Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمن کو سزائے موت

بنگلہ دیش میں امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمن کو سزائے موت

ڈھاکہ ، 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ حکومت نے 1971 ء کی جنگ آزادی میں جنگی جرائم کے مبینہ مرتکبین کے خلاف مسلسل کارروائیاں کررہی ہے اب تک جماعت اسلامی کے کئی قائدین کو سزائے عمرقید اور سزائے موت سنائی جاچکی ہے ۔ اب بنگلہ دیش کی ایک خصوصی ٹریبونل نے جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن کو 1971 ء میں پاکستان کے خلاف جنگ آزا

ڈھاکہ ، 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ حکومت نے 1971 ء کی جنگ آزادی میں جنگی جرائم کے مبینہ مرتکبین کے خلاف مسلسل کارروائیاں کررہی ہے اب تک جماعت اسلامی کے کئی قائدین کو سزائے عمرقید اور سزائے موت سنائی جاچکی ہے ۔ اب بنگلہ دیش کی ایک خصوصی ٹریبونل نے جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن کو 1971 ء میں پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کی پاداش میں سزائے موت سنائی ۔ عدالت نے ہزاروں بنگلہ دیشی شہریوں کی ہلاکت میں مطیع الرحمن کے رول کیلئے یہ سزاء سنائی ہے ۔ تین رکنی جج پیانل کے سربراہ ایم عنایت الرحمن نے چہارشنبہ کو مطیع الرحمن نظامی کے خلاف فیصلہ سنایا ۔ اس وقت کمرہ عدالت کھچاکھچ بھرا ہوا تھا ۔ اعلان کے وقت 71 سالہ مطیع الرحمن نظامی کٹہرے میں موجود تھے ۔ ان پر 16 الزامات عائد کئے گئے جن میں قتل عام ، قتل ، اذیت رسانی ، عصمت ریزی اور املاک کی تباہی وغیرہ شامل ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے دوران ڈھاکہ میں عدالت کے اطراف و اکناف سخت سکیورٹی بندوبست کئے گئے تھے ۔ اس فیصلہ کے بعد مطیع الرحمن کے حامیوں اور پولیس میں جھڑپ ہوگئی۔ جماعت اسلامی نے بھی فیصلہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کل سے ملک گیر سطح پر سہ روزہ عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ نے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشدد برپا کیا جاسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ ماہ جون میں سنایا جانے والا تھا لیکن مطیع الرحمن کی صحت اچانک بگڑجانے کے باعث سزاء کے اعلان کو ملتوی کرنا پڑا تھا

TOPPOPULARRECENT