جتنے بال ہیں اتنے نیکیاں ملیں گی۔ بچوں کو تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ لیجائیں تو نیکی ملے گی۔ گھر کے لیے سودا سلف لائیں تو نیکی۔ پڑوسی سے اچھی بات کریں تو نیکی۔ مسلمان سے مصافحہ یا معانقہ کریں تو نیکی پڑوسی کے کام میں مدد کریں تو نیکی۔ کسی کو قرض حسنہ دیں تو نیکی۔ کسی کی مدد کریں تو نیکی۔ مریض کی عیادت کریں تو نیکی۔ بھوکے کو کھانا کھلائیں تو نیکی۔ ننگے کو کپڑا پہنائیں تو نیکی۔ بیوی کی مدد کریں تو نیکی۔ غریب طلباء و طالبات کی مدد کریں تو نیکی۔ کسی کو خیرات دیں تو نیکی۔ راستے سے پتھر ہٹادیں تو نیکی اور کیا لکھوں؟ اللہ ہر ہر قدم پر ہم کو نیکی کی دولت سے سرفراز کرتا ہے۔ پھر سود کی رقم دینے پر ہم کو نیکی نہ بھی ملے تو کیا غم ہے؟ لیکن ہماری قوم کے مستحق افراد کی مدد کسی بھی ذرائع سے ہو یہ آج کا اہم مشن ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ مسلمان فراموش کرچکے ہیں کہ سود کے نام جو جمع شدہ رقم حاصل کرنے سے اجتناب کررہے ہیں وہ کروڑوں سے زائد ہے۔ ہم نے ایک بنک منیجر سے ان کے ریٹائر ہونے پر پوچھا تھا کہ یہ سود کی رقم کس مد میں جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم آر ایس ایس یا پھر تروپتی کو جاتی ہے۔ فرض کیجئے کہ بنک منیجر کا بیان غلط ہے تو یوں سمجھئے کہ مسلم دشمن تنظیمیں بینک سے قرض لے کر اپنے منصوبوں کی تکمیل نہیں کرسکتیں۔ اگر ہماری منجمد رقم سود سے ایسا قرض ان تنظیموں کو دیا جائے تو کیا ہم بالواسطہ ان تنظیموں کے ہاتھ مضبوط نہیں کررہے ہیں۔ کیا اس رقم سے قرض لے کر وہ تلوار خریدی نہیں جائے گی جو آپ کا گلا کاٹ دے۔ آپ کی انتڑیاں باہر نکال دے۔ آپ کی حاملہ ماں، بہن بیٹی بیوی کا حمل چاک کردے۔ نو زائدہ بچوں کو تکڑے تکڑے کردے۔ آگ میں پھینک یا انہیں نیزوں پر اچھال دے۔ پیٹرول یا گیاس کا تیل یا گیس کے سلنڈر خریدے نہیں جائیں گے جو آپ گھروں، جائیدادوں، دوکانوں، کھیتوں، درگاہوں کو نذر آتش کردے۔

کتنے ایسے مسلم ادارے ہیں جن کی رقومات بنکوں میں جمع ہے۔ بنک کے منیجر اس رقم کو دوسروں کو سود پر دیئے ہیں گویا آپ منیجر کے ذریعہ اپنی رقم سود پر قرض دے رہے ہیں۔ کیا بینک منیجر آپ کی رقم یا نوٹوں کا نمبر لکھ لیتے ہیں۔ تاکہ وہی نوٹ آپ کو عند الطلب واپس کردیں۔ یقینا آپ کی رقم ’’سودی‘‘ کاروبار میں مشغول کردی جاتی ہے۔ کیا ہم کبھی اس پہلو پر غور کیا ہے؟ کیا ہم نے سودی قرض کی بنیاد پر مکانات دوکانات کاروبار، فلیٹس کارخانے پلاٹ خریدنے والوں کی اعانت کی کہ نہیں !؟
اناج خریدا اور بیچا جاتا ہے بینک کے قرض پر۔ دوائیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں بینک کے قرض پر۔تعلیمی ادارے چلائے جاتے ہیں بینک کے قرض پر۔ بنک کے ملازمین تنخواہ حاصل کرتے ہیں بنک کے سودی معاملات سے حاصل شدہ سود سے۔ ایسے کئی مسائل ہیں جن پر ہمیں غور کرنا ہے۔ ان مسائل سے ماورا ہمیں پپڑی جمے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانا ہے۔ ننگے بچوں کے جسم کو ڈھکنا ہے۔ فاقہ زدہ مسلمانوں کے پیٹ بھرنا ہے۔ نادر طلباء کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ بے سہارا مریضوں کا علاج کروانا ہے۔
یاد رہے کہ سرسید احمد خاں نے علی گڑھ یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے طوائفوں سے بھی چندہ لیا تھا جو ایک کثیر رقم تھی۔ علماء نے اعتراض کیا کہ یہ رقم حرام ہے۔ تو سرسید نے اس رقم سے یونیورسٹی میں بیت الخلاء تعمیر کردیئے جو سب سے خوبصورت ہیں۔
اس لیے وقت کا تقاضہ ہے خصوصاً جبکہ ہندوستان کو ہندو راشٹرا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو مشرک بنانے کا منصوبہ ہے، ہم بنک کے سود کے استعمال پر علماء مفتیان کرام، فضلاء، دانشوروں، وکلاء، تجا، آجرین ا ور عام مسلم مرد و خواتین کا ایک اجلاس طلب کریں تاکہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں کہ کہاں تک ایسی رقم سے ہم مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبہ سازی کرسکتے ہیں۔ ورنہ ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘۔

TOPPOPULARRECENT