Thursday , January 24 2019

بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم کیلئے ہندوذمہ دار

آر ایس ایس کسی کی مخالف نہیں ، موہن بھاگوت کا کولکتہ میں ریالی سے خطاب
کولکتہ ۔ /14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے آج کہا کہ ان کی تنظیم ہندو طبقہ کو متحد اور طاقتور بنانے کیلئے کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے بھی خلاف نہیں ہیں ۔ بھاگوت نے بنگلہ دیش میں ہورہے مظالم کیلئے بھی ہندوؤں  کی کمزوری کو ہی موردِ الزام قرار دیا ۔ وہ آر ایس ایس کی ریالی سے خطاب کررہے تھے جسے سٹی پولیس نے پہلے اجازت دینے سے انکار کیا تھا ۔ کلکتہ ہائیکورٹ نے کل آر ایس ایس کو یہ پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی ۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ ہم نے یہ تنظیم کسی کی مخالفت کیلئے قائم نہیں کی بلکہ اس کا مقصد خود ہمیں مضبوط بنانا ہے ۔ ہندو سماج کی اس ملک میں ایک شاندار تاریخ رہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے جاننا چاہا کہ ایسی شاندار تاریخ کے باوجود آج ہندو سماج کی یہ حالت کیوں ہوگئی ۔ کیا آج ہم بالکل اسی طرح رہتے ہیں جیسا ماضی میں تھے ؟ کیا ہندو ملک بھر میں آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں ؟ کیا اس ملک میں ہندوؤں کے انسانی حقوق کی پاسداری کی جارہی ہے ؟  موہن بھاگوت نے کہا کہ اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو پھر بنگلہ دیش میں جب ہندوؤں پر مظالم کئے جاتے ہیں تو ہمیں تعجب نہیں کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک میں ہندوؤں کے حالات کیلئے ہندو ہی ذمہ دار ہیں ۔ ہندو اس صورتحال کا سامنا محض اس لئے کررہے ہیں کیونکہ وہ متحد اور مضبوط نہیں ہے ۔ گزشتہ سال اکٹوبر میں درگا پوجا فیسٹول کے دوران آر ایس ایس نے ریاستی گورنر کے این ترپاٹھی سے شکایت کی تھی کہ ریاست کے بعض حصوں میں ہندوؤں کو مذہبی رسوم ادا کرنے کی آزادی نہیں ہے ۔ موہن بھاگوت نے ریاستی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے جس نے ریالی کی مخالفت کی تھی کہا کہ ایسے مقامات پر جہاں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں وہاں کام کرنے میں خوب مزہ آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس بانی کیشو بلرام ہیڈگوار نے کئی رکاوٹوں کے باوجود ہندوؤں کے اتحاد کیلئے یہ تنظیم قائم کی تھی ۔ آج بھی ہمارے کام کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن ہم سرگرم ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT