Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لیڈر کو سزائے موت

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لیڈر کو سزائے موت

جنگی آزادی میں پاکستان کی مدد پر دیگر سات مجرمین کو تاحیات قید کی سزاء ، جنگی جرائم ٹریبونل کا فیصلہ

ڈھاکہ ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش میں بنیاد پرستی تنظیم جماعت اسلامی کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ کو ایک خصوصی ٹریبونل نے پاکستان کے خلاف 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر آج سزائے موت کا اعلان کیا اور دیگر سات مجرمین کو تاحیات قید کی سزاء سنائی ہے۔ ضلع جیسور کے سابق رکن پارلیمنٹ سخاوت حسین کو اغواء، حبس بیجا، ایذاء رسانی، عصمت ریزی اور قتل کے الزامات ثابت ہونے پر بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل نے سزائے موت دی ہے۔

جسٹس انوارالحق کی قیادت میں بنگلہ دیش کے بین الاقوامی (جنگی) جرائم ٹریبونل کے تین ججوں نے کہا کہ مجرم کو پھانسی پر لٹکاتے ہوئے یا پھر فائرنگ اسکواڈ کے استعمال کے ذریعہ فیصلہ پر تعمیل کی جاسکتی ہے۔ 1971ء کی جنگ آزادی کے وقت سخاوت حسین، جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترا سنگھ کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے اور ان پر الزام تھا کہ وہ جنگ کے دوران پاکستانی سپاہیوں کی مدد کرنے والے ایک گروپ کے مقامی کمانڈر تھے۔ سخاوت حسین بعدازاں جماعت اسلامی چھوڑ کر سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی زیرقیادت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) میں شامل ہوگئے تھے۔ تاہم عدالت میں مقدمہ کی پیشکشی کے وقت وہ سابق صدر حسین محمد ارشاد کی زیرقیادت جاتیہ پارٹی سے وابستہ تھے۔ انہیں 2014ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ قتل، عصمت ریزی، اغواء، حبس بیجا اور ایذاء رسانی جیسے جرائم کے مرتکب دیگر سات مجرمین اس فیصلہ کے مطابق اپنی باقی عمر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی گذاریں گے۔ ان مجرمین میں بلال حسین، ابراہیم حسین، شیخ مجیب الرحمن، عبدالعزیز سردار، قاضی عبیدالالسلام عرف وحیدالرسلام، عزیز سردار اور عبدالخالق مارول شامل ہیں۔ بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے تاحال چار مجرمین کو پھانسی پر لٹکایا جاچکا ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ نے 2008ء میں عوام سے انتخابی وعدہ کیا تھا کہ جنگی جرائم کے تمام مجرم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ اس وعدہ کی تکمیل کیلئے جنگی جرائم کے ٹریبونل میں ملزمین کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT