Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / بنگلور میں کمسن طالبہ کی عصمت ریزی کیخلاف احتجاج میں شدت

بنگلور میں کمسن طالبہ کی عصمت ریزی کیخلاف احتجاج میں شدت

بنگلور 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بنگلور شہر میں ہزاروں والدین اور احتجاجیوں نے اس اسکول سے پولیس اسٹیشن تک احتجاجی مارچ نکالا جہاں ایک 6 سال کی لڑکی کی مبینہ طور پر عصمت ریزی کی گئی تھی۔ احتجاجیوں نے طالبہ کے لئے انصاف اور خاطیوں کے خلیف فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ و

بنگلور 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بنگلور شہر میں ہزاروں والدین اور احتجاجیوں نے اس اسکول سے پولیس اسٹیشن تک احتجاجی مارچ نکالا جہاں ایک 6 سال کی لڑکی کی مبینہ طور پر عصمت ریزی کی گئی تھی۔ احتجاجیوں نے طالبہ کے لئے انصاف اور خاطیوں کے خلیف فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ و

یبگر ہائی اسکول میں زیرتعلیم طلباء کے والدین کے اس احتجاج میں عوام کی کثیر تعداد بھی شریک ہوگئی اور تمام افراد نے مارچ نکالتے ہوئے قریبی ایچ اے ایل پولیس اسٹیشن پہونچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جیسا کہ احتجاجیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ پولیس کمشنر کو موجود رہنا چاہئے۔ کمشنر پولیس راگھویندرا اورادکر اس مقام پر پہونچ گئے اور ان سے کہاکہ ہم کو بھی اس واقعہ سے شدید دُکھ ہوا ہے۔ پولیس پر بھروسہ کیجئے۔ اورادکر نے کہاکہ پولیس کو جس دن شکایت وصول ہوئی اس دن سے پولیس عہدیدار رات دن کام کرتے ہوئے کمسن طالبہ کے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ لڑکی کے والدین کی شکایت کے بعد ہم بھی اس کیس کو سختی سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ احتجاجیوں نے پولیس سربراہ سے اس کیس کی تحقیقات کی تفصیل جاننے کی کوشش کی اور کہاکہ اس کیس کے ملزم کی اب تک گرفتاری عمل میں کیوں نہیں لائی گئی۔ کمشنر پولیس نے کہاکہ اس مسئلہ پر بات چیت کرنے کے لئے آپ میں چند افراد کا چھوٹا گروپ مجھ سے مل سکتا ہے کیوں کہ تحقیقات کی رپورٹ کو برسرعام افشا نہیں کیا جاسکے گا۔

والدین کا یہ احتجاجی مارچ اسکول سے پولیس اسٹیشن تک پرامن رہا۔ بعض احتجاجیوں نے اس وقت اعتراض کیا جب سابق وزیر اور بی جے پی رکن اسمبلی اروند لمبادان مارچ میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ والدین نے ان پر زور دیا کہ وہ اس معاملہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کریں۔ ایڈیشنل کمشنر پولیس کمل پنتھ (لاء اینڈ آرڈر) نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ متاثرہ کمسن طالبہ کے والدین سے شکایت ملنے کے دن سے ہی ہمارے عہدیداران اس کیس کی چھان بین کررہے ہیں۔ اس تحقیقاتی ٹیم میں 20 عہدیدار مصروف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT