Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں میانمار کے پناہ گزینوں سے پوپ کی ملاقات۔ ایشیاء دورے کے موقع پر پہلے بار برسرعام ’ روہنگیا‘ کے لفظ کا کیااستعمال

بنگلہ دیش میں میانمار کے پناہ گزینوں سے پوپ کی ملاقات۔ ایشیاء دورے کے موقع پر پہلے بار برسرعام ’ روہنگیا‘ کے لفظ کا کیااستعمال

Pop Francis Meeting with Rohingya Refugees in Dhaka

ڈھاکہ۔جمعہ کے روز پوپ فرانسیس نے اپنے ایشیاء کے دورے میانمار میں بدترین تشدد کا شکار بنائے جانے کے بعد نقل مقام کرتے ہوئے بنگلہ دیش پہنچے پناہ گزینوں کے لئے ’’ روہنگیا‘‘ کے لفظ کا استعمال کیا۔قبل ازیں فرانسیس نے ڈھاکہ کے مرکزی سوہر وردی اودیان پارک کے وسیع وعریض میدان کی منعقدہ تقریب کی قیادت کی 16پادریوں کا تقرر عمل میں لایا۔

میانمار کی سرحد سے لگے بنگلہ دیش کے کوکس بازار کیمپس میں مقیم 16روہنگی پناہ گزینوں سے بنگلہ دیش کی دارلحکومت ڈھاکہ میں ملاقات کے بعد انہوں نے کہاکہ ’’ آج کے دور میں گاڈ کی موجودگی کا دوسرا نام روہنگیا ہے‘‘۔

پوپ نے مزیدکہاکہ ’’ ان تمام لوگوں کو جنھوں نے تمہیں تکلیف دی ہے ‘ تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے ‘ میں کہتاہوں ان کو معاف کردو۔ میری گذارش ہے اپنے بڑے دل سے انہیں معاف کردو‘ میں بس یہی کہنا چاہتاہوں‘‘۔ اجلاس کے بعد پوپ نے روہنگی پناہ گزینوں کے گروپ جس میں بارہ مرد‘چار عورتیں بشمول دو جوان لڑکیاں شامل تھی سے فردا فردا ملاقات کی ‘ انہوں نے اپنی تمام داستان بھی سنائی

۔تقریبا6,20,000روہنگیائی مسلم میانمار کی راکھین ریاست سے بنگلہ دیش اگست میں ان کے گھروں پر ملٹر ی کے حملوں کے بعداپنی جان بچانے کی غرض سے نقل مقام کے ذریعہ یہاں پر پہنچے ہیں۔ملٹر ی کے یہ حملے اگست 25کو فوجی ٹھکانوں پر ہوئے حملوں کے جواب میں تھے۔بنگلہ دیش پہنچے والے پناہ گزینوں نے روہنگیوں کے بے شمار مکانات کو نذر آتش کرنے ‘ قتل اور عصمت ریزی کرنے کے واقعا ت کا خلاصہ بھی کیاہے۔

جمعرات کے روز پوپ نے پناہ گزینوں کے بحران سے جونج رہی بنگلہ دیشی حکومت سے مدد کے لئے دیگر ممالک پر زوردیاتھا۔پوپ نے اپنے دورے کی شروعات پر میانمار پہنچے کے بعد پناہ گزینوں کے لئے روہنگی لفظ کااستعمال نہیں کیاتھا ‘ انہیں یونگون کی حکومت اور ملٹری سے مقابلہ کرنے والا قراردیاتھا۔پچھلے ہفتہ پناہ گزینوں کی واپسی کے متعلق میانمار او ربنگلہ دیش کے درمیان میں ایک معاہدہ طئے پایا ہے۔

بنگلہ دیش کو روہنگی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے بعد ان کے تحفظ کی فکر ہے اور یہ کہ جن میں زیادہ تر اب بے گھر مجبور او رلاچار ہوگئے ہیں کیاانہیں اپنے قدیم گھر میں واپس لوٹاجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT