Wednesday , January 24 2018
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی رہنما قمر الزماں کو پھانسی دیدی گئی صبح فیصلے کو موخر کرنے کے بعد رات 10.01 بجے عمل آوری ۔ پھانسی کی

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی رہنما قمر الزماں کو پھانسی دیدی گئی صبح فیصلے کو موخر کرنے کے بعد رات 10.01 بجے عمل آوری ۔ پھانسی کی

ڈھاکہ 11 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش میں آج جماعت اسلامی کے بڑے رہنما محمد قمر الزماں کو جنگی جرائم کے ارتکاب اور 1971 کی جنگ آزادی میں اجتماعی ہلاکتوں کا الزام عائد کرتے ہوئے پھانسی دیدی گئی ۔ واضح رہے کہ محمد قمر الزماں کو بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی ۔ جماعت اسل

ڈھاکہ 11 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش میں آج جماعت اسلامی کے بڑے رہنما محمد قمر الزماں کو جنگی جرائم کے ارتکاب اور 1971 کی جنگ آزادی میں اجتماعی ہلاکتوں کا الزام عائد کرتے ہوئے پھانسی دیدی گئی ۔ واضح رہے کہ محمد قمر الزماں کو بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی ۔ جماعت اسلامی لیڈر نے اس فیصلے کو بنگلہ دیشی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جہاں ان کی درخواست کو مسترد کردیا گیا تھا ۔

اس کے بعد یہ شبہات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ انہیں کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے جبکہ انہیں پھانسی پر لٹکانے سے گریز کی اپیلیں بھی ہو رہی تھیں۔ جیل عہدیداروں کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ انہیں مقامی وقت کے مطابق 10.01 بجے رات پھانسی پر لٹکایا گیا ۔ قمر الزماں جماعت اسلامی کے تیسرے انتہائی با اثر لیڈر تھے جنہیں پھانسی دی گئی ۔ انہیں رات کے وقت پھانسی دی گئی جبکہ کل ان کو پھانسی پر لٹکانے کے فیصلے پر لمحہ آخر میں موخر کردیا گیا تھا ۔ 63 سالہ قمر الزماں جماعت کے دوسرے لیڈر ہیں جنہیں 1971 کے جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا دی گئی ۔ اس سے قبل جماعت کے ایک اور لیڈر قادر ملا کو بھی پھانسی دی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کے مسترد کردئے جانے کے بعد قمرالزماں نے صدر مملکت سے رحم کی درخواست نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ 6 اپریل کو سپریم کورٹ بنگلہ دیش میں ان کی اپیل مسترد ہوگئی تھی ۔ چیف جسٹس سریندر کمار سنہا کی قیادت والی بنچ نے ان کی درخواست مسترد کی تھی ۔ بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمس ٹریبونل نے مئی 2013 میں قمر الزماں کو 1971 کی جنگ آزادی میں مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنائی تھی ۔ ان پر اجتماعی ہلاکتوں ‘ قتل ‘ اغوا ‘ اذیت رسانی ‘

اور اذیت رسانی کی حوصلہ افزائی جیسے الزامات عائد کئے گئے تھے اور عدالت نے انہیں ان جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا ۔ انہیں شمالی شیر پور میں اپنے آبائی ضلع کے ایک گاوں میں 164 افراد کو ہلاک کرنے کا بھی الزام تھا ۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ سال 3 نومبر کو ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا تاہم عدالت نے 18 فبروری کو ان کی سزا کے حکمنامہ کا مکمل متن جاری کیا تھا اور اسے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کو روانہ کیا تھا جس نے فوری سزائے موت کے احکام جاری کردئے تھے ۔سپریم کورٹ نے ان کے جرائم کو مبینہ طور پر نازیوں سے زیادہ بدتر قرار دیا ہے اور ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا ۔ قبل ازیں کل ہی بنگلہ دیشی حکام نے قمر الزماں کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔ جیل کے عہدیداروں نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ پھانسی دینے کیلئے پوری طرح تیار ہے کیونکہ سیول سرجن اور دیگر عہدیدار بشمول مجسٹریٹ یہاں پہونچ چکے ہیں تاکہ قانون کے تحت اس عمل کا مشاہدہ کیا جاسکے ۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور ٹی وی کیمرے بھی جیل کی گیٹ کے باہر جمع تھے لیکن حکام نے لمحہ آخر میں پھانسی دینے کا عمل ملتوی کردیا گیا تھا ۔ آج امریکہ نے بھی بنگلہ دیش سے اپیل کی تھی کہ وہ قمر الزماں کو پھانسی کی سزا پر عمل آوری نہ کرے اور جنگی جرائم کے ٹریبونل اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید بہتری کی گنجائش ظاہر کی تھی ۔ بنگلہ دیشی حکام نے تاہم ان اپیلوں کو بھی نظر انداز کردیا اور آج رات اچانک ہی انہیں پھانسی دیدی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT