Sunday , February 25 2018
Home / ہندوستان / بنگال :اُردو اساتذہ کے بحران کیلئے اُردو اداروں کے سربراہ ذمہ دار

بنگال :اُردو اساتذہ کے بحران کیلئے اُردو اداروں کے سربراہ ذمہ دار

حکومت سیکولر اور اُردو نواز۔فنڈز ،مشاعرہ ، سیمینار،قوالیوں پر برباد کردیئے جاتے ہیں: شمیم احمد

کولکتہ ۔6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال میں اردو اسکولوں میں اساتذہ کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے سربراہ شمیم احمد نے کہا کہ حکومتی سطح پر اردو کی نمائندگی کرنے والوں نے کبھی بھی وزیر اعلیٰ کے سامنے اردو اسکولوں اور اردو کے مسائل کو پیش ہی نہیں کیا اور اس کا نتیجہ ہے کہ اسکولوں کے بند ہونے کی خبر آرہی ہے ۔شمیم احمد نے کہا کہ بنگال کی وزیر اعلیٰ سیکولر مزاج کی حامل اور اردو نواز ہیں ۔لیکن حکومتی سطح پر اردو طبقے کی نمائندگی کرنے والوں نے اردو کے فنڈ کو مشاعرے ، سیمینار، قوالی جیسے پروگرام پر کروڑوں روپے لٹادیے اور اردو کا فروغ کیسے ہو، نئی نسل میں اردو پڑھنے کا رجحان کیسے پیدا ہو اور اردو اسکولوں کی حالت میں بہتری کیسے آئے اس پر سنجیدگی سے کبھی بھی غور و فکر نہیں کیا گیا۔2013کے بعد اردو جونیر سیکنڈری، سیکنڈری اور ہائی سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ کی بحالی نہیں ہوئی مگر اردو برادری خاموش رہی ۔ کامرس اور سائنس کے سیکشن کا بند ہونے کا مطلب ہے کہ اردو کے طلباء سائنس و کامرس کے شعبے میں ترقی نہیں کرپائیں گے ۔مغربی بنگال میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کیلئے ایک دہائی تک عوامی جد و جہد کرنے والے قائد اردو شمیم احمد نے کہا کہ بنگال میں 30برسوں سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کیلئے کوشش کی جارہی تھی مگر آخری دس سال میں ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے عوامی سطح پر تحریک چلائی اور اہل اردو کی جدو جہد کے نتیجے میں ممتا بنرجی نے 2011ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ہی اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کی تجویز کو کابینہ سے منظوری دیدی مگر ہم لوگ اس وقت تک جدو جہد جاری رکھا جب تک بنگا ل اسمبلی میں لنگویج ایکٹ میں تبدیلی کرکے قانون کا درجہ نہیں دیدیا گیا۔مگر اس کے بعد ہماری تحریک ختم ہوگئی اور ہمیں امید تھی کہ اردو اداروں سے وابستہ افراد اردو کے فروغ اور استحکام کیلئے کام کریں گے مگر نتیجہ سامنے ہے ۔ایک طرف ہم اس بات کا برملا اعلان کرتے ہیں کہ اردو اکیڈمی کا سالانہ بجٹ چند لاکھوں میں ہوتا تھا آج 14کروڑ روپے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ اس فنڈ کا استعمال کہاں ہورہا ہے ؟ اور اس فنڈسے کتنے افراد فیض یاب ہورہے ہیں ؟شمیم احمد نے کہا کہ مشاعرے ، سیمینار اور کتابوں کی اشاعت ضروری ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہی ہماری ترجیحات ہیں ؟ یا اردو کا فروغ ہمارا مقصد ہے ۔

مشاعرے ہماری تہذیبی وراثت کا حصہ ہے مگر اردو کی قیمت پر نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک ایک شاعر کو سا ل میں کئی کئی مرتبہ مدعو کرکے لاکھوں روپے دینے کا حاصل کیا ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اردو اسکولوں میں ریزرویشن کا مسئلہ سنگین ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اردو اسکولوں کے ذمہ داروں نے روشٹر کوپوار کیا؟ ۔انہوں نے کہا کہ پریڈنسی مسلم ہائی اسکولوں جو آزادی کے قبل سے ہی کلکتہ کاتاریخی ادارہ تھا ۔یہاں سے کئی نامور شخصیتوں نے تعلیم حاصل کی ہے مگر آج صورت حال یہ ہے کہ صرف تین اور چار اساتذہ سے یہ اسکولوں چل رہا ہے ۔جب کہ ایک درجن اساتذہ کی سیٹ خالی ہے ۔قائد اردو شمیم احمد نے کہا کہ اردو اسکولوں کے اس بحران کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے میرے خیال سے مغربی بنگال اردو اکیڈمی ذمہ دار ہے اور اکیڈمی کے ذمہ داران یہ کہہ کر اپنے دامن کو نہیں بچاسکتی کہ اساتذہ کی بحالی اس کے دائرہ کار میں نہیں ہے ۔سوال یہ ہے کہ 14کروڑ روپے کے فنڈ سے اسکولوں کو عارضی طور پر اساتذہ تو فراہم کرسکتی تھی؟ آخر اس پر کیوں نہیں غور کیا گیا ؟

TOPPOPULARRECENT