Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کے شوہر کی تلاش

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کے شوہر کی تلاش

TEKNAF, OCT 7 :- Rohingya refugees who arrived in Shah Porir Dwip from Myanmar last night, get into a boat to go to the mainland, in Teknaf, Bangladesh October 7, 2017. REUTERS-24R

پناہ گزینوں سے مقامیوں کی شادی پر حکومت کا امتناع ‘ ملزم لڑکے کے والد کی جانب سے دفاع
ڈھاکہ۔8اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش کی پولیس آج ایک ایسے شخص کو تلاش کررہی ہے جس نے امتناع کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک روہنگیا پناہ گزین سے شادی کی ہے ۔ لاکھوں روہنگیا پناہ گزین میانمار میں تشدد سے بچنے کیلئے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہوگئے ہیں ۔ تقریباً 50ہزار روہنگیا پناہ گزین بنگلہ دیش میں جمع ہوگئے ہیں ۔ جب کہ 25اگست کو میانمار کی ریاست راکھین میں فوجی کارروائی کا آغاز ہوا تھا ۔اقوام متحدہ اس کارروائی کو ’’ نسل کشی ‘‘ قرار دے چکا ہے ۔ شعیب حسین جیبی عمر 25سال اور اس کی 18سالہ روہنگیا دلہن رفیزہ گذشتہ ماہ شادی کے بعد سے فرار ہیں ۔ جیبی کی آبائی قصبہ سنگیر کی پولیس نے اس کی اطلاع دی ہے ۔ سنگیر پولیس کے سربراہ خان ڈاکر امام حسین نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ اس شخص نے ایک روہنگیا خاتون سے شادی کرلی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے مکان چاری گرام دیہات میں اس کی تلاش کیلئے جاچکے ہیں لیکن وہ وہاں نہیں ملا ۔ اس کے والدین اور دیگر افراد نے اطلاع دی کہ اس کا پتہ نامعلوم ہے ۔ تحقیقات کرنے والے افراد ہنوز اس کی تلاش میں ہیں ۔ 2014ء میں حکومت بنگلہ دیش نے بنگلہ دیش کے شہریوں اور میانمار کے روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کے درمیان شادی پر امتناع عائد کردیا تھا کیونکہ اس طبقہ کے افراد نے شکایت کی تھی کہ مقامی شہری مسلم خاتون پناہ گزینوں کے ساتھ شادی کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ انہیں بنگلہ دیش کی شہریت دلواسکیں ۔ جیبی کے والد رابل حسین نے کہا کہ شہریت اس بار ان کا مقصد نہیں ہے ۔ اُس نے اپنے بیٹے کی رفیزہ سے شادی کی مدافعت کی ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں عیسائیوں اور دیگر مذاہب کی خواتین سے شادی کی اجازت ہے اس لئے اُس کی یہ روہنگیا خاتون سے شادی میں کوئی بری بات نہیں ہے ۔ کیونکہ اس نے ایک مسلم خاتون سے شادی کی ہے جس نے بنگلہ دیش میں پناہ لی تھی ۔ روزنامہ ’’ڈھاکہ ٹریبون‘‘ نے ملزم کے والد کا بیان شائع کیا ہے جو ایک دینی مدرسہ میں استاد ہے ۔سنگیر کاکس بازار سے 265 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ لڑکے کے والد نے کہا کہ اس کے بیٹے کو رفیزہ سے محبت ہوگئی تھی اور اس شادی میں کوئی برائی نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی مسلمان ہیں ۔ رفیزہ اور اس کا خاندان میانمار میں مسلم تشدد سے بچنے کیلئے بنگلہ دیش منتقل ہوا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT