Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / بنگلور میں شیرمیسور ٹیپوسلطان کی جشن تقاریب، احتجاجی مظاہرے

بنگلور میں شیرمیسور ٹیپوسلطان کی جشن تقاریب، احتجاجی مظاہرے

بی جے پی اور ہندو تنظیموں نے حکومت کے خلاف ریاست گیر دھرنے منظم کئے، بسوں پر سنگباری
بنگلورو۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق ریاست میسور کے 18 ویں صدی کے حکمراں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش تقاریب کا انتہائی سخت ترین سیکوریٹی انتظامات میں منائے گئے۔ اس موقع پر ریاست کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ ٹیپو کی وراثت پر منقسم رائے اور بڑھتے ہوئے سیاسی محرکات کے درمیان اپوزیشن بی جے پی اور متعدد ہندو تنظیموں نے حکومت کرناٹک کی طرف سے ٹیپو جینتی تقاریب کے انعقاد کی مخالفت میں ریاست گیر پیمانے پر احتجاج کیا۔ کرناٹک کے تمام ضلع ہیڈکوارٹرز پر بڑے پیمانے پر ٹیپوجینتی تقاریب کے انعقاد کے ذریعہ ٹیپو کی وراثت کی زبردست ستائش کی گئی۔ تمام اضلاع میں انچارج وزراء نے تقاریب میں حصہ لیا۔ اس موقع پر 54,000 پولیس اہلکاروں اور کرناٹک ریاستی ریزرو پولیس کے پلاٹونس نے مؤثر بندوبست کیا تھا اور ریاپڈایکشن فورس کے ساتھ سخت نظر رکھی گئی تھی۔ ضلع کوڈاگو میں جہاں دو سال قبل ٹیپوجینتی تقاریب کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں یہ ایک ایچ پی لیڈر فور ہوگیا تھا۔ یہاں آج اسٹیٹ ٹرانسپورٹ بسوں پر سنگباری کے چند واقعات پیش آئے۔ اس ضمن میں بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی اپاچورنجن سمیت 100 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ بی جے پی اور چند ہندوتوا تنظیموں کی اپیل پر گوڈاگو میں آج بند منایا گیا جہاں کل تک کیلئے امتناعی احکام نافذ کردیئے گئے۔ ٹیپوسلطان سابق ریاست میسور کے حکمراں تھے، جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے کٹر دشمن سمجھے جاتے تھے۔ وہ برطانوی فوج کے خلاف لڑائی میں اپنے سری رنگا پٹنہ قلعہ کی دفاع کرتے ہوئے مئی 1799 میں ہلاک ہوگئے تھے لیکن یہی ٹیپوسلطان ضلع گوڈاگو میں ایک حساس موضوع ہیں جہاں ایک جنگجو قبیلہ کوڈاوا (کورگی) یہ مانتے ہیں کہ ٹیپو کے قبضہ کے دوران ان کے ہزاروں مرد و خواتین کو قیدی بناتے ہوئے ایذاء رسانی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور زبردستی مذہبی تبدیلی کے ذریعہ مسلمان بنایا گیا تھا لیکن کئی مورخین ٹیپو کے خلاف ظلم و زبردستی کے ایسے واقعات سے اختلافات کرتے ہیں کئی مورخین ٹیپو کو ایک ایسا سیکولر اور مؤثر حکمراں تصور کرتے ہیں، جنہوں نے برطانیہ کی طاقت کو للکارا تھا۔ چتردرگ اور بیلگاوی میں بھی امتناعی احکام نافذ کئے گئے۔ بی جے پی کے کئی ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ نے ٹیپوجینتی تقاریب کا بائیکاٹ کیا لیکن ضلع بیلاری کے حلقہ وجیانگرا کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی ایم ایل اے آنند سنگھ نے ان تقاریب میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT