Thursday , November 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / بنگلور کے سرکاری ہاسپٹلس کی صورتحال نہایت خستہ

بنگلور کے سرکاری ہاسپٹلس کی صورتحال نہایت خستہ

زخمیوں کیلئے بیانڈیج تک نہیں، دلالوں اور عہدیداروںکی ملی بھگت سے دواؤں کی فرضی قلت

بنگلورو۔13ستمبر۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ـ رواں سال وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ریاست کے مختلف منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کیلئے 1.8لاکھ کروڑ روپیوں کا بجٹ پیش کیا۔ اس بجٹ میں محکمۂ صحت کیلئے بھی وافر فنڈز مہیا کروائے گئے ، لیکن سرکاری اسپتالوں میں صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ مریضوں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کیلئے بیانڈیج خریدنے کی رقم بھی اسپتالوں کے پاس نہیں ہے۔ خاص طور پر زخمیوں سے استپالوں کا عملہ واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ مرہم پٹی کیلئے بیانڈیج خود لائیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دواؤں کی سربراہی میں شامل دلالوں اور کچھ افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے یہ فرضی قلت پیدا کی گئی ہے، جبکہ اس معاملہ پر وزیر صحت رمیش کمار کی خاموشی کو معنی خیز مانا جارہا ہے۔ اس محکمہ کی پرنسپل سکریٹری شالنی رجنیش جن کے تعلق سے کہاجاتاہے کہ یہ ایک سخت آفیسر ہیں وہ بھی اس معاملے میں خاموش ہیں۔ ریاست بھر کے تقریباً 50 سرکاری اسپتالوں اور ایک ہزار سے زائد پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں مرہم پٹی کیلئے بیانڈیج بالکل دستیاب نہیں ہے۔ اسپتالوں کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے ہر سال محکمہ کی طرف سے ٹنڈر کیا جاتاہے ، رواں سال بھی نومبر کے دوران ٹنڈر نوٹی فکیشن جاری کیاگیا۔ سرکاری اسپتالوں کو بیانڈیج اور کپاس کی فراہمی کیلئے 21کروڑ روپیوں کا ٹنڈر طے ہوا۔ ٹنڈر کیلئے حکومت نے یہ شرط رکھی تھی کہ جس کے حق میں بھی بولی جائے گی اسے مجموعی ٹنڈر کی دس فیصد رقم بطور ضمانت جمع کرانی ہوگی۔اس کے تین دن بعد ٹنڈر حاصل کرنے والے کو ورک آرڈر دیا جائے گا اور اس کے 21دن کے بعد اشیاء کی فراہمی شروع ہوجائے گی، لیکن ٹنڈر حاصل کرنے والے کنٹراکٹروں کے مطابق افسران نے اب تک انہیں بیانڈیج اور کپاس کی فراہمی کیلئے ورک آرڈر جاری نہیں کیا، اس کی وجہ سے بنگلور کے سی جنرل ، وکٹوریہ نیز ریاست کے سبھی ضلع اور تعلقہ اسپتالوں اور 2000 سے زائد پرائمری ہیلتھ سنٹروںمیں پچھلے چھ ماہ سے بیانڈیج اور کپاس کی شدید قلت ہے۔ یہاں مریضوں اور زخمیوں سے کپاس باہر سے منگوایا جاتاہے۔ کنٹراکٹروں کا کہنا ہے کہ پیشگی طور پر ڈپازٹ جمع کرنے کے باوجود بھی انہیں فراہمی کیلئے آرڈر نہیں دیا گیا۔ محکمۂ صحت کے بعض دیانتدار افسران کا کہناہے کہ ریاست میں سرگرم ڈرگ مافیا جو دواؤں کی تجارت پر مکمل طور پر قابض ہے ، اسی کی ایما پر اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں بیانڈیج اور کپاس کی فرضی قلت پیدا کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بحیثیت وزیر صحت یوٹی قادر نے جب اس مافیا سے ٹکرانے کی کوشش کی تھی تو ان کا قلمدان تبدیل ہوگیا اور انہیں محکمۂ صحت سے ہٹاکر شہری رسد کا وزیر بنادیا گیاتھا۔ غالباً اسی خوف سے رمیش کمار بھی اس مافیا سے کھل کر مقابلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اس مافیا میں شامل عناصر صوبائی یا قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی روابط رکھتے ہیں اور افسران کو وہ اپنی پسند کے مطابق عہدوں پر متعین کرواتے رہتے ہیں۔ اسی لئے اس مافیا سے ٹکرانے کی جرأت بعض اعلیٰ افسران بھی کر نہیں پارہے ہیں۔ اسپتالوں کو دواؤں کی سربراہی میں مصروف بعض دلالوں پر مشتمل یہ مافیا دواؤں کی فراہمی اور اسپتالوں کیلئے اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے معاملہ میں عرصۂ دراز سے بھاری ہیرا پھیریوں کامرتکب رہاہے، لیکن اس سے نمٹنے کیلئے جس نے بھی قدم اٹھانے کی پہل کی اس کا تبادلہ ہوا ، یا قلمدان بدل گیا یا پھر زیادہ جرأت دکھانے کی کوشش کی تو اسے گھر بٹھادیا گیا۔

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف
کھمم میں احتجاجی مظاہرہ
کھمم۔/13ستمبر، ( ای میل ) روہنگیا مسلمانوں پر جاری ظلم و تشدد اور قتل عام کے خلاف کھمم ضلع کے طول و عرض میں روزانہ مختلف سیاسی جماعتوں اور ملی تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاج منظم کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں تنظیم آواز کھمم کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے خلاف محمد غوث ضلع سکریٹری کی قیادت میں احتجاج منظم کیا گیا۔ محمد غوث نے اپنے خطاب میں کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں اس کے باوجود عالمی اداروں کی خاموشی معنی خیز ہے۔ اس موقع پر آنگ سان سوچی کا پتلہ بھی نذر آتش کیا گیا۔ شیخ حسین ٹو ٹاؤن سکریٹری آواز، شیخ شفیع ٹو ٹاون صدر کھمم آواز، شیخ ستار، شیخ حاجی میاں، شیخ قاسم کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

 

TOPPOPULARRECENT