Sunday , December 17 2017
Home / دنیا / بنگلہ دیش میں آج بھی پسماندہ افراد آلودہ پانی پینے پر مجبور

بنگلہ دیش میں آج بھی پسماندہ افراد آلودہ پانی پینے پر مجبور

ڈھاکہ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش میں آج بھی 20 ملین غریب عوام آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ واضح رہے کہ آج سے 20 سال قبل بنگلہ دیش کے پسماندہ علاقوں میں سربراہ کئے جانے والے پانی میں زہریلے اثرات پائے گئے تھے تاہم اس واقعہ کو گذرا ہوا کل سمجھ کر فراموش کردیا گیا ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ غریب عوام آج بھی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں ۔ انسانی حقوق واچ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ بنگلہ دیش نے آلودہ پانی کے مسئلہ کی یکسوئی میں ہنوز کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جس سے وہاں سالانہ 43,000 افراد فوت ہوجاتے ہیں۔ 1970ء کے دہے میں بنگلہ دیش کی آزادی کے فوری بعد حکومت نے پسماندہ طبقات کے لئے متعدد ٹیوب ویلز سے گاؤں والوں کے لئے صاف پانی سربراہ کرنے کی کوشش کی تھی اور ٹیوب ویلز کو بہت زیادہ گہرائی تک لے گئے تھے۔ حکومت نے یہ نہیں سوچا کہ زیادہ گہرائی میں پانی کے ساتھ معدنیات کی آمیزش ہوتے ہی وہ آلودہ (زہر آلود) ہوچکا ہے۔ ایچ آر ڈبلیو کے محقق رچرڈ پیئرس ہاؤز نے بتایا کہ حکومت نے پینے کے پانی سے آلودگی دُور کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

TOPPOPULARRECENT