Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / بنگالی بولنے والے افراد کو آسام سے نکالنے کی سازش: اپوزیشن

بنگالی بولنے والے افراد کو آسام سے نکالنے کی سازش: اپوزیشن

این آر سی کے بہانے بنگالی باشندوں کیخلاف سازش کا الزام ’’بے بنیاد‘‘:وزیر داخلہ
نئی دہلی، 4 جنوری (یو این آئی) حکومت نے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس( این آر سی ) کے نام پر بنگالی باشندوں کو ریاست سے بھگانے کی سازش کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے آج یقین دہانی کرائی کہ پہلی فہرست میں جن کے نام چھوٹ گئے ہیں وہ دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں اور ہر ایک معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران اس معاملے پر ترنمول کانگریس اور کانگریس کے ارکان کے ہنگامے کے درمیان وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بیان دے کر ایوان کو اس سلسلے میں یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ “آسام میں این آر سی کا کام سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہا ہے ۔ پہلی فہرست میں ایک کروڑ 90 لاکھ لوگوں کا نام آیا ہے ۔ جن کا نام نہیں آیا ہے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے “۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے اپوزیشن کے الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا نام چھوٹ گیا ہے تو وہ درخواست دے سکتا ہے ۔ ہر معاملے میں مکمل چھان بین کی جائے گی۔ اس سے پہلے جیسے ہی وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن رکن شور مچانے لگے ۔ ان کا کہنا تھا کہ این آر سی کے ریاست سے بنگالی باشندوں کو بھگانے کی کوشش ہے ۔ اس کے بعد مسٹر راجناتھ سنگھ نے کھڑے ہو کر بیان دیا۔ بیان کے بعد بھی اپوزیشن ارکان نے تھوڑا بہت ہنگامہ کیا، لیکن پھر وہ خاموش ہو گئے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف منسٹر آسام سربانندا سونووال نے بیان دیا تھا کہ ایسے افراد جن کا نام نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کے ڈرافٹ کے پہلے مرحلے میں شامل نہیں ہے، انہیں کسی بھی قسم کی تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں کسی کے بھی ساتھ مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا اور ہر ایک کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت پیش کرسکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے انسانی بنیادوں پر ایک ایسے میکانزم پر کام کیا جارہا ہے کہ ایسے افراد جن کا نام این آر سی کی قطعی فہرست کے بعد بھی موجود نہ ہو، تو ایسے غیرقانونی افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے بنگالی زبان بولنے والے باشندوں کے خلاف مہم چلاتے ہوئے 2016ء میں اسے ووٹ بینک کا مسئلہ بنادیا۔

TOPPOPULARRECENT