Tuesday , May 22 2018
Home / دنیا / بنگلہ دیش میں بھی روہنگیا پناہ گزینوں کو مشکل ترین حالات کا سامنا

بنگلہ دیش میں بھی روہنگیا پناہ گزینوں کو مشکل ترین حالات کا سامنا

واشنگٹن۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کا حالیہ دنوں میں دورہ کرنے والے ایک اعلیٰ سطحی امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت روہنگیاؤں کی لاکھوں کی تعداد بنگلہ دیش کے لئے ایک ناکردہ گناہ کی سزا بنی ہوئی ہے، حالانکہ بنگلہ دیش جیسے غریب ملک نے بھی روہنگیاؤں کی بازآبادکاری کے لئے یوں تو فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی صورتحال کو اطمینان بخش نہیں کہا جاسکتا اور اس جانب ہنوز بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ آبادی، پناہ گزین اور مائیگریشن کے عبوری اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ سائمن ہینشاء نے بتایا کہ انہوں نے جو کچھ بھی پناہ گزین کیمپوں میں دیکھا وہ روح فرما تھا۔ روہنگیاؤں کی کثیر تعداد یہاں موجود ہے جہاں حفظان صحت کا کوئی خیال رکھا نہیں جارہا ہے اور رکھا بھی کیسے جائے۔ اتنی بڑی تعداد (تقریباً 6 لاکھ) کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ دوسری طرف جہاں چلے جائے، وہاں بدبو کا بول بالا ہے۔ کئی روہنگیا ہفتوں سے غسل نہیں کئے ہیں اور ان کے جسم سے اُٹھنے والی بدبو ناقابل برداشت ہے۔ کیا خواتین، کیا مرد اور کیا بچے، سب کا یہی حال ہے۔ اب آتے ہیں رفع حاجت کی جانب سے معقول انتظامات نہ ہونے کی وجہ ہے۔ ان کی کثیر تعداد کھلے عام میں رفع حاجت کررہی ہے اور ہر طرف بدبو کا بول بالا ہے جبکہ فضلہ کھانے والے کئی کیڑے مکوڑے بھی یہاں پیدا ہوگئے ہیں۔ مسٹر ہینشار نے بتایا کہ روہنگیاؤں سے ملاقات کے دوران کئی لوگوں نے میانمار میں ان پر توڑے جارہے ظلم کے پہاڑ کے بارے میں بتایا کہ کس طرح ان کے چھوٹے چھوٹے مکانات (جھونپڑیاں کہنا زیادہ بہتر ہے) کو آگ لگا دی گئی۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے رشتہ داروں کی کی عصمت ریزی اور قتل کیا گیا۔ یہ دیکھ کر جب روہنگیاؤں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش تو بھاگنے والوں پر بھی فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام مصائب کو جھیلنے کے باوجود روہنگیا میانمار واپس جانے تیار ہیں بشرطیکہ ان کی سکیورٹی اور حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ ہینشار نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے روہنگیاؤں کی جو درگت دیکھی ہے، اس سے یہ واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ انہیں (روہنگیا) ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT