Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / بنگلہ دیش میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی پر امتناع

بنگلہ دیش میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی پر امتناع

ملک میں ائمہ کے خطبات ِ جمعہ پر بھی نظر ، اسلام کے پیام امن کو عام کرنے کی اپیل
ڈھاکہ۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت ِ بنگلہ دیش نے ہندوستانی نژاد مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی چیانل پر امتناع عائد کردیا ہے۔ ملک کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حالیہ بدترین دہشت گرد حملے کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی کہ دہشت گردوں نے مبینہ طور پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اشتعال انگیز تقاریر سے متاثر ہوکر یہ کارروائی انجام دی۔ کابینی کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر کا آج خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبئی سے نشر کئے جانے والے ’’پیس ٹی وی بنگلہ ‘‘ پر امتناع کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر مصنوعات عامر حسین عمو نے اس اجلاس کی صدارت کی جس میں سینئر وزراء اور سرکردہ سکیورٹی عہدیدار شریک تھے۔ عامر حسین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں جمعہ کے خطبوں پر بھی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اشتعال انگیز خطابات تو نہیں کئے جارہے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کے چند دہشت گردوں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر ہوکر یکم جولائی کو ڈھاکہ میں دہشت گردکارروائی انجام دی۔

انہوں نے یہاں ایک ریسٹورنٹ کو نشانہ بناتے ہوئے 22 افراد کو ہلاک کردیا تھا جن میں اکثریت بیرونی شہریوں کی تھی۔ حکومت نے ملک بھر میں تمام ائمہ سے اپیل کی ہے کہ وہ حقیقی اسلامی نظریات پر مبنی خطبات دیں جن میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مذمت کی جائے۔ اجلاس میں جہاں اعلیٰ عہدیدار شریک تھے، ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پر زائد سکیورٹی فورس تعینات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ اسد الزماں خاں نے کل کہا تھا کہ بنگلہ دیش کی انٹلیجنس ایجنسیاں ، ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں تحقیقات کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کی نظر میں ہے۔ ان کی سرگرمیوں اور لیکچرس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بنگلہ دیش میں مالیاتی لین دین کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔

 

ذاکر نائیک کیخلاف فتوے پر میڈیا کا تبصرہ قابل اعتراض : دارالعلوم دیوبند
لکھنؤ۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) دارالعلوم دیوبند نے میڈیا کے اس تبصرے پر اعتراض کیا ہے کہ ذاکر نائیک کے خلاف اس نے جو فتویٰ جاری کیا ہے، اسے بنگلہ دیش دہشت گردی سے مربوط کیا جارہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے ترجمان اشرف عثمانی نے کہا کہ ذاکر نائیک کے خلاف فتویٰ مسلمانوں کے تعلق سے مسائل پر دیا گیا ہے، لیکن بعض اخبارات اور ٹی وی چیانلوں نے اس فتویٰ کو بنگلہ دیش میں دہشت گرد حملے میں ملوث دہشت گردوں کو اکسانے والی تقاریر کے باعث فتویٰ جاری کرنے کا تبصرہ کیا ہے، جوغلط ہے۔ ذاکر نائیک کے خلاف ماضی میں جو الزامات عائد کئے گئے تھے ، اس کی روشنی میں فتویٰ دیا گیا تھا۔

 

ذاکر نائیک 2013ء میں علیگڑھ
مسلم یونیورسٹی سے وابستہ تھے
علیگڑھ۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنی غیرمتنازعہ شخصیت کے باعث 2013ء میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامی کمیٹی کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ ان کا انتخاب مفکر اسلام کے زمرہ میں ہوا تھا۔ یونیورسٹی کے عہدیداروں نے آج یہ بات بتائی۔ ان کی تقاریر کے باعث ذاکر نائیک اِن دنوں تنازعات کا شکار ہیں۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے عہدیداروں نے مزید بتایا کہ ذاکر نائیک نے یونیورسٹی سے وابستہ ہونے کے بعد کسی بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ یونیورسٹی کی 180 سالہ انتظامی ادارہ میں کئی ممتاز مسلم شخصیتوں نے خدمات انجام دی ہیں۔عمومی طور پر انہیں غیرمتنازعہ شخصیت سمجھا جاتا ہے، تاہم دینی مدارس کے روایتی درس و تدریس پر وہ معترض تھے۔

TOPPOPULARRECENT