Monday , June 25 2018
Home / دنیا / بنگلہ دیش میں بیوہ روہنگیا خواتین کیلئے علحدہ کیمپس

بنگلہ دیش میں بیوہ روہنگیا خواتین کیلئے علحدہ کیمپس

ہم یہاں خود کو محفوظ اور پرسکون تصور کرتے ہیں ، تاثرات
نوجوان خواتین اور لڑکیوں کے جنسی استحصال کے
اندیشے اب بھی موجود
راکھین اسٹیٹ واپس جانے کا سوال پوچھے جانے
پر خواتین غمزدہ

بالوکھالی (بنگلہ دیش) ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) روہنگیا پناہ گزینوں کو اس وقت جس کڑی آزمائش کا سامنا ہے اس کا شاید کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ 6,90,000 پناہ گزینوں کو ایک کھلے مقام پر آباد کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ شاید اسے 1947ء میں تقسیم ہند کے واقعہ کے بعد سب سے بڑی ہجرت کہا جاسکتا ہے لیکن میانمار سے تشدد اور قتل و غارت گری سے بچ کر بنگلہ دیش آنے والی خواتین اور بچے شاید اب سکون کی سانس لے رہے ہیں کیونکہ پناہ گزین کیمپوں میں بیوہ خواتین کے لئے علحدہ جگہ مختص کی گئی ہے جہاں بمبوؤں اور تارپولین کی شیٹس میں وہ پرسکون زندگی گزار سکتی ہیں جہاں کسی بھی مرد کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ تمام ایسے ماحول سے فرار ہوکر یہاں آتے ہیں جسے اقوام متحدہ نے نسل کشی سے تعبیر کیا تھا۔ ان میں سے کئی خواتین ایسی ہیں جن کے شوہروں کو میانمار کی فوج نے ہلاک کردیا اور وہ اپنے بچوں کو لیکر بنگلہ دیش آنے والے قافلہ میں شامل ہوگئیں جہاں انہیں غذا، شیلٹر اور اپنی بقاء کیلئے طویل لڑائی لڑنی ہے۔ ان ہی خواتین میں ایک صالحہ بیگم بھی ہے جس کی شادی کو صرف تین ماہ گزرے تھے کہ اس کے شوہر کو ہلاک کردیا گیا۔ میانمار کی فوج نے ان کے گاؤں پر حملہ کرکے مکانات کو اجاڑ دیا اور کئی لوگوں کو ہلاک کردیا تھا۔ ایسی بیوہ خواتین کی تعداد 60 بتائی گئی ہے جو بمبوؤں اور تارپولین شیٹس کے اندر بھی خود کو پرسکون اور محفوظ تصور کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ جیسے مہینوں کے انتظار کے بعد انہیں باعزت زندگی گزارنے کا موقع مل رہا ہے۔ صالحہ بیگم کی عمر صرف 18 سال ہے اور وہ ’’صرف خواتین کیلئے‘‘ کیمپ میں پنجوقتہ نماز حمام، بیت الخلاء اور دیگر یتیم بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ صالحہ نے مزید بتایا کہ جن خواتین کے شوہر موجود ہیں وہ اپنا الگ کیمپ (خیمہ) بناسکتی ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ سب اللہ کا کرم ہے کہ ہمیں یہ سب ملا۔ بمبوؤں اور تارپولین سے تیار کئے گئے خیموں کی قطار میں بیواؤں کے خیمے بالکل علحدہ ہیں، جہاں انہیں سونے کیلئے چٹائی اور پکانے کیلئے بعض ضروری برتن بھی مہیا کئے گئے ہیں۔ بیواؤں کے خیموں میں رہنے والی خواتین ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کے خیموں کے آس پاس کوئی بھی مرد یہاں تک کہ کوئی نوجوان لڑکا بھی نظر نہ آئے کیونکہ وہ خود کو ایک ایسے ’’محفوظ زون‘‘ میں تصور کرتی ہیں جہاں کوئی دراندازی نہیں کرسکتا۔ روہنگیا خواتین عام مقامات پر ہمیشہ برقعہ اور نقاب میں نظر آتی ہیں تاہم ’’بیواؤں‘‘ کے خیمہ میں انہیں کم سے کم بغیر نقاب کے آرام سے رہنے کا موقع مل رہا ہے۔ دوسری طرف راحت کاری انجام دینے والوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو انسانوں کی تجارت کرنے والوں کی جانب سے زبردست خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جو ناقص انتظام والے روہنگیا کیمپوں سے انہیں لالچ دیکر اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں اور یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب بعض ایسی خواتین جو مردوں کے ساتھ بیت الخلاء شیئر نہیں کرسکتیں اور رفع حاجت کیلئے آس پاس کے جنگلاتی علاقوں میں اس وقت جاتی ہیں جب سورج غروب ہونے لگتا ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فائرمائیگریشن نے بعض ایسے واقعات کا تذکرہ کیا ہے جہاں روہنگیا خواتین کو بہلا پھسلا کر یا ورغلا کر (شادی یا ملازمت کا وعدہ کرکے) لے جانے والے انہیں جسم فروشی کے کاروبار میں ڈھکیل دیتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ روہنگیا مسلمانوں کی جو کثیر تعداد میانمار سے بنگلہ دیش پہنچی ہے اس کی نصف تعداد خواتین پر مشتمل ہے حالانکہ یہ لوگ میانمار سے بنگلہ دیش زندہ ضرور پہنچے ہیں لیکن ان کے جسم اور روح زخمی ہیں۔ کئی لوگوں نے عصمت ریزی کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ کئی خواتین نے عصمت ریزی کا زخم خود بھی جھیلا اور کئی لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے عزیزوں کو قتل ہوتے دیکھا۔ یہ تمام وہ زخم ہیں جو مندمل نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح ایک دیگر خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہر اور دو بیٹوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا اور میانمار کی فوج نے ان کے گاؤں کو تباہ و برباد کردیا۔ تاہم اب وہ یہاں ’’بیواؤں‘‘ کے کیمپ میں خود کو محفوظ تصور کررہی ہے۔ وہ اس کیمپ میں موجود تمام بیواؤں کو اپنی بہن تصور کرتی ہے۔ اس نے کہاکہ اب ایسا لگتا ہیکہ وہ پرسکون اور باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم جب ان سے میانمار واپس جانے کی بات کی جاتی ہے تو ان کا موڈ بدل جاتا ہے اور وہ دکھی ہوجاتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان 7,50,000 روہنگیا پناہ گزینوں کو اندرون دو سال رضاکارانہ طور پر مرحلہ وار میانمار واپس بھیجنے کا معاہدہ ہوا تھا تاہم چند نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر فی الحال اس عمل کو روک دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT