بنگلہ دیش میں جنگی جرائم جنگی جرائم پر سابق وزیر کو سزائے موت

ڈھاکہ ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے ایک سابق بنگلہ دیشی وزیر کے خلاف انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہونے کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی ہے۔ ان پر الزام ہیکہ 1971ء میں ملک کی جنگ آزادی کے زمانے میں انہوں نے پاکستانی افواج کی تائید کی تھی۔ انٹرنیشنل کرائمس ٹریبونل ۔ 2 کے سہ رکنی پینل نے 73 سالہ سید محمد قیصر کو

ڈھاکہ ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے ایک سابق بنگلہ دیشی وزیر کے خلاف انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہونے کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی ہے۔ ان پر الزام ہیکہ 1971ء میں ملک کی جنگ آزادی کے زمانے میں انہوں نے پاکستانی افواج کی تائید کی تھی۔ انٹرنیشنل کرائمس ٹریبونل ۔ 2 کے سہ رکنی پینل نے 73 سالہ سید محمد قیصر کو سزائے موت سنائی۔ وہ آج عدالت میں حاضر ہوکر کٹہرے میں خاموش کھڑے ہوئے تھے۔ انہیں ڈھاکہ سنٹرل جیل سے انتہائی سخت سیکوریٹی میں عدالت لایا گیا تھا۔ پینل کے صدرنشین جسٹس عبیدالحسن نے بتایا کہ محمد قیصر کو 16 معاملات کے منجملہ 14 معاملات میں قصوروار پایا گیا ہے لہٰذا انہیں گردن سے اس وقت تک پھانسی پر لٹکایا جائے جب تک ان کی موت واقع نہ ہوجائے۔ یاد رہے کہ مسٹر قیصر سابق فوجی حکمراں ایچ ایم ارشاد کی کابینہ میں وزیر تھے۔ ایچ ایم ارشاد جاتیہ پارٹی کے سربراہ تھے اور وہ حکمراں جماعت عوامی لیگ کی حلیف جماعت تھی۔ قیصر نے شمال مشرقی حبیب گنج جو ان کا آبائی مقام تھا اور پڑوس میں واقع برہمن باڑیا میں عوام پر ظلم و ستم ڈھانے کیلئے ایک خصوصی ملیشیا فورس تشکیل دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT